آئینی و سیاسی بحران۔ وزیر اعظم کا اعتماد ووٹ

پاکستان کی بدقسمتی کہیے یا کچھ اور پچھلے 75 سال سے پاکستان آئینی و سیاسی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک بار بار آئین سے ”کھلواڑ“ ہو تا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان میں آئین سب سے زیادہ مظلوم دستاویز ہے جسے کبھی معطل کر کے وزارت قانون و انصاف کی ”الماریوں“ بند کر دیا جاتا ہے۔ کبھی اسے فوجی بوٹوں تلے روندا جاتا ہے لیکن 1973 ء کا آئین اس قدر سخت جان ثابت ہوا ہے۔ آمروں کی تمام تر ”ریشہ دوانیوں اور چیرہ دستیوں“ کے باوجود اپنی پوری قوت سے قائم و دائم ہے۔
آج بھی آئینی و سیاسی تنازعات میں آئین ”رولنگ سٹون“ بنا ہوا ہے۔ عدلیہ اور مقننہ کے درمیان آئین 1973 ء کی اپنی مرضی کی تشریحات کرنے کا مقابلہ جاری ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں ہیجان کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ قومی یا صوبائی کے تحلیل ہونے پر جہاں 90 روز کے اندر انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے۔ وہاں آئین میں مخصوص حالات میں 90 روز میں انتخابات نہ کرانے کی گنجائش موجود ہے۔ مقننہ عدلیہ کی کوئی ہدایت قبول کرنے کے لئے تیار نظر آ رہی ہے اور نہ ہی عدلیہ حکومت کو کوئی ریلیف دینا چاہتی ہے۔
گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حکومت کو اپنے آگے لگا رکھا ہے جب کہ حکومت نے بھی پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لئے فنڈز کی فراہمی کا معاملہ پارلیمان کے سامنے پیش کر کے ”محفوظ“ انداز میں کھیل کھیلا ہے۔ کھیل کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ کسی کو معلوم نہیں کل کیا ہونے والا ہے۔ سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ بھی بیٹھا ہوا اس نے تا حال کوئی حکم جاری کیا اور نہ ہی وزیر اعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس بھی جاری ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اچانک اعتماد کا ووٹ لے کر سیاسی حلقوں کو سرپرائز دیا ہے اگرچہ سیاسی حلقوں میں وزیر اعظم شہباز شریف کے اعتماد کا ووٹ لینے کی افواہ پھیلی ہوئی تھی لیکن حکومتی ترجمان مریم اورنگ زیب نے وزیر اعظم شہباز شریف کے اعتماد کا ووٹ لینے کی سختی سے تردید کر دی تھی اور کہا کہ وزیر اعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ نہیں کیا ایسی کوئی مشاورت ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔
عوام، پارٹی اتحادی جماعتوں کے متفقہ امیدوار کی حیثیت سے شہباز شریف 11 اپریل 2022 ء کو اعتماد کا ووٹ لے چکے ہیں۔ من گھڑت افواہ حقیقت نہیں میڈیا بغیر تصدیق وزیر اعظم کے بارے میں خبریں نہ چلائے لیکن دو روز بعد جمعرات کو کو وزیر اعظم ہاؤس میں ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانہ میں گنتی پوری ہونے کے فوراً وزیر اعظم نے اعتماد کا ووٹ لے لیا ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومتی ترجمان کو اس بارے میں پہلے کچھ بھی علم نہیں تھا جس پھر سیاسی حکمت عملی کے طور اعتماد کا ووٹ لینے کی خبر کی تردید کر دی بہر حال وزیر اعظم شہباز شریف نے 180 ووٹ لے کر یہ ثابت کر دکھایا کہ ان کو پارلیمان کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔
اسپیکر نے ایوان میں بیٹھی ”سرکاری اپوزیشن“ سے قرارداد کے حق یا مخالفت میں رائے لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی یہ بات قابل ذکر ہے کہ 11 اپریل 2023 ء کو وزیر اعظم کو 174 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا تھا۔ اسپیکر نے خاص طور پر مفتی عبدالشکور کا ذکر کیا اور کہا کہ ”اگر وہ آج زندہ ہوتے تو یہ تعداد 181 ہوجاتی“ سوال یہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کی نوبت کیوں پیش آئی اس کا جواب یہ ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی فیصلہ کو قبول نہ کرنے پر ان کے سر پر نا اہلی کی تلوار لٹکی نظر آ رہی تھی جس کی انہوں نے پیش بندی کی ہے اور انہوں نے تمام ریاستی اداروں کو باور کرا دیا ہے کہ ان کی پشت پر پوری پارلیمنٹ کھڑی ہے۔ اگر ان کو نا اہل قرار دیا گیا تو پوری پارلیمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ پارلیمان میں عدلیہ کے تین ججوں کو مجلس قائمہ کے اجلاس میں طلب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر مجھے پارلیمان کے فیصلے کے خلاف نا اہل کر نا چاہتے ہیں تو میں بھی ہزار بار گھر جانے کے لئے تیار ہوں“ انہوں نے سینیٹ میں اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے اپنے نمائندے بھجوانے کا عندیہ دیا ہے لیکن مولانا فضل الرحمنٰ نے نہ صرف عمران خان سے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے بلکہ آئین کے تحفظ کی ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے واضح کر دیا ہے۔ ”بات چیت کا ایجنڈا پورے پاکستان میں ایک روز الیکشن ہے۔“ وزیر اعظم کی تقریر کا اہم نکتہ یہ بھی ہے۔ وہ 2018 ء کے ”جھرلو“ انتخابات کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں۔ اس تحقیقات سے ایک نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ دھاندلی میں ملوث کئی پردہ نشینوں کے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے کے کچھ دیر بعد ہی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ شنید ہے۔
پی ٹی آئی نے اسمبلیوں کی تحلیل، آئین میں ترامیم اور جولائی میں عام انتخابات کے انعقاد بارے کچھ شرائط پیش کی ہیں۔ پی ٹی آئی کی شرط ہے کہ رواں سال مئی میں قومی اسمبلی اور دونوں صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کی جائیں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک روز کرانے کے لئے آئین میں ترمیم کی جائے اور آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے واپس لئے جائیں ایسا دکھائی دیتا ہے۔ پی ٹی اسمبلیوں سے باہر نکل کر پچھتا رہی ہے اور کسی طرح پارلیمنٹ میں دوبارہ واپس آنا چاہتی ہے۔
سر دست حکومت اپوزیشن کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا مذاکرات ”نشستند، گفتند برخواستند“ آگے نہیں بڑھ سکی ایسا دکھائی دیتا ہے۔ حکومت اتمام حجت کے لئے اپوزیشن سے مذاکرات کر رہی ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے کہ ”حکومت سنجیدہ ہے تو خود اقدام اٹھاتی، مذاکرات کرنے پر عدالت مجبور نہیں کر سکتی حکومت کا کوئی حکم نہیں محض تجویز ہے۔
لگتا ہے حکومت صرف ”پاس پاس“ کھیل رہی ہے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے کوئی حل نہ نکلا تو تو آئین تو موجود ہے اور ہمارا فیصلہ بھی ہم کوئی ہدایت جاری کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی ٹائم فریم جری کر رہے ہیں۔ اس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کریں گے۔ اس سلسلے میں مناسب حکم نامہ جاری کریں گے۔ اب دیکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرتی ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صورت حال واضح ہو جائے گی کہ سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
