ہماری چارپائی

جدید دور کی ضروریات کے مطابق دنیا ٹیکنالوجی کی جانب ہر دن ایک قدم بڑھا رہی ہے۔ لیکن رات ہوتے ہی ایک قدم پیچھے کی جانب بڑھایا جائے اور گھر جاکر اپنی طبعی ضرورت پوری کرنے کا سوچا جائے تو جس چیز کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ چارپائی ہے۔ چارپائی کا رواج پورے پاکستان کے ہر صوبے میں ہے۔ ہم نے پنجاب کی چارپائی زیادہ دیکھی ہے لہذا پنجابی زبان میں اسے منجی کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا

Read more

مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے

گئودان ناول منشی پریم چند نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں تحریر کیا جس میں انہوں نے دیہاتی زندگی کا تفصیلی اور شہری طرز زندگی کا مختصر نقشہ کھینچا ہے۔ اس ناول میں انہوں نے اپنے سماج کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ معاشرے میں دو ہی طبقے ہیں، ایک امیر اور دوسرا غریب۔ سماج کا نظام اس قدر فرسودہ ہے کہ ایک غریب تمام عمر کمر توڑ کر محنت کرتا ہے لیکن پھر بھی غریب ہی رہتا

Read more

نقلیات پر ایک نظر

برصغیر میں ڈاکٹر جان گلکرسٹ کی ادبی خدمات ایسٹ انڈیا کمپنی کے برعکس ہیں۔ اردو زبان و ادب کے حوالے سے انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی تصنیف کردہ کتابوں میں اردو لسانیات کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ گلکرسٹ نے فورٹ ولیم کالج میں اپنی تدریسی خدمات انجام دینے کے ساتھ کئی کتابیں مرتب بھی کی ہیں۔ لسانیات پر کئی منشیوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو انہوں نے مرتب کیا ہے۔ محمد عتیق صدیقی

Read more

قاسم علی شاہ کے خلاف مہم: ایسی بلندی ایسی پستی

پہلے پہل قومی معیارات اور ترجیحات جاننے کے پیمانے مختلف ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک بہترین پیمانہ ہے۔ جو لوگ اوچھی حرکتیں کریں، ہلڑ بازی کا مظاہرہ کریں، غیر مہذب زبان استعمال کریں، فحاشی پھیلائیں اور غیر اخلاقی مذاق (پرینک) کریں صرف وہی ہمیں پسند آتے ہیں۔ بحیثیت قوم یہ پسندیدگی ہمارا معیار ظاہر کرتی ہے کہ ہم کس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ قدیم دور کی تحریکوں میں حرکت ہوا کرتی

Read more

کیکر کی گم کردہ چھاؤں

ببول، ام مغیلاں، ایکیشیا ایریبکا، بابلہ یا بارل کا نام لیں تو شاید ہی کوئی سمجھ سکے۔ لیکن جیسے ہی کیکر کا نام لیں تو پاکستان میں اور خاص طور پر پنجاب میں رہنے والا ہر شخص اس سے واقف ہوتا ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں، پاکستان کے علاوہ ہندوستان اور عرب ممالک بھی پایا جاتا ہے۔ سائنس نے کیکر کے بے شمار فوائد بتائے ہیں۔ طبیب دوا بنا کر علاج کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اور لوگ اس

Read more

سالگرہ

بالی کی طبیعت اپنے دوستوں سے ذرا الگ تھی۔ چونکہ وہ گاؤں کے ماحول میں پلا بڑھا تھا اس لئے شہری لڑکوں والی خصلتیں اس میں کم ہی پائی جاتی تھیں۔ جو لڑکے شیخی مارتے، اوچھی حرکتیں کرتے یا آج کل کی اصطلاح میں ممی ڈیڈی بچے ہوتے، وہ بالی کو ذرا نہ بھاتے تھے۔ بالی کی طبیعت میں ویسے کوئی الجھن یا بیزاری نہیں تھی۔ عمر کے ہر حصے میں اس کے بے شمار دوست رہے۔ وہ ہر طرح

Read more