یہ اسکول کے بھاری بستے


ٰایک کہاوت ہے ’گدھے پر کتابیں لاد نا‘ ۔ یہ طنزاً استعمال ہوتی ہے۔ گدھا بوجھ اٹھانے کے لئے ہی ہوتا ہے البتہ اس کی عقل گدھے کی ہی رہتی ہے خواہ آپ اس پر علمی کتابیں رکھ دیں۔ افسوس کا مقام ہے، معذرت کے ساتھ آج کل کے اسکولوں نے کمسن بچوں کو بوجھ اٹھانے والا گدھا سمجھ رکھا ہے۔ اپنے اطراف ایک نظر ڈالئے صبح اور دوپہر کو چھوٹے بچے بھاری بھرکم بستے اور بیگ اپنے کاندھوں پہ ڈالے دکھائی دیں گے۔

یہ بھاری بستے یا بیگ بچوں کی بیماریوں کا سبب بننے لگے ہیں۔ بچوں میں گردن، کمر میں درد کی شکایات عام ہوتی جا رہی ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی کے عباسی شہید اسپتال کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ کلینکل، ڈاکٹر نعمان نے اسکولوں کے کمسن طلباء اور طالبات کے لئے بھاری بستوں /بیگوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے شہر کے تمام اسکول ہیڈ ماسٹروں اور پرنسپلوں کو ایک خط بھیجا ہے۔

انہوں نے زور دیا ہے کہ کوئی ایسا نظام بنایا جائے کہ بچے روز صرف وہی کتابیں اسکول لائیں جن کی ضرورت ہو۔ ڈاکٹر نعمان کے اس خط میں اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروں اور پرنسپلوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ کم عمر طلباء اور طالبات بھاری بھرکم اسکول کے بستے کاندھوں پہ لٹکائے اسکول جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ریڑھ کی ہڈی، گردن اور کاندھوں میں درد کا مستقل شکار ہو رہے ہیں جو بہت تشویش کی بات ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روزانہ ان کے پاس آنے والے بچوں میں گردن، کمر اور کندھوں میں درد کی شکایت عام دیکھنے میں آ رہی ہے جس کی وجہ اسکول کے بھاری بستے اور بیگ ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ”میں نے بحیثیت ایک ڈاکٹر کمسن طلباء کے اسکول کے ان بھاری بستوں اور بیگوں کی وجہ سے ہونے والے جسمانی درد کے معاملے کو انتہائی حساس اور اہم پایا ہے، میں پرنسپلوں اور اساتذہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بچوں کی پڑھائی کے حوالے سے ایسا نظام بنائیں کہ صرف و ہی کاپیاں اور کتابیں منگوائی جائیں جن کی اسکول میں پڑھائی کے وقت ضرورت ہو تا کہ کمسن بچوں کے بستے اور بیگ بلا وجہ وزنی نہ ہونے پائیں اور وہ کم عمری میں گردن، ریڑھ کی ہڈی اور کندھوں کے درد میں مبتلا ہونے سے بھی بچ سکیں“ ۔

افسوس تو یہ ہے کہ اس اہم بات کو چھوٹے بڑے، گلی محلے کے انگریزی ناموں والے اسکول، اور ’با اثر‘ اسکولوں کی انتظامیہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ ان اسکولوں کی انتظامیہ اور مالکان اپنی بہت ساری پالیسیوں، نصاب وغیرہ میں تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور یورپی ممالک کی تقلید کرتے ہیں لیکن جہاں بات بھاری بستوں اور بیگوں کی آتی ہے وہاں وہ اپنی دکان داری قائم رکھتے ہوئے فرسودہ نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تو ایسے بھاری بھرکم بستے اور بیگ بچے اپنے کاندھوں پر لٹکائے نہیں نظر آتے۔ ان کے ہاتھ میں محض چند کتابیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر ہمارے ہاں کے ایسے اسکولوں کو مغربی تعلیمی نظام تعلیم کی نقالی کا شوق ہے تو پھر پوری پوری نقل کریں یہ کیا کہ کچھ کیا کچھ چھوڑ دیا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہو رہا ہے جیسا کوا ہنس کی چال چلے اور اپنی چال بھول جائے۔

خواہ ان نام نہاد ’اشرافیہ‘ اسکولوں کی انتظامیہ کے نزدیک بھاری بستوں اور بیگوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہو لیکن کسی بھی ڈاکٹر سے پوچھئے، اس کا جواب یہی ہو گا کہ بھاری بستے اور بیگ کاندھوں پر لٹکانا ٹھیک نہیں۔ ان بھاری بیگوں سے بچوں کی صحت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ایسے ہی کچھ سوالات راقم کے ذہن میں بھی تھے۔ گزشتہ روز میں نے اس سلسلے میں کئی ڈاکٹروں سے بات کی۔ جس ڈاکٹر سے بھی پوچھا سب نے تشویش کا اظہار کیا۔

مثلاً گنگا رام اسپتال لاہور کی ڈاکٹر ضحی رضوان سے بات کی تو انہوں نے کہا : ”ایک تو بچوں کی اکثریت کو جس طرح کی متوازن خوراک کی ضرورت ہوتی ہے وہ انہیں نہیں مل رہی؛ پھر جو بچے کسی وجہ سے اعصابی اور جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں ان کے لئے یہ بھاری بستے قا تل ثابت ہو رہے ہیں“ ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کاندھوں کا جوڑ، ان تین ہڈیوں سے بنتا ہے : ہنسلی کی ہڈی جسے عرف عام میں کالر بون بھی کہا جاتا ہے، شانے کی ہڈی اور بازو کی ہڈی۔

کاندھوں پر بھاری بستوں کا مسلسل بوجھ ان کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس بوجھ سے ریڑھ کی ہڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے جیسے مہروں کا اپنی جگہ چھوڑ دینا، کمر درد، ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان سلپ ڈسک سے رگ متاثر ہو سکتی ہے جو آگے چل کر ’فالج‘ کا سبب بن سکتی ہے۔ پھر پٹھوں میں کھچاؤ اور تکلیف اور نرم بافتوں کو نقصان پہنچتا ہے، پٹھے مستقل کمزور ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ نے مزید بتایا کہ پٹھے ہڈیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ دونوں کاندھوں میں پٹھوں کے گچھے ہوتے ہیں جو دماغ کی جانب سے بھیجے گئے اشارات پر عمل کراتے ہوئے بازووں کو حرکت دلواتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے کاندھوں پر مسلسل دباؤ ڈالنے سے فالج ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ یہاں انہوں نے ایک بچی کے کیس کا ذکر کیا جس کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوا۔ جن ماہرین کے زیر نگرانی علاج ہو رہا تھا انہوں نے کہا کہ بچی کمزور تھی اور کاندھوں پر بوجھ کی وجہ سے ’سلپ ڈسک‘ کا مسئلہ درپیش رہا جس کی وجہ سے اس بچی پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئی۔

بر سبیل تذکرہ ایک بات یاد آئی۔ ایک صاحب نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اسکولوں کی طرح بچوں کی چھوٹی کلاسوں کا ایک اسکول کھو لا اور اس اسکول میں بھاری بھرکم بستوں کے بوجھ سے آزاد تعلیم کا آغاز ہوا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے بچے کو کتابیں اور دیگر اشیاء رکھنے کے لئے ایک ’لاکر‘ الاٹ ہوا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مذکورہ اسکول انتظامیہ کوشش کے باوجود والدین کو قائل کرنے میں ناکام رہی کہ یہ طریقۂ تعلیم عین سائنسی ہے اور بھاری بستوں میں بوجھ اٹھائے پھرنے سے بھلا تعلیم کا کیا تعلق؟ بھینس کے آگے بین ہی بجی۔

راقم نے ’با اثر‘ اسکول میں جانے والی ایک آٹھویں جماعت کی بچی سے پوچھا کہ وہ روزانہ کتنی کتابیں اور کاپیاں لے کر اسکول جاتی ہے تو اس نے کہا 21۔ اب آپ کر لیں بحث!

کمسن بچے بچیوں کی ایک بڑی تعداد دوپہر کے کھانا کھانے کے بعد یہ بھاری بستے اور بیگ دوبارہ کاندھوں سے لٹکائے اکیڈمیوں کی جانب جاتی نظر آتی ہے۔ اکثریت پیدل چلنے والوں کی ہوتی ہے۔ گویا یہ دن میں 4 مرتبہ اپنے کاندھوں پر بوجھ اٹھا کر چلتے ہیں۔ پھر راستے بھی وطن پاکستان کی عوامی بستیوں کے۔ کون سے ہموار ہوتے ہیں۔ کوئی ایک مسئلہ۔

بھاری بستوں اور بیگوں کی کہانی ایک عرصہ سے چل رہی ہے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے جو ”دیکھ لیں گے“ کی لفاظی سے ٹال دیا جائے۔ ہمارے بچے بھی وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں۔ بڑے بھی بعینہٖ وہی کریں گے جو ملک کے حکمران کرتے ہیں۔ یعنی ”ہو جائے گا“ ۔ ”کر لیں گے“ ، ”یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں“ ! یہ ہی تو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پھر یہ کراچی کے اسکولوں کا ہی نہیں پورے ملک کا بھی مسئلہ ہے۔ مذکورہ اسکولوں کی انتظامیہ اس قومی مسئلہ کا حل نکالنے کے لئے تیار نہیں ہے لہٰذا ان بچوں کے والدین سے درخواست ہے کہ وہ اسکولوں کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں اور ان کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے کوئی قابل عمل حل نکالنے کی کوشش کریں۔

ترقی یافتہ ممالک میں ایسے اہم معاملات اور قومی مسائل پر سیاست ہوتی ہے اور انتخابات کے منشور بنائے جاتے ہیں جب کہ ہمارے ہاں اس مسئلہ کو تو مسئلہ تک نہیں سمجھا جاتا۔ ان بچوں سے متعلق کلیم عثمانیؔ نے کہا تھا : ”یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے“ ۔ لیکن اب تک کسی قومی سیاسی اور مذہبی جماعت کی طرف سے اس سنگین مسئلہ پر آواز نہیں اٹھائی گئی۔ کیا ان کو بھی قوم کے بچوں کی صحت کی کوئی پروا نہیں! کیا تعلیم کو تجارت تسلیم کر لیا گیا ہے؟ رہے ان بچوں کے والدین، تو بقول حبیب جالبؔ:

اس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے
یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے
آنسو بھی ہیں آنکھوں میں دعائیں بھی ہیں لب پر
بگڑے ہوئے حالات، سنور کیوں نہیں جاتے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).