فل کورٹ سے گریز کیوں؟ ایک سوال ایک خدشہ
ایک سال پہلے گزشتہ اپریل میں عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے بعد سے ملک مسلسل غیر یقینی صورت حال سے دو چار چلا آ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے شدید مہنگائی اور معاشی بدحالی کا پہلے سے شکار ملک اور عوام مزید مشکلات میں دھنستے جا رہے ہیں۔ نون لیگ اور اس کے اتحادی جماعتیں ملکی معیشت کو بہتر بنانے کا دعوی کر کے آئے تھے مگر معیشت کی بہتری تو کجا ان کے ایک سالہ حکومت کے دوران بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف عمران خان نے اقتدار سے نکلنے کے بعد نہ صرف قومی اسمبلی سے اپنے ارکان کے استعفی دینے کا اعلان کیا۔ بلکہ امریکہ سمیت ملک کے با اثر حلقوں اور شخصیات کے خلاف اپنی حکومت کے گرانے کی سازش کے الزامات لگا کر ہنگامہ برپا کرنے پر تل گیا۔
لانگ مارچ اور جلسے جلوسوں سے حکومت اور مقتدر حلقوں پر دباؤ ڈال کر فوری انتحابات کروا، کر پھر سے اقتدار حاصل کرنا اس کا بنیادی مقصد ہے
جب قومی اسمبلی سے استعفوں، لانگ مارچ اور جلسے جلوسوں وغیرہ کام بنتا نظر نہیں آیا۔ تو امسال جنوری میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اپنی پارٹی کے وزرائے اعلی کے ذریعے وہاں کی صوبائی اسمبلیوں تڑوا ڈالیں۔ یہاں ان سوالات سے قطع نظر کہ آیا ان اسمبلیوں کو وقت سے پہلے توڑنے کا کوئی تسلی بخش آئینی جواز تھا یا نہیں یا کسی صوبائی وزیر اعلی کا اسمبلی توڑنے کا اختیار کسی جواز کا متقاضی ہے بھی یا نہیں۔ ایک اہم سوال یہ بنتا ہوا نظر آتا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب اسمبلی کے انتحابات کے لیے تار یخ دینے کے ایشو پر سو موٹو لے کر بینچ بنانے پر کیوں مصر رہا جو صورت حال کی پیچیدگی کا باعث بن گیا؟ حالانکہ اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ میں پیٹیشن زیر سماعت تھا۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے اس متعلقہ بینچ کے چار جسٹس صاحبان کا موقف بھی یہی تھا کہ ہائی کورٹس میں زیر سماعت ایشو پر ”سو موٹو“ کا جواز نہیں بنتا
آگر چیف جسٹس آف پاکستان لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے فیصلہ آنے دیتا تو معاملہ اتنا پیچیدہ نہ ہوتا۔ آئین کے مطابق تو لاہور ہائیکورٹ کو بھی غالباً 90 دن ہی میں انتحابات کرانے کا فیصلہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔
مگر اس کے باوجود چیف جسٹس آف پاکستان نے سو موٹو لے کر 9 رکنی بینچ تشکیل دیا۔ دو جج ( جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الحسن ) نون لیگ کی طرف سے اعتراض ہونے پر بینچ سے خود الگ ہو گئے۔
جبکہ بقیہ سات ججز میں سے جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ سو موٹو لینے کے عدم جواز پر پہلے سے اپنا موقف بیان کر چکے تھے۔ وہ کیس کی باقاعدہ سماعت میں شریک نہیں ہوئے۔ کیس کی باقاعدہ سماعت باقی پانچ ججز نے کی۔ فیصلے میں دو ججز ( جسٹس منصور علی شاہ اور جمال مندوخیل ) نے اختلافی نوٹس لکھے۔ جبکہ تین نے اتفاق کیا یوں فیصلہ تین اور دو سے ہو جانے کو قرار دیا گیا۔
حکومت اور بعض قانونی حلقوں کے مطابق چونکہ دو ججز جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے پہلے سے اپنا اختلافی رائے بیان کی تھی۔ اس لیے یہ 3 / 2 کا نہیں بلکہ 3 / 4 کا فیصلہ ہے۔
اس دعوی سے اختلاف کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ چونکہ مذکورہ دو جج صاحبان باقاعدہ سماعت میں شریک نہیں ہوئے تھے اس لیے رسمی فیصلے میں ان کی اختلافی رائے کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر ان دو جج صاحبان کو سو موٹو کے جواز سے اختلاف تھا تو جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کی طرح بینچ میں رہ کر اختلافی نوٹس لکھتے تو اس صورت میں ان کی رائے کی قانونی حیثیت ہوتی اور یوں رسمی فیصلہ 2 / 3 کے بجائے 4 / 3 کا ہوتا۔
قانونی نکتہ نظر سے یہ دلیل وزن دار ہو سکتا ہے بشرطیکہ یہ دو جج صاحبان نے اپنی مرضی بینچ سے الگ رہ کر سماعت میں حصہ نہیں لیا۔
مگر جسٹس اطہر من اللہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ بینچ سے خود الگ نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کو چیف جسٹس نے بیٹھنے سے روکا تھا۔
اب اگر ایسا ہے تو پھر 3 / 4 فیصلے کو خلاف اصول اور انصاف یو نے کا دعوی بھی بے وزن نہیں۔ حکومتی جماعتوں کے علاوہ بیشتر قانونی ماہرین بھی اس فیصلے پر معترض ہیں۔
اگرچہ سو موٹو کی سماعت سے پہلے بھی مختلف حلقوں کی طرف سے یہ تجویز، مشورہ یا رائے یا مطالبہ رہا تھا کہ صورت حال کو پیچیدہ تر بنانے سے بچنے کا بہتر راستہ یہی ہے کہ اس ایشو پر فل کورٹ تشکیل دی جائے۔ مگر چیف جسٹس آف پاکستان نے ان کو اہمیت نہیں دی۔
اب چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کا یہ فیصلہ اتنا متنازعہ بن گیا کہ گزشتہ دو ماہ سے نہ صرف ملک کے دوسرے اہم مسائل پس پشت چلے گئے ہیں۔ بلکہ ریاست کے اہم اداروں کے درمیان کھینچا تانی سے جو شدید آئینی اور سیاسی بحران پیدا ہوا ہے اس نے غیر یقینی صورت حال میں اتنا اضافہ کر دیا ہے کسی کو صحیح طور سے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اس کا انجام اور اثرات کیا ہوں گے۔
اس آئینی بحران کے حل کے سلسلے میں اب بھی متعدد حلقوں ( وکلاء۔ صحافی، سیاسی تجزیہ کار۔ ریٹائرڈ جسٹس صاحبان حکومتی سیاست دان ) کی طرف سے بتکرار یہ رائے رہی ہے کہ فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
حکومتی اتحادی جماعتوں کے ساتھ عمران خان نے بھی یہ کہا ہے کہ اس کو بھی فل کورٹ بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔
اب ایسے میں سمجھ نہیں آتا کہ اس کے باوجود چیف جسٹس آف پاکستان اس بحران کے اطمینان بخش حل کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے سے گریزاں کیوں ہے؟
کیا اس کی وجہ محض چیف جسٹس آف پاکستان کی ذاتی ”انا“ اور تعصب ہے اگر ذاتی انا یا تعصب کے باعث تو کیا ملک کے ایک نہایت ہی اہم اور ذمہ دار ادارے کا سربراہ اتنا غیر ذمہ دار، غیر بردبار اور کوتاہ اندیش ہو سکتا ہے کہ صرف ذاتی آنا یا تعصب کے لیے ملک و قوم کو گمبھیر بحران سے دو چار کرے۔
۔ یا۔
پھر اگر یہ ذاتی انا کے باعث نہیں بلکہ یہ سوچ سمجھ کے ساتھ کیا جا رہا ہے تو ایسا میں یہی ایک سوال اور خدشہ ذہن میں آتا ہے کہ ”خدا ناخواستہ خدا ناخواستہ“ یہ کسی خاص ایجنڈے یا منصوبے کے تحت تو نہیں کیا جا رہا ہے یا یہ بحران کسی ماورائے آئین سیٹ آپ کا پیشہ خیمہ تو نہیں بنے گا، جس خدشہ کا اظہار بعض سیاسی رہنما اور تجزیہ کار بھی کر رہے ہیں


