سلطان محمد فاتح: بہترین منتظم، عادل، فوجی اور جنگی ماہر


استنبول تو مسجدوں کا گھر ہے۔ اس جیالے سلطان محمد فاتح کا مقبرہ، اس کی یادگار ”مسجد فاتح“ دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ یوں مسجدیں تو کم و بیش تھوڑے بہت فرق سے ایک جیسی ہی تھیں۔ مگر بات اس قلبی تعلق اور ناتے کی ہے جو آپ کو اس ہستی سے کہیں گوندھ دیتی ہے۔ سیما بھی ایسی ہی خواہش کی اسیر تھی۔

بس تو نکل پڑیں۔ آق سرائے سکوائر تک میٹرو کا سفر کیا۔ آق سرائے کا علاقہ اتنا خوبصورت تھا جتنا جھوٹ بولا جائے۔ مصروف ترین ہوٹلوں، موٹلوں، بسوں، گاڑیوں، میٹرو اور رنگا رنگ لوگوں، پارکوں اور عمارتوں سے بھرا پرا۔

اب جو چلنا شروع کیا تو بس چل سو چل والا معاملہ ہوا۔ جس نے جدھر چاہا ادھر دھکیل دیا۔ منسٹری آف ملٹری آفیئرز کی عمارت نظر آئی۔ جس چیز نے توجہ کو فوراً کھینچا وہ چمکتے سنہرے حروف کے ساتھ دائیں بائیں لکھی ہوئی قرآنی آیات تھیں۔ ”انا فتحنا لک فتحا مبینا“ ”و ینصرک نصراً اللہ عزیزاً“ اس کے مرکزی گیٹ پر استنبول یونیورسٹی لکھا دیکھا تو رک گئیں۔ لاطینی کے ساتھ ساتھ عربی میں بھی سال اور نام لکھے گئے تھے۔ اس یونیورسٹی کی بنیاد سلطان محمد فاتح نے شہر فتح کرنے کے ساتھ ہی رکھ دی تھی۔

شکر ہے یہ برصغیر کے غزنویوں سے مختلف نکلا جو ہندوستان کو فتح کرنے نہیں لوٹنے آتے تھے۔

گیٹ پر روک لیا گیا۔ تعارف کروایا۔ پاسپورٹ دکھائے۔ تب داخلہ ہوا۔ اندر داخل ہونے پر کیا خوبصورت نظارہ تھا۔ کشادہ راستے اور اطراف میں سبزے سے دمکتے باغات کا سلسلہ، چنار کے درخت، سدا بہار پستہ قامت دیوداروں کی قطاریں، پھولوں کے قطعے، فضا میں فطرت کا حسن اور رنگینی بکھری ہوئی تھی۔

متاثر کن عالیشان عمارتیں تھیں جن میں یقیناً مختلف ڈپارٹمنٹ اور فیکلٹیز ہوں گی۔ اس وقت شام تھی اور یونیورسٹی تو تقریباً آف ہی تھی۔ گیٹ کیپر بڑے خوش مزاج تھے۔ مگر انگریزی سے نابلد تھے۔ مسکراہٹیں ضرور بکھریں۔ کچھ ہماری کچھ ان کی۔ ہاں البتہ کتابوں نے ضرور بتایا تھا کہ یہاں فاتح سلطان محمد نے کچھ وقت اس محل میں گزارا جو بازنطینی شاہوں کا تھا۔ اور اس سے بھی پہلے پانچویں چھٹی صدی میں یہاں روم کے سینٹ پیٹرز کی طرز کا چرچ تھا جس کی تعمیرات ہوئیں۔

ہاں البتہ جب جمہوریت کا آغاز ہوا۔ دارالخلافہ انقرہ چلا گیا تو بہت سی وزارتوں کے جانے سے اسے یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔

دراصل پرانے استنبول کے گلی کوچوں میں پھرنا اور بھٹکنا بہت مزے کا کام تھا۔ کافی دیر تو ہم یونیورسٹی کی ڈیوڑھی سے باہر اس پارک میں بیٹھے رہے جو سڑک تک پھیلا ہوا تھا۔ یہاں لوگوں کو دیکھنا بڑا دلچسپ شغل تھا۔ خوانچے والے سے سمط لے کر کھائے۔ قہوہ پیا۔ جوڑوں پر تبصرے کئیے جو سیگرٹوں کے دھوئیں اڑاتے عشق و محبت کی پینگوں میں جھولے لے رہے تھے۔ چلنا شروع کیا تو کچھ ہی دیر بعد مسجد کے سامنے تھے اور خود سے کہتے تھے تو یہ ہے استنبول کی پہلی شاہی مسجد۔

سڑک پر ٹریفک سگنل کے سامنے اسے بہت دیر دیکھتے رہے۔ دروازے پر کھڑے کھڑے یہی سوچتے رہے کہ اس نے کتنے رنگ و روپ بدلے ہیں۔ پہلے یہاں کیا کیا تھا؟ بازنطینی دور میں سینٹ آپوسٹولی چرچ تھا۔ فتح کو دس سال گزر گئے تو سلطان محمد فاتح کو یہاں ایک ثقافتی کمپلیکس اور نماز کے لئے مسجد بنانے کا خیال آیا۔ جس کو وہ اپنا نام دینا چاہتا تھا۔ شاید کہیں اس دل میں بازنطینی دور کی عظیم الشان عمارتوں اور گرجا گھروں جیسی خوبصورت یادگاریں بنانے اور مقابلے کی ایک ترنگ بھی ہو۔ فاتح مسجد اور فاتح کمپلیکس جو پرائمری مدرسوں، لائبریریوں، شفا خانوں، خیراتی اداروں پر مشتمل تھا۔ فاتح کمپلیکس ایک طرح کی پہلی فاتح یونیورسٹی تھی۔

معماروں کے متعلق دو رائے ہیں۔ ایک یونانی نژاد عاتک سنان اور دوسرا یونانی کرسٹوڈولس۔ پر تعمیر سے وابستہ جو کہانی ہے وہ کرسٹوڈولس کو نمایاں کرتی ہے۔ کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ ایک روایت تو یہ ہے کہ کرسٹوڈولس نے مسجد بناتے ہوئے یہ خیال رکھا کہ مسجد کے ستون آیا صوفیہ کے ستونوں سے ہرگز بلند نہ ہوں کہ ایسا کرنا اس کی آیا صوفیہ سے محبت کا تقاضا تھا۔ مگر یہی بات سلطان کی ناراضگی کا باعث بن گئی اور اس نے معمار کے دونوں ہاتھ کٹوا دیے۔

دوسری روایت کچھ یوں ہے کہ مسجد اور کمپلیکس اتنے خوبصورت تھے کہ سلطان نہیں چاہتا تھا کہ کوئی دوسری مسجد اس کی برابری کرے۔ یوں اس نے ہاتھ کٹوا دیے۔

تاہم معمار اس زیادتی پر خاموش نہ رہا اور کیس قاضی کے پاس لے گیا۔ بڑا سنگین معاملہ تھا۔ قاضی نے مدعی اور مدعی علیہ دونوں کو عدالت میں طلب کر لیا۔ دونوں حاضر ہوئے۔ سلطان ابھی بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا جب قاضی نے اسے کھڑا رہنے کا حکم دیا۔ فوراً تعمیل کی گئی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران اسے بتایا گیا کہ اس نے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ اسے سخت ترین سزا سنائی گئی۔ سلطان نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ واقعی مجرم ہے اور ہر سزا بھگتنے کے لئے تیار ہے۔

عدالت برخاست ہونے پر قاضی سلطان کے قدموں میں گرا اور بولا کہ وہ ایسا کرنے پر مجبور تھا کہ یہ اس کے فرض کا تقاضا تھا۔ جب وہ جھکا ہوا تھا اس کی آستین سے ایک زہریلا سانپ پھسل کر فرش پر گر پڑا۔ سلطان نے حیرت سے پوچھا۔ یہ کیا؟ بتایا گیا سلطان معظم اگر آپ قانون کی اطاعت نہ کرتے تو اس سانپ سے آپ کو ڈسوا کر ہلاک کردینے کا پروگرام تھا۔ سلطان نے بھی اپنی پوشاک سے تلوار نکالی اور اسے لہراتے ہوئے بولا۔

”اگر تم بھی مجھے بری الذمہ قرار دیتے تو میں اس سے تمہارا سر کچل دیتا۔“
معمار کو معاوضہ دیا گیا۔ یہ بڑا انوکھا معاوضہ تھا۔ مسجد سے متصل ایک پوری گلی۔
مسجد سادگی و پرکاری کا نمونہ تھی۔

ڈیوڑھی سے گزر کر ہم اس جیالے کی آخری گاہ میں داخل ہوئے۔ ہم دونوں عجیب سے محسوسات کی زد میں تھیں۔ محبت اور عقیدت کے جذبات نے پلکیں بھگو دی تھیں۔ انھیں ضرور بھیگنا چاہیے تھا کہ میرے آقا نے بشارت دی تھی۔

ترجمہ: تم فتح کرو گے قسطنطنیہ کو۔ مبارک ہے وہ امیر جو اس شہر کا امیر ہو گا اور مبارک ہے وہ لشکر جو اس کا لشکر ہو گا۔

ماحول میں فسوں سا تھا۔ ہشت پہلو گنبد والی چھوٹی سی عمارت جس کی بلندوبالا دیواری کھڑکیوں پر تناشیڈ یا سائبان بڑی انوکھی وضع کا تھا۔ خوبصورت چوبی دروازوں کی دیواریں قرآنی آیات اور طلائی و رنگین نقاشی سے سجی تھیں۔ بلند و بالا دیواروں کے اوپری حصے میں بنی کھڑکیوں سے آتی روشنی اور مزار کے اوپر کسی پاسبان کی طرح تنے فانوس سے پھوٹتی شعاعیں سب مل جل کر کمرے میں دودھیا روشنی پھیلا رہی تھیں۔ آہنی جنگلے کی موتی جڑی باڑھ نے مرقد کو محبت سے جیسے سمیٹا ہوا تھا۔ سرہانے اس کا سفید بل دار کلاہ ٹنگا ہوا تھا۔ سرخ قالین پر چلتے ہوئے ہم نے پورا چکر کاٹا۔ فاتحہ پڑھی۔ ملحقہ تربت میں اس کی شریک زندگی گل بہار مٹی کا ڈھیر بنی پڑی تھی۔

یہیں اس جیالے غازی عثمان پاشا کی بھی قبر تھی جو 1877 کی روس ترکی جنگ کا ہیرو تھا۔ روس بھی بڑا بدبخت ہے۔ ہمیشہ ترکی سے پنگے ہی لیتا رہا۔ بہت دیر تک یہاں رہے۔ دعائیں مانگتے کہ ایسے جیالے بطن اسلام سے پھر کب پیدا ہوں گے؟

کس قدر تاریخی اور کلاسیکل منظر مسجد سے باہر ہمارے منتظر تھے۔ بلند و بالا دروازوں والے بازار دکانوں، رنگوں، حسین چہروں سے بھرے پرے رعنائیاں بکھیرتے نظر آتے تھے۔ چلتے چلتے نظاروں سے آنکھیں لڑاتے اور ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں سلطان محمد فاتح کے بارے میں پڑھی گئی باتوں کو ذہن میں لالا کر اس کے مختلف گوشوں پر بحث کا بازار بھی گرم کرتے رہے۔

وہ بہت دلیر، خداداد صلاحیتوں کا حامل، بہترین منتظم، عادل، بہترین فوجی اور جنگی ماہر تھا۔

Facebook Comments HS