موجودہ سیاسی بحران اور جمہوریت کی بقا


موجودہ سیاسی بحران کا پہلا مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو وزارت عظمی کی کرسی سے ہٹا دیا گیا۔ مگر ان کو اقتدار سے نکالنے والے ایک تو ان سے بہت کوشش کے باوجود تخت پنجاب نہ چھین سکے دوسرے معاشی بدحالی کے نتیجے میں شہباز شریف کی حکومت تیزی سے غیر مقبول ہوتی چلی گئی اور عمران خان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے اوپر آتا چلا گیا۔ پی ڈی ایم کی تجربہ کار ٹیم نہ تو مہنگائی پر قابو پا سکی اور نہ ہی کوئی عوامی ریلیف کا اعلان کر سکی اوپر سے آئی ایف ایم نے سخت ترین شرائط منوانے کے باوجود معاہدے پر دستخط نہ کیے جس سے حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی جاتی رہی۔

سیاسی بحران کا دوسرا مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب عمران خان نے اپنی مقبولیت کو کیش کروانے کے لئے اور پی ڈی ایم کو سیاسی ہزیمت سے دوچار کرنے کے لئے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کو تحلیل کروا دیا۔ ان کا خیال تھا کہ آئین میں دی گئی مدت یعنی نوے دن میں الیکشن ہوں گے اور وہ بھاری اکثریت سے پھر پنجاب میں حکومت بنائیں گے۔ اور دوسرا حکومت کو قبل از وقت جنرل الیکشن کی طرف بھی شاید جانا پڑ جائے۔ مگر پی ڈی ایم کی حکومت نے آئین میں دی گئی مدت میں الیکشن میں جانے سے انکار کر دیا ان کا خیال تھا ان سے جو سخت معاشی فیصلے کروائے گئے ہیں اور جس وجہ سے ان کی سیاسی مقبولیت کو زک پہنچ چکی ہے۔

الیکشن سے جانے سے پہلے ان کو مہلت چاہیے تھی کہ معیشت تھوڑی بہتر ہو اور وہ بہتر نامہ اعمال کے ساتھ انتخابات کے اکھاڑے میں اتریں۔ مگر آئین میں درج مدت کے اندر الیکشن کروانے کے لئے معاملہ جب اعلی عدالتوں میں چلا گیا تو یہ واضح تھا کہ عدالتیں انتخابات کروانے کا ہی حکم صادر کریں گی۔ ان حالات میں اداروں کے درمیان ایک اور سنگین ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ پارلیمنٹ نے دھڑا دھڑ قراردادوں کے ذریعے عدلیہ کے فیصلوں پر اور ججز صاحبان کے کنڈکٹ پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔

فیصلوں کو نہ ماننے کا ببانگ دہل اعلان کر دیا گیا۔ کہا گیا پارلیمنٹ چار تین کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے تو کیا ججز نے چار تین کے ذریعے یہ کہا کہ الیکشن نوے دن یا چار پانچ ماہ میں نہیں ہونے چاہئیں؟ الٹا سپریم کورٹ کو بے وقار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے اپنے بزنس رولز میں ترمیم کے لئے قانون لایا گیا جس کو صدر مملکت نے واپس بھیج دیا کہ آئین نے سپریم کورٹ کو اختیار دیا ہوا ہے کہ وہ اپنے رولز خود وضع کرے گی۔

وزیر قانون صاحب نے بار بار حکومت کو غلط مشورے دے کر بار بار سبکی کروائی۔ وہ شریف الدین پیرزادہ بھی نہیں بن سکتے کہ حکومت کی بھنور میں پھنسی کشتی کو پار لگا دیں گے۔ انتخابات کے لئے درکار رقم دینے سے انکار کر دیا گیا اور اس کے لئے پارلیمنٹ کو عدلیہ کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ اب پی ٹی آئی آرام سے بیٹھی اداروں کے درمیان ہونے والے تصادم کو دیکھ رہی تھی اور امید کر رہی تھی کہ سپریم کورٹ شاید حکومت کو چلتا کرے گی مگر الیکشن ہر حال میں ہوں گے۔

ان حالات میں بھی ججز صاحبان نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور حکومت اور اپوزیشن کو بار بار موقع دیا گیا کہ وہ مل بیٹھ کر مذاکرات کریں اور الیکشن کی ایک تاریخ پر متفق ہو جائیں۔ بالآخر یہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اور ان مذاکرات کی کامیابی ہی ہمارے ملک کے جمہوری نظام کے لئے بہت ضروری ہے۔ دونوں جماعتوں کو مل بیٹھ کر درمیانہ رستہ نکالنا ہو گا۔ آئینی مدت کے اندر الیکشن نہ کروا کر ایک بہت خطرناک نظیر قائم کی جا رہی ہے اور مستقبل میں کوئی نگران حکومت الیکشن کو کسی نہ کسی عذر کے ذریعے التوا میں ڈال کر لمبے عرصے کے لئے براجمان رہ سکتی ہے۔

اور جمہوری پارٹیاں پھر اپنے کھودے گڑھوں میں خود ہی گری ہوں گی۔ ہمارے ملک کے معاشی مسائل اور سیکورٹی کے مسائل تو رہنے ہی ہیں۔ مگر اب تک روایت رہی ہے کہ جنرل ضیا کے بعد اور مشرف کے ابتدائی تین سال نکال کر باقاعدگی سے الیکشن ہوتے رہے ہیں مگر اس مثبت روایت کو جمہوریت کی نام نہاد علمبردار پارٹیاں ہی سبو تاژ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اب اگر الیکشن کے لئے مہلت بڑھانی بھی ہے تو یہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے بڑھانی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی آئینی خلاف ورزی کا رستہ نہ کھولا جائے۔

پی ڈی ایم کو جلد یا بدیر الیکشن میں جانا ہی ہے۔ اب تو مذاکرات کی ناکامی کے بعد الیکشن نہ کروانے کی صورت میں اور سپریم کورٹ کی مسلسل توہین کے بعد اندیشہ ہے کہ نہ صرف تحریک انصاف سڑکوں پر آ کر احتجاج کرے گی بلکہ وکلا برادری بھی احتجاجی تحریک چلا سکتی ہے۔ جس سے سیاسی بے یقینی میں اضافہ ہو گا اور معیشت سدھرنے کی صورت نہیں رہے گی۔ انتقامی کارروائیوں کو بھی روکنا چاہیے اس سے معاشرے میں تقسیم بڑھتی جا رہی ہے جو جمہوریت کے مستقبل کو مزید تاریک کر دے گی۔

Facebook Comments HS