یوم مزدور اور ہم



تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

ہم ہر سال یکم مئی کو یوم مزدور مناتے ہیں۔ سرکاری سطح پر تعطیل کی جاتی ہے، مزدوروں کے حق میں جلسے جلوسوں منعقد کیے جاتے ہیں، بڑی بڑی شخصیات مزدوروں کی عظمت پر تقریریں کرتی ہیں، ادیب اور دانشور طبقہ ان کے حق میں قلم اٹھاتا ہے لیکن ان سب چیزوں سے بے خبر ایک مزدور اس دن بھی بنا تعطیل کے یا تو کسی بھٹے پر اینٹیں ڈھو رہا ہوتا ہے یا پھر کسی کھیت میں جان توڑ محنت کر رہا ہوتا ہے۔ کیوں کہ دنیا کی تمام تقریریں، تحریریں اور ریلیاں کسی مزدور یا کسان کا پیٹ نہیں بھر سکتیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایک طرف تو مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کی جا رہی ہوتی ہے دوسری طرف مزدوروں اور کسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہوتا ہے۔

بچپن ہی سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یکم مئی کو مزدوروں کا دن اس لیے جاتا ہے کہ یہ طبقہ محنت و جفا کشی کی علامت ہے لیکن اب جا کر معلوم پڑا کہ یہ امریکہ میں مزدوروں کے قتل عام ہونے کی مناسبت سے ان کے ساتھ یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے جو کہ ایک لالی پاپ سے زیادہ کچھ نہیں۔ خبروں میں ٹی وی پر یا کہیں بھی سرکاری سطح پر یہ نہیں بتایا جائے گا کہ اس دن کو اس قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے جب سرمایہ دار نظام نے طاقت کے نشے میں مست ہو کر اپنے حقوق کی خاطر نکلنے والے پسے ہوئے طبقے پر اپنی طاقت کا بہیمانہ استعمال کیا اور ان کو یہ باور کرایا گیا کہ تم لوگ ہمارے سامنے کچھ بھی نہیں۔ ہم لوگ تمہارے ساتھ جو چاہیں وہ سلوک کریں گے۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے مزدوروں کے لیے قوانین تو بنا دیے ان کے کام کے اوقات کار 8 گھنٹے تک تو مقرر کر دیے ان کو ایک چھٹی کا حق بھی دے دیا لیکن ان سب سے ان کے حالات میں بھی بہتری آئی؟ کیا اس سب سے ان کو معاشرے میں یکساں حقوق میسر آ گئے؟ کیا اس کے بچوں کی تعلیم کا بندو بست ہو گیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں چائلڈ لیبر ایکٹ تو بنا دیا گیا لیکن اس پر عمل کتنا ہوا؟ آج بھی کسی بھٹے پر چلے جائیں آپ کو چھوٹے چھوٹے بچے کام کرتے دکھائی دیں گے۔ کسی مل یا فیکٹری کا چکر لگا لیں آپ کو نابالغ بچے ملیں گے۔ کیا سب انتظامیہ کی لا علمی میں کیا جاتا ہے؟ کیا ان بھٹوں اور فیکٹریوں کے مالکان اتنے طاقتور ہیں کہ ان سے پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ ایک طرف تو ہماری حکومتیں یکساں تعلیم کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف استحصال شدہ طبقے کی تعلیم کا مناسب بندوبست کیوں نہیں کیا جاتا؟ جب ایک آدمی کی اجرت اس کی ضروریات سے کہیں کم ہو گی تو وہ بچوں کو تعلیم کہاں سے دلائے گا وہ تو شروع ہی سے بچے کو مزدوری پہ ڈالے گا تاکہ ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اور جب اس بندے کو آپ یہ کہیں گے کہ بچے کو مزدوری سے اٹھا کر سکول میں داخل کراؤ تو وہ آپ کی بات پر ہنسنے کے سوا کیا کر سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے بلند و بانگ دعووں کی بجائے عملی کام کیا جائے۔ مزدوروں کے حق میں ریلیاں نکال کر یا تقریریں کر کے ان کا پیٹ نہیں بھرا جا سکتا بلکہ ان کو معاشرے میں یکساں حقوق دے کر ان کے لیے عملی اقدامات اٹھا کر ان کے لیے بہتری پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس بات کو عام کرنا ہو گا کہ مزدور اور کسان طبقہ ہی کسی معاشرے کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں اور ان کا بھی معاشرے پر اتنا ہی حق ہے جتنا ایک سرمایہ دار کا یا شاید اس سے بھی کچھ زیادہ۔ اس لیے سرمایہ داری کے خود غرضانہ قوانین کو ختم کر کے برابری کی سطح پر قانون بنائے جائیں اور اس طبقے کو دوسروں کے برابر لایا جائے۔

میں نے انورؔ اس لیے باندھی کلائی پر گھڑی
وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ

Facebook Comments HS