سراج الحق کا 17 واں حملہ!

ستم تو یہ ہے کہ ”جانم“ سخن شناس نہیں سو کہیں تو کس سے کہیں؟ جناب سراج الحق کو اس وقت بھی دیکھا جب وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ تھے، اور آج بھی دیکھ رہے ہیں جب وہ امیر جماعت اسلامی ہیں۔ تب ہم ”رفیق“ تھے، بدقسمتی سے اب رفیق نہ شفیق۔ سادگی میں اس وقت بھی کمال تھے اور آج بھی باکمال، اس وقت جمعیت کے جمال سے مالا مال تھے اور آج جماعت کے جمال سے۔ پھر ان کے سیاسی کریئر میں ایک کراؤن کا چرچا بے تحاشا ہے کہ بحیثیت سینئر وزیر اور بطور وزیر خزانہ کے پی ان کے دامن پر ایک پائی یا لمحہ بھر کی رسوائی کا دھبہ تک نہیں! بطور سنیٹر ( 2015 تا 2021 ) بھی صاف ستھرا دور تھا۔ اور یہ سچ ہے!
مسئلہ یہ ہے، سرکار خواب دیکھے بغیر تعبیروں کے جویا ہیں سو ان کی سادگی دلکش زیادہ ہے اور دلفریب کم، ان دنوں انہوں نے بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو آئینی اور سیاسی بحرانوں سے نکالنا ہے، یہ ایک خوبصورت اور فکری کاوش ہے لیکن سوچنا یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی مل بیٹھنے کی اس فکر میں آج کل خود کس سے مل بیٹھنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ یا، پھر محض ایک سینیٹر اور ایک ممبر قومی اسمبلی کے ساتھ عمر عزیز گزارنے کا ارادہ ہے۔
کراچی کی حافظ نعیم کی بلدیاتی کامیابی کا اونٹ کس کروٹ بٹھانے کا ارادہ ہے، وہاں کس سے اور کب اتحاد بین المسلمین کا ارادہ ہے؟ کراچی متمنی ہے کہ جماعت اسلامی نے جو ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے سبب ثمر سمیٹا ہے اس سے کوچہ و بازار بھی مستفیض ہو۔ دیکھئے! جماعت اسلامی کا دامن بڑا صاف ہے، رفاہی کاموں میں بھی بغیر عنان اقتدار انہوں ہمیشہ ملک بھر کی خدمت کی ہے۔ اگرچہ ان دنوں ان کی سیاسی حیثیت کمزور ہے لیکن نظریاتی و سیاسی بلوغت میں رتی بھر زوال نہیں۔
اگر طلبہ یونینوں کے دریچے کھل جائیں تو پھر سے اس پر شباب تے دیر نہ لگے۔ جہاں تک عہد حاضر میں سراج الحق سیاسی کردار کا نیک ارادہ رکھتے ہیں، اس میں مقام اعراف کی چہل قدمی ہر سب حاصل ہونے کی توقع نہ کریں، تھوڑی سے گرم ہواؤں میں اترنا پڑے گا یا تھوڑا سا بہشتی دروازہ کھٹکھٹانا ہو گا۔ وہ یاد تو ہو گا جیسے قاضی حسین احمد دستک فرمایا کرتے تھے، قاضی حسین احمد کی امامت میں فقہ نفاذ جعفریہ والوں سے لے کر مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا فضل الرحمٰن و مولانا سمیع الحق حتی کہ بغیر وضو والے بھی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور نماز قائم بھی کر لیا کرتے تھے!
گو نعیم صدیقی سمیت متعدد کو ان کی سیاسی ہردلعزیزی چبھتی تھی لیکن سیاست میں ضروری ہے ریاست کی مذہبی و سیاسی اقلیت و اکثریت سے دامن گیر ہونا ہی پڑتا ہے۔ مولانا مودودی کی ”خلافت و ملوکیت“ کے مطالعہ ہی کو دین سمجھنا کافی نہیں ”تنقیحات“ کے اس صفحہ پر بھی تو جائیے، جہاں درج ہے کہ سمت متعین کرنے کے لئے ٹرین میں بیٹھے رہنا کافی نہیں ہے ڈرائیونگ سیٹ پر دسترس بھی ضروری ہے! مولانا مودودی کو نئی پود کم یاد کرتی ہے، لٹریچر کی تقسیم کاری میں سابق کمال رہا نہ وہ 62 اور 63 دفعات کے پرچار کی کیمپنگ، نہ متناسب نمائندگی والے انتخابات کے مطالبات ہی کہیں بازگشت سنائی دیتی ہے، ارتقاء تو ضروری ہے انقلاب آئے نہ آئے۔ وہ لاہور میں ایک سید مودودی انٹرنیشنل اسلامک انسٹیٹیوٹ تھا وہ بھی جمود تلے دب گیا۔
اجی یاد آیا، ہم نے تو تین سال قبل ایک دفعہ قیصر شریف سے کہا تھا، بلاول بھٹو زرداری کو مولانا مودودی کی ”تنقیحات“ کا انگریزی ترجمہ تحفے میں بھیجیے، تین سالوں میں اردو سے انگریزی ترجمہ نہیں ہوا تاہم بلاول بھٹو نے انگریزی سے اردو ترجمہ سیکھ لیا ہے! شاید جماعت اپنے کئی کام بھول چکی، سراج الحق آپ سے زیادہ آئین کو کون سمجھتا ہے، 1973 کا آئین جس میں پروفیسر غفور، مفتی محمود، شاہ احمد نورانی سمیت بے شمار بزرگوں کی مشاورت اور خدمات ہیں، اس آئین میں عدالت کہاں کھڑی ہے، ہی ٹی آئی کہاں کھڑی ہے اور پی ڈی ایم کہاں، آپ ان میں سے کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟
کسی کو ساتھ کھڑے کرنے کی تمنا ہو تو کسی کے ساتھ بھی دو ٹوک موقف کے ساتھ کھڑے ہونا پڑتا ہے، پنجابی اکثر کہا کرتے ہیں ”کلے رکھ دی تے کوئی چھاویں وی نہیں بیٹھ دا“ ( اکیلے درخت کی تو کوئی چھاؤں میں بھی نہیں بیٹھتا ) ۔ ہم جماعت کے بناؤ کے بھرم اور عزم کو ہمیشہ سے پسند کرتے ہیں مگر سرکار آپ ایم ایم اے کے بعد سے مسلسل اکیلے اڑان بھرنے کی تگ و دو میں لیکن پیش منظر تاحال لیم فلیہرٹی کی کی اسٹوری
(His First Flight – by ”Liam O ’Flaherty“ )
ہی سے ہیں۔
المختصر، جماعت اسلامی کی اس خوبی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ یہ امت مسلمہ کے اتحاد کی قربتوں اور رفاقتوں کی داعی اور مسلک کی آبیاریوں سے اپنا بسیرا بہت دور رکھتی ہے۔ یہ حب الوطنی کی مہکار اور سیاسی آداب کا افتخار ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کسی امیر العظیم، لیاقت بلوچ، فرید پراچہ، حافظ سلمان بٹ یا احسان اللہ وقاص وغیرہ کا کسی پانامہ شاہنامہ، ای سی ایل یا نادہندگان میں بھی نام نہیں آیا۔ سیاسی بصیرت کے سامنے بھی اس حد تک تو ہم سر تسلیم خم ہیں کہ باقی جماعتیں الیکشن الیکشن کرتی ہیں مگر کوئی منشور کی اشاعت نہ دستور کا خیال جبکہ جماعت اسلامی دو ماہ قبل اپنا منشور خواص و عوام کے سامنے بھی رکھ دیا کہ جاؤ بچہ تم بھی کاپی پیسٹ کرلو، ان چیزوں کا تعلق بہرکیف سیاسی افکار اور جمہوری اقدار سے ہے!
اس میں کوئی شک نہیں امیر جماعت اسلامی نے سیاسی جماعتوں کے مابین سیاسی و جمہوری ڈائیلاگ کا دریچہ کھولا ہے لیکن کب تک ان کا اقبال تاریخ پر منحصر رہے گا، اپنی لیڈر شپ کہاں ہے؟ اپنے اندر کوئی تحریک بھی برپا کریں، کھل کر بتائیں عمران خان کہاں کہاں غلط ہیں، عدالت درست ہے یا پارلیمنٹ؟ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کتنے درست ہیں؟ ثالثی سلامت گر دو ٹوک موقف صداقت، ورنہ ثالثی حملے 17 کر لیں یا 70۔

