مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے


گئودان ناول منشی پریم چند نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں تحریر کیا جس میں انہوں نے دیہاتی زندگی کا تفصیلی اور شہری طرز زندگی کا مختصر نقشہ کھینچا ہے۔

اس ناول میں انہوں نے اپنے سماج کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ معاشرے میں دو ہی طبقے ہیں، ایک امیر اور دوسرا غریب۔ سماج کا نظام اس قدر فرسودہ ہے کہ ایک غریب تمام عمر کمر توڑ کر محنت کرتا ہے لیکن پھر بھی غریب ہی رہتا ہے کہ صرف دانہ پانی سے گزارا کر کے زندہ رہ سکے۔ امیر طبقہ غریب کے سر کو کچل کر، اس کا پیٹ چاک کر کے اپنے لئے عیش و مسرت کا سامان تیار کرتا ہے۔ وہ اپنی ذہنی چالاکی و ذاتی مفاد سے کام لیتا ہے اور بغیر محنت کے ساری زندگی جیتا ہے۔

کسان اس سماج میں وہ مظلوم شخص ہے جسے مہاجن، برہمن، مل مالکان، منشی اور پنڈت گویا معاشرے کا ہر بندہ لوٹ لوٹ کر کھاتا ہے۔ قرض پر سود کی شرح کسان کی کمر توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ سالہا سال قرض کے ساتھ سود اتنا بڑھ جاتا ہے کہ زندگی میں اگر ایک بار قرض لے لیا تو ساری زندگی قرض اتارنے میں ہی گزر جاتی ہے۔ فصل ابھی تیار نہیں ہوتی کہ پھل کھانے والے پہلے در پر آ جاتے ہیں۔ اس طرح سارے سال کی محنت پل بھر میں کسی اور کے گھر چلی جاتی ہے اور خود چربن کھا کر زندہ رہنا پڑتا ہے۔

سود پر قرض لینا بھی غریب کی مجبوری ہے۔ کہ معاشرے میں برادری کی عزت کا بھی اسے بڑا پاس ہے۔ اگر رسم و رواج کی پابندی نہ کئی گئی تو برادری سے خارج کیے جانے کا دھڑکا بھی ہر وقت اسے لگا رہتا ہے۔ اگر برادری کی لاج رکھی تو بھی عذاب اور اگر نہ رکھی تو بھاری جرمانہ، یوں ہر بار مہاجن سے مجبوراً قرض لینا اس کی مجبوری ہے۔ اور وہ ظالم ایسے مجبور لوگوں کو قرض بھی بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں کہ ایک بار قرض دے کر محنت کش کو ساری زندگی کے لئے غلام بنا لینا زیادہ فائدہ مند ہے۔

دوسری طرف شہری زندگی ہے کہ اس میں بھی مزدور کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ یعنی نچلا طبقہ ہر جگہ ہی پسا جا رہا ہے۔ وزرا کو اپنی سیاست چمکانی ہے، امرا کو زیب و زینت سے فرصت نہیں ملتی، صحافی کا قلم دھن کا غلام ہے، بینکر سرمایہ داروں کو پھانسنے کے چکر میں ہے کہ کیسے اپنی کمیشن نکالے۔ اس کے بعد جو سرگرمیاں وہ ذوق و شوق سے انجام دیتے ہیں کہ کبھی جنگل میں شکار پر نکل گئے، کبھی مزدوروں کو مزدوری دے کر کبڈی کروا دی اور کبھی محنت کشوں سے اسٹیج ڈرامہ کروا لیا۔

یہ سب بھرے پیٹ کے چونچلے ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ غریب بے چارا جیے جانے کی بدنما نقل اتار رہا ہے۔ یہاں الماریوں میں رنگا رنگ ملبوسات ہیں اور وہاں ایک ساڑھی اور ایک ہی تہبند (تہمد) میں ساری زندگی پیوند لگاتے گزر جاتی ہے، یہاں دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوتے ہیں اور وہاں روکھا سوکھا کھا کر گزارا کرنا پڑتا ہے، یہاں آئے دن نئی موٹر کار ہوتی ہے اور وہاں تمام عمر ایک گؤ کی خواہش تک پوری نہیں ہوتی، یہاں اولاد بیرون ممالک پڑھنے جاتی ہے اور وہاں تعلیم کا نام و نشان ہی نہیں، یہاں جہیز میں سیکڑوں ایکڑ جاگیر دی جاتی ہے اور وہاں بیٹی کسی بوڑھے کو بیچی جاتی ہے۔

شہری بابو اور میم صاحبہ تو منطق و فلسفہ، ویمن کلب، سیاسی تحریک، نفسیات دانی اور رسائل و جرائد کی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن دیہی گنواروں کو تو یہی فکر لاحق ہے کہ اس بار ایکھ کی فصل کیسے بونی ہے۔ وہاں تو ہر شہر میں ایک بنگلہ بنانے کی مقابلہ بازی ہو رہی ہے اور یہاں ایک ہی کچا مکان ہے۔ گائے بیل، ان کا چارہ بھوسا، تنور و چولہا اور گھر والوں کا اوڑھنا بچھونا سب کچھ اسی ایک مکان میں کرنا پڑتا ہے۔

محنت کسان و مزدور کر رہا ہے اور اسے اپنے کیے کا صلہ بھی نہیں مل رہا۔ وہ بھی خودکار مشین کی طرح کام کیے جاتا ہے۔ آنکھیں بند کر کے گھٹیا رسوم و رواج کی پابندی کیے جاتا ہے۔ ذات پات پر سیکڑوں مسائل صرف اسی کے لئے کھڑے کیے جاتے ہیں۔ چمار یا شودر کوئی غلطی کر بیٹھے تو اس کا ازالہ کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔ البتہ برہمن سے غلطی ہو جائے تو گوبر کھا کر، اشنان کر کے، پنڈتوں کا بھوج بھر کے کئی راہیں نکالی جا سکتی ہیں۔

برہمن کو ان کی بد دعاؤں کی کوئی پرواہ نہیں لیکن ان معصوموں کو کرشن کی کرپا چاہیے جو کہ برہمن ہی کی دیا سے ممکن ہے۔ اور برہمن بھگوان کے قریب ہے، عبادت گزار ہے وہ اچھوت کے ہاتھوں پانی تو نہیں پئے گا البتہ اس کے کھیت کا سارا اناج چٹ کر جائے گا، برہمن شودر کے گھر قدم تو نہیں رکھے گا البتہ اس کے بیل اور گائے کا دودھ پسند کرے گا، اسے اپنے برابر تو نہیں سمجھے گا لیکن اس کے سود کی رقم بخوشی قبول کر لے گا، چمار برادری کی اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں لیکن خوبصورت چمارن پر اس کا دل بھی دھڑکتا ہے۔

یہ کہانی فرضی طور پر نہیں کہی گئی ہے بلکہ ایسا نظام اور ایسا معاشرہ ہمیں آج بھی اپنے آس پاس نظر آئے گا۔ اور یہ کہانی صرف بیلاری کے رہنے والے ہوری کی ہی نہیں ہے بلکہ معاشرے کے ہر اس فرد کی ہے جو مظلوم ہے، جس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیاں دیتے گزر جاتی ہے۔ جس کی پیدائش ہوتے ہی کام پر لگا دیا گیا اور موت بھی محنت کرتے ہوئے ہی آتی ہے۔ زندگی بھر جس نے غم ہی غم اٹھائے ہیں۔ لیکن مرتے وقت دوسروں کی اور اس کی موت میں صرف ایک فرق ہے کہ اسے اطمینان ہوتا ہے۔ اسے یہ سکون ہوتا ہے کہ کسی کا حق نہیں مارا ہے، غریبوں کے بچوں کا پیٹ چاک کر کے اپنوں کا بھوج نہیں بھرا ہے۔

پروفیسر آل احمد سرور نے پریم چند کے بارے میں کہا کہ ”وہ ہندوستان میں بیٹھ کر ایران و توران کے افسانے نہیں لکھتے وہ یہیں کے مال سے اپنی دکان سجاتے ہیں“ ۔

پریم چند نے ایک سال بمبئی میں اور باقی زندگی گاؤں میں گزاری۔ ناول میں جس ہندوستانی سماج کی حالت انہوں نے بیان کی ہے وہ بالکل سچی، کھری اور حقیقتوں پر مبنی ہے۔ وہ سماجی برائیاں انسان کو آج بھی اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں۔ پریم چند کے تجربے اور مشاہدے کی بدولت اس ناول کی اہمیت مسلم ہے۔ اور ان کی یہ خوبی ہی ان کا کمال ہے کہ جو تجربے اور مشاہدے میں آیا اسے فنکاری سے لفظوں کی صورت میں تحریر کر دیا۔

Facebook Comments HS