سچ کیا ہے؟
سچ کیا ہے؟ یہ سوال قدیم زمانے سے انسانوں کی طرف سے کیا جاتا رہا ہے اور یہ فلسفہ کا ابتدائی اور مرکزی سوال ہے۔ یہ سوال ہر قسم کے علم کا سرچشمہ ہے۔ حتمی سچائی کی تلاش نے مذاہب کے ساتھ ساتھ سائنسی فکر کو بھی جنم دیا ہے۔
یہ سوال کہ کیا ہم جس چیز کو سچ سمجھتے ہیں، وہ واقعی سچی ہے، اس قدیم کہانی سے واضح ہوتا ہے :
ایک غار کے اندر بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دیوار سے زنجیروں میں اس طرح بندھے ہوئے ہیں کہ وہ اپنا سر نہیں ہلا سکتے اور صرف سامنے والی دیوار کو دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ساری زندگی اسی طرح زنجیروں میں جکڑ کر گزاری ہے۔ انہیں دیوار پر سائے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے گھوڑے، گاڑی، مرد، عورت اور بچے جیسی چیزوں کے یہ سائے ہی وہ چیزیں ہیں جو وہ دیکھ سکتے ہیں، اور یہ ان کی پوری حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔
ایک دن، ان لوگوں میں سے ایک اپنی زنجیریں توڑنے کے قابل ہو جاتا ہے، خود کو آزاد کر لیتا ہے، اور ارد گرد دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اسے یہ جان کر بہت حیرت ہوتی ہے کہ وہ تو ساری زندگی ایک غار کے اندر رہا۔ وہ دیکھتا ہے کہ غار کے اندر دیوار کے پیچھے ایک چھوٹی سی گزر گاہ ہے جو بمشکل اتنی چوڑی ہے کہ لوگ اس میں سے گزر سکتے ہیں۔ گزر گاہ میں کچھ لوگ مختلف چیزوں کے اٹھائے ہوئے بینرز یا کٹھ پتلیوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اور گزرگاہ کے پیچھے آگ جل رہی ہے۔
رہائی پانے والا شخص، جو ہمیشہ دیوار پر موجود سائے کو ہی اصل حقیقت مانتا تھا، یہ منظر دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ اسے فوراً احساس ہو جاتا ہے کہ جس چیز کو اس نے حقیقی اشیاء سمجھا، وہ درحقیقت ان چیزوں کے سائے تھے جنہیں لوگوں نے گزرگاہ میں اٹھایا ہوا تھا۔ یہ اس کے لیے ایک نئی دریافت ہے، اور اس آزاد شخص نے فوراً یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اب وہ اصلی حقیقت سے واقف ہے : اٹھائے ہوئے بینر پر موجود اشیاء (گھوڑے، مرد، عورتیں ) واقعی حقیقی ہیں اور جس پر اس نے اپنی زندگی بھر یقین کیا تھا۔ ان کا حقیقی ہونا محض ایک وہم تھا۔
آزاد ہونے والا شخص غار کے دہانے سے کچھ روشنی آتی دیکھتا ہے۔ وہ داخلی دروازے کی سمت آگے بڑھتا ہے اور جلد ہی اپنے آپ کو غار سے باہر پاتا ہے۔ منظر حیرت انگیز ہے۔ وہ گھوڑوں، مردوں اور عورتوں کے دو جہتی ماڈلز کے بجائے ہر قسم کے تین جہتی جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کو سورج کی تیز روشنی میں گھومتے پھرتے ہوئے دیکھتا ہے۔
یہ منظر آزاد ہونے والے شخص کے لیے حیران کن ہے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دیوار پر دو جہتی سائے اس حقیقت کا نقشہ ہیں جو اس کے سامنے ہے۔ اصل حقیقت تلاش کرنے پر اس کا ایمان بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔ کیا یہ چلنے پھرنے والے جانور اور انسان حقیقی ہیں یا یہ بھی کسی مخفی حقیقت کا سایہ ہیں؟ کیا حقیقت کی مزید، حتیٰ کہ لامحدود، پرتیں ہیں؟
یہ کہانی جسے الگوری آف دی کیو (Allegory of the cave) کہا جاتا ہے افلاطون کی کتاب ریپبلک سے آئی ہے جہاں اسے سقراط اور افلاطون کے بھائی گلوکون کے درمیان مکالمے کے طور پر بتایا گیا ہے۔ غار کی تمثیل سچ سے متعلق سوالات کو حل کرنے والی ابتدائی تحریروں میں سے ایک ہے۔ یہ کہانی ایک یاد دہانی ہے کہ کس طرح، جسے ہم مطلق سچائی سمجھتے ہیں، ایک وہم ہو سکتا ہے۔ سچائیوں کی کئی پرتیں ہو سکتی ہیں، ایک دوسرے سے بہتر۔ تاہم، اس سلسلہ کے آخر میں حتمی سچائی مکمل طور پر مخفی ہو سکتی ہے۔
سچائی کی تلاش میں، ہمیں دو قسم کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلا معروضی یا آفاقی سچائی سے متعلق ہے جو کچھ بنیادی سوالات جیسے کہ زماں و مکاں space and time) ) کی نوعیت، کائنات میں ہمارا مقام، زندگی کی اصلیت، موت کا مفہوم، اور سب سے بنیادی سوال: زماں و مکاں کے تانے بانے کا خالق یا منصوبہ ساز جس میں ہم رہتے اور نظر آتے ہیں، کون ہے؟ ان معروضی سوالات کے جوابات کی تلاش فلسفہ اور سائنس کے دائروں میں ہے۔ کیا ہم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں وہ حقیقت ہے یا خواب، یا حقیقت کی ادھوری وضاحت؟ ہو سکتا ہے کہ ہم ان سوالات کے جوابات سے کبھی مطمئن نہ ہوں اور کسی ایک جواب پر کبھی اتفاق رائے نہ ہو سکے۔
سوالات کا دوسرا مجموعہ موضوعی ہے جو زیادہ تر ذاتی سوچ پر مبنی ہوتے ہیں۔ وہ مذہب کی سچائی، کسی کتاب کے الہاٰمی ہونے، اور کسی فرد کی اعلیٰ فطرت کو مخاطب کرتے ہیں۔ یہ سوالات عقائد کے دائرے میں آتے ہیں۔ ایسے عقائد جن کی شاید کوئی عقلی بنیاد نہ ہو، وہ عقائد جو روایات اور تاریخ پر مبنی ہوں، ایسے عقائد جو کسی خاص مذہب کے اندر بھی متضاد ہوں۔ موضوعی سچائیوں کا تعلق خوبصورتی، محبت، نفرت، خواہش، خوف، انصاف اور سب سے اہم صحیح یا غلط کے احساس سے بھی ہے۔
ان دو قسم کی سچائیوں کو ایک مثال سے سمجھا نا چاہوں گا۔
ایک ایکویریم میں مچھلیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، فرض کریں کہ یہ مچھلیاں اپنے وجود کے بارے میں کچھ بنیادی سوالات کے جوابات دینے نکلیں (انہیں کس نے پیدا کیا، یہ ایکوریم کس نے بنایا، یہ رزق کہاں سے آ تا ہے، کیا بعد از موت زندگی ہے، انہیں کس قسم کی زندگی گزارنی چاہیے وغیرہ) ۔ ہم جانتے ہیں کہ حقیقی سچ کبھی بھی ان کی گرفت میں نہیں آ سکتا کیونکہ ان کے پاس اس ڈومین تک رسائی نہیں ہے جو ایکویریم سے باہر ہے۔
اور جہاں زیادہ تر حقیقت موجود ہے۔ مثال کے طور پر ، وہ ایک ایسے خالق پر یقین کر سکتے ہیں جو ان کے وجود کا ذمہ دار ہے اور جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ایکویریم میں کیا ہوتا ہے۔ لیکن وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کیسا خالق ہے۔ انہیں قطعی طور پر اندازہ نہیں ہے کہ آیا صرف ایک کائنات (ان کا ایکویریم) ہے یا کائنات کی ایک بڑی تعداد (دیگر ایکویریم) ہے۔ وہ شاید یہ نہیں جانتیں کہ ہر کائنات (ایکوریم) کا ایک خالق ہے لیکن یہ تمام تخلیق کار خود حتمی سچائی کی تلاش میں ہیں۔
تاہم ایکویریم میں مچھلیاں ذاتی سچائیاں بنا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ، وہ ان قوانین کو تلاش کر سکتی ہیں جن کے تحت ایکویریم کا نظام چل رہا ہے۔ تاہم، یہ قوانین بھی نا مکمل ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر ایکویریم کو باہر سے دھکیل دیا جائے تو کچھ عرصے کے لیے کشش ثقل کے قوانین بدل جائیں گے لیکن ایکویریم کے اندر موجود مچھلیوں کو اس تبدیلی کا ذریعہ کبھی معلوم نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک خدا یا کئی معبودوں کے وجود پر بھی یقین کر سکتے ہیں۔
وہ کچھ مذاہب اور عقائد کے نظام کو تشکیل دے سکتے ہیں جو ان کی اپنی زندگی اور دوسری مچھلیوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ہیں۔ تاہم مچھلی کا علم بہت محدود ہے۔ مچھلی کو بہت سی چیزوں کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر ، ایک مچھلی جس نے اپنی پوری زندگی پانی کے اندر گزاری ہے اور جو پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتی، وہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ پانی سے باہر کی دنیا کیسی ہے۔
یہ مثال بتاتی ہے کہ کس طرح حتمی سچائی جس کے لیے ہم سب کوشش کرتے نظر آتے ہیں اصولی طور پر بہت مخفی ہو سکتی ہے۔ ہماری کائنات ایک ایکویریم کی طرح ہو سکتی ہے، ایک بہت بڑا ایکویریم۔ ایکویریم میں رہتے ہوئے ہم کبھی بھی پوری حقیقت جاننے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ بالکل اسی طرح جس طرح تمثیل میں آزاد آدمی کو سچائی کی اگلی تہہ دیکھنے کے لیے غار سے باہر جانا پڑتا ہے۔ حتمی سچائی کو دیکھنے کے لیے شاید ہمیں اپنی کائنات سے باہر نکلنا ہو گا جو تین جہتی جگہ اور ایک جہتی وقت سے محدود ہے۔ مگر یہ تو ناممکن ہے۔
اس بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مذاہب اور فلسفے کے کچھ پہلو جو ہماری زندگی کا محور ہیں بنیادی طور پر بہت غیر اہم ہیں۔ جس طرح ایکویریم میں مچھلی چاہے کتنی ہی ذہین ہو، اس کے پاس اپنے وجود کے بارے میں کچھ بنیادی سوالات کا جواب دینے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، ہم بھی اصولی طور پر ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔ خدا ہے یا نہیں، ہم میں سے کوئی بھی اس کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
سائنس اور فلسفہ، دونوں کی اپنی حدود ہیں۔ فلسفے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سائنسی سوچ کا منبع ہونے کے باوجود سائنسی حقائق معلوم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انیسویں صدی کے آخر تک سائنس اور فلسفے کے ڈومینز ایک دوسرے سے الگ تصور کیے جاتے تھے۔ تاہم، کوانٹم میکینکس اور نظریہ اضافیت کے قوانین کے ذریعے سائنس ان ڈومینز میں تیزی سے تجاوز کر رہی ہے جنہیں فلسفیوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔
سائنس دانوں کی طرح فلسفیوں کی آراء بھی عقلی تجزیہ پر مبنی ہوتی ہیں۔ لیکن، ان کے نقطہ نظر کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ کبھی بھی کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے جہاں اتفاق رائے ہو۔ نتیجے کے طور پر ، وہ کبھی بھی مطلق سچائی کو حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ سائنس میں صورتحال اس حد تک مختلف ہے کہ، کم از کم ایک مقررہ وقت پر ، کائنات کے قوانین پر ایک عالمگیر یکساں سوچ ہوتی ہے۔ یہ قوانین مشاہدات پر مبنی ہوتے ہیں اور تجرباتی طور پر کوئی بھی انہیں آزما سکتا ہے۔ لیکن جب نئے تجرباتی نتائج سامنے آتے ہیں جن کی موجودہ قوانین سے وضاحت نہیں کی جا سکتی، تو پھر نئے نظریات کی تلاش شروع ہوتی ہے ایسے نظریات جو تمام پرانے نتائج کے ساتھ نئے نتائج کی وضاحت کر سکیں۔ تاہم، سائنس بھی، فی الحال، معروضی حقیقت کی نوعیت سے متعلق بنیادی سوالات کا قطعی جواب دینے سے قاصر ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کبھی وہ وقت آئے گا جب ہم ان حقیقتوں کی سچائی جان پائیں گے جو بنیادی ہیں مگر ہم سے مخفی ہیں؟


