یوم مئی، شکاگو کے شہداء اور پاکستانی انقلابی
یوں تو یوم مئی دنیا بھر کی طرح پاکستان اور برطانیہ میں بھی منایا جاتا ہے، لیکن اس مرتبہ یوم مئی پر بالکل مختلف تقریب منعقد کی گئی۔ عوامی ورکرز پارٹی (پاکستان) برطانیہ کی جانب سے 29 اپریل کو منعقد کی گئی اس ورچوئل تقریب میں شکاگو کے شہدا کو خراج عقیدت بھی تھا، حال ہی میں انتقال کر جانے والے تین پاکستانی انقلابیوں کو خراج عقیدت بھی۔ یوم مئی کی مناسبت سے پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات، ٹریڈ یونین تحریک کا بحران، بالخصوص سوویت یونین کے انہدام کے بعد ٹریڈ یونین تحریک کا بکھر جانا اور پاکستان کے بکھرے ہوئے بائیں بازو، کسانوں، مزدوروں، خواتین، طلباء، مصنفین اور محنت کش و محنت کار عوام کو اکٹھا کر کے ایک متحدہ، منظم اور جاندار ترقی پسند تحریک پیدا کرنے کے خد و خال پر سیر حاصل گفتگو بھی تھی۔ اس تقریب کے ماڈریٹر اور گفتگو کی سمت کے تعین کی ذمہ داری راقم پر ڈال دی گئی تھی۔
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یوم مئی کے شہداء نے انسانیت کی بقا، انسانی حقوق اور بہتر مستقبل کی جنگ لڑی۔ اس زمانے میں روزانہ 16 سے 20 گھنٹے کام لیا جاتا تھا، معاوضہ محدود ملتا تھا اور چھٹی بھی نہیں ملتی تھی۔ آج 8 گھنٹے کام کے اوقات اور ہفتہ میں دو چھٹیاں شکاگو کی شہیدوں کی قربانیوں ہی کا ثمر ہے۔ آج کے جدید دور میں محنت کرنے والے انسانی ذہنوں نے نئی نئی ایجادات و تخلیقات کیں ہیں، لیکن اس کا ثمر سرمایہ دار ہڑپ کر ہے۔
محنت کشوں کی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے اور ٹریڈ یونین قوانین سے فرار کے لیے ٹھیکیداری نظام نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے خاتمہ اور مزدوروں کو معاشی، سیاسی اور سماجی حقوق دیے بغیر ترقی کے خواب ادھورے رہیں گے۔ ملک کے 99 فیصد محنت کش طبقات اور محنت کار عوام میں شعور کی کمی اور عدم اتحاد کی وجہ سے 1 فیصد اشرفیہ اور لٹیرے ان پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ تقریب یوم مئی کے شہداء کے ساتھ ساتھ حال ہی میں انتقال کر جانے والے خیبر پختون خواہ سے انقلابی راہنما لالہ عبدالطیف آفریدی، نیوکاسل سے عبدالرشید سرابھا اور ساہیوال سے قسور مبارک بٹ کی جدوجہد اور قربانیوں پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا، جنہوں نے زندگی بھر ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات کو منظم کر کے سیاسی دھارے میں شامل کرنے اور سماجی انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد کی۔
تقریب کے مہمان پاکستان کے بزرگ مزدور راہنما اور ریلوے ورکرز یونین کے چیرمین منظور احمد رضی، بھٹہ مزدور فیڈریشن پاکستان اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن پنجاب کی صدر نصرت بشیر ظفر اور عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کی جنرل سیکرٹری محترمہ عابدہ چوہدری ایڈووکیٹ تھے۔ تقریب کی صدارت عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے صدر اور نامور ادیب و صحافی محبوب الہی بٹ نے سرانجام دیے۔
قریب میں مزدور راہنماؤں منظور احمد رضی، نصرت بشیر ظفر اور عابدہ چوہدری نے یوم مئی، مزدور تحریک، پاکستان میں محنت کشوں کے استحصال اور ایک متحدہ، منظم اور مضبوط مزدور تحریک بارے سیر حاصل گفتگو کی۔ عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے نائب صدر صغیر احمد اور اکسفورڈ سے نامور ترقی پسند ادیب، شاعرہ اور عوامی ورکرز پارٹی پاکستان کی فیڈرل کمیٹی کی رکن محترمہ نزہت عباس نے نامور سوشلسٹ راہنما عبدالرشید سرابھا بارے، عوامی ورکرز پارٹی خیبر پختون خواہ کے صدر حیدر زمان اخونزادہ، مانچسٹر سے ترقی پسند ادیب اور پارٹی کے سینئر راہنما ذاکر حسین ایڈووکیٹ اور بریڈفورڈ سے پارٹی نارتھ برطانیہ کے جنرل سیکرٹری لالہ محمد یونس نے لالہ لطیف آفریدی بارے، اور پاکپتن سے ضلعی صدر رانا اورنگ زیب عالمگیر، سٹوک آن ٹرینٹ سے نامور ترقی پسند دانشور اور قومی محاذ آزادی کے مرکزی رہنما وقاص بٹ، ساہیوال سے پروفیسر عمران کمیانہ اور پروفیسر اورنگ زیب نے مادری زبان و کلچر کے روح رواں قسور مبارک بٹ کی زندگی، جدوجہد، محنت کش طبقات کو منظم کرنے اور استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے ان کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔
پاکستان کے نامور ترقی پسند راہنما حسام الحق، مانچسٹر سے ترقی پسند شاعرہ محترمہ عاصمہ اعظم، اوکاڑہ سے ترقی پسند دانشور اور عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے راہنما احتشام اکبر اور پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کے صدر چوہدری پرویز مسیح نے محنت کش طبقات اور بائیں بازو کی سیاست کو متحد و منظم کر کے ملک میں حقیقی سماجی تبدیلی کی تحریک پیدا کرنے کی ضرورت اور عملی جدوجہد پر روشنی ڈالی، تاکہ ایک متبادل ترقی پسند سیاست منظم کر کے انتہا پسندی کا قلع قمع کیا جا سکے۔
مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے یوم مئی کے پس منظر اور مستقبل میں تحریک کو یکجا کرنے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یوم مئی ہر سال امریکہ کے شہر شکاگو میں یکم مئی 1886 ء کو محنت کشوں کے وحشیانہ قتل عام کے خلاف، اور شکاگو کے شہیدوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس زمانے میں محنت کشوں کے ساتھ انتہائی انسانیت سوز سلوک کیا جاتا تھا، روزانہ 16 سے 20 گھنٹے کام لیا جاتا تھا، اجرت محدود اور چھٹیوں کی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔
مزدوروں کے استحصال اور ان پر وحشیانہ جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے یکم مئی 1886 ء کو امریکہ بھر میں 13,000 اداروں کے 300,000 سے زیادہ مزدور ہڑتال کر کے سڑکوں پر آ گئے۔ ان کے مطالبات تھے کہ تمام مزدوروں کے کام کے اوقات کار 8 گھنٹے یومیہ مقرر کیے جائیں، ہفتہ میں ایک چھٹی دی جائے، مزدوروں کے علاج معالجہ کی ذمہ داری لی جائے، دوران ڈیوٹی کوئی مزدور اگر زخمی ہو جائے، یا پھر انتقال کر جائے تو اس کا معقول معاوضہ ادا کیا جائے، اور مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کا مناسب بندوبست کیا جائے۔ ان حالات میں مزدوروں کی تحریک چلی، پر امن ہڑتال ہوئی تو اسے کچلنے کے لیے ظالم حکمرانوں نے ان کا وحشیانہ طریقے سے قتل عام کر دیا، اور ان کے راہنما کو پھانسیاں دے دیں۔
ظلم، جبر اور بربریت کے ان حالات میں یکم مئی امریکی محنت کشوں کے لئے ایک ایسا دن بن کر ابھر رہا تھا جب آٹھ گھنٹے کام کو قانونی حیثیت مل سکتی تھی، مطالبہ ایک ہی تھا کام صرف آٹھ گھنٹے روزانہ۔ امریکی شہر شکاگو میں یکم مئی 1886 ء کے روز 40,000 سے زیادہ مزدوروں نے ہڑتال شروع کر دی تو اس روز مزدور راہنماؤں کی انقلابی تقریروں نے ماحول گرما دیا۔ البرٹ پارسن، جو ہان موسٹ، اگست سپائز اور لوئی لنگ کی تقریروں نے ان رہنماؤں کو گھر گھر مقبول کر دیا۔ ہر فرد ان کو جاننے لگ گیا۔ مظاہرین کی تعداد مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ تین مئی کو ہنگامے شروع ہو گئے۔ پولیس نے تشدد سے کام لینا شروع کیا اور لاٹھی چارج سے دو ہڑتالی مزدور شہید ہو گئے۔ لاتعداد زخمی بھی ہوئے۔ چار مئی کو اس واقعے کے خلاف مزدوروں نے ”ہے مارکیٹ“ کے مقام پر ایک جلسے کا اعلان کیا۔
اس روز بارش شدید تھی۔ کوئی تین ہزار مزدور وہاں پہنچے۔ ان میں بچے اور عورتیں بھی شریک تھے اور شکاگو کا مئیر بھی اس جلسے میں موجود تھا۔ اگست سپائز پرجوش تقریر کر رہا تھا کہ پولیس نے دھاوا بول دیا۔ اسی دوران اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کے لئے کسی نامعلوم فرد نے پولیس وین پر ایک بم پھینک دیا، جس سے ایک پولیس افسر ہلاک ہو گیا۔ پولیس کی فائرنگ سے سات مزدور بھی شہید ہو گئے اور چالیس زخمی ہو گئے۔ اس دوران مزدور اپنی سفید شرٹوں کو سرخ خون سے رنگ کر لہراتے رہے اور یوں سرخ رنگ محنت کشوں کی جدوجہد، قربانی اور عزم کا نشان بن گیا۔
پولیس نے آٹھ مزدور رہنماؤں کو گرفتار کیا اور ان پر قتل کا مقدمہ ڈال دیا۔ ان میں البرٹ پارسن، اگست سپائز، سیموئل فیلڈن، اسکر نیبی، مائیکل سخواب، جارج اینگلز، ایڈولف فشر اور لوئی لنگ شامل تھے۔ اگرچہ ان میں سے صرف تین رہنما اس روز ”ہے مارکیٹ“ میں موجود تھے۔ 11 نومبر 1887 ء کو پارسن، سپائز، اینگلز اور فشر کو ملک بھر میں مظاہروں اور احتجاج کے باوجود پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ جبکہ لوئی لنگ نے پھانسی سے ایک روز قبل خود ہی اپنی جان لے لی۔
یہ آٹھ گھنٹے کام کی تحریک کے شہدا تھے۔ جبکہ دیگر تین کو چھ چھ سال کی سزا سنائی گئی تو یہ سزائیں انہیں مزدور تحریک کی قیادت کرنے پر سنائی گئی تھیں۔ مگر بہانہ بم دھماکے اور تخریب کاری کو بنایا گیا۔ پھانسی کے تختے پر چڑھنے والے مزدور رہنماوں نے گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے تاریخی فقرے جرات کے ساتھ کہے : تم ہمیں جسمانی طور پر ختم کر سکتے ہو لیکن ہماری آواز نہیں دبا سکو گے۔ پھانسیوں کے اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ کام کے اوقات کار آٹھ گھنٹے روزانہ مقرر کیے جائیں۔
امریکہ میں بھی 1887 ء میں ہی سرکاری طور پر کام کے اوقات کار آٹھ گھنٹے مقرر کر دیے گئے۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر دنیا بھر کے محنت کشوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار حاصل کیے ۔ دوسری انٹرنیشنل (محنت کشوں کی عالمی تنظیم) کی 1889 ء میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل سوشلسٹ کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ یوم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے۔ اس اجلاس کی صدارت عظیم مارکسی استاد فریڈرک اینگلز نے کی تھی۔ 1889 ء کے بعد سے یکم مئی کا دن دنیا بھر میں محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس روز محنت کش اپنی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے تک جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔
مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کی پاکستان جیسے ممالک میں بعض جگہوں پر مزدوروں سے آج بھی 16، 16 گھنٹے تک کام لیا جاتا ہے اور ایسے بھی کارخانے ہیں جہاں مزدوروں کو ان 16 گھنٹے لیے گئے کام کی اجرت کی بجائے 8 گھنٹے کی اجرت دی جاتی ہے، مگر اشرافیہ اور حکمرانوں نے ہمیشہ مزدوروں کے مفاد کے بجائے ان کارخانہ داروں کے مفاد کو مقدم رکھا۔ آج کی نسل کے محنت کشوں کو یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ یوم مئی ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے کیونکہ محنت کش طبقے کو کنفیوز کرنے کے لئے استحصالی حکمران بھی ان سے یکجہتی کا ڈرامہ رچاتے ہیں۔
ایسا کیسے ممکن ہے کہ مزدوروں کے مفاد پر کاری ضرب لگانے والوں کو مزدوروں اور محنت کشوں کا درد ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام جو اس وقت اپنے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اور محنت کشوں کے خون کا آخری قطرہ بھی چوسنے پر تلا ہوا ہے، اپنی تمام تر کوششیں اپنا منافع بڑھانے کے لئے کر رہا ہے، نہ کہ مزدوروں کی زندگی سہل بنانے کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم محنت کش ملک کے حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انتخابات کو اشرافیہ کا کھیل بنانے کی بجائے انتخابی اصلاحات کے ذریعے پارلیمنٹ میں کسانوں، مزدوروں، محنت کش خواتین اور مردوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے اور مزدوروں کے لئے ہر صوبے سے مخصوص نشستیں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مختص کی جائیں، کیوں کہ موجودہ انتخابی نظام میں صرف سرمایہ دار، صنعت کار اور جاگیردار تو اسمبلیوں میں پہنچ سکتے ہیں مگر محنت کشوں کے لئے اسمبلیوں میں پہنچنا ناممکن ہے۔
موجودہ حکمران الیٹ کلاس جو مسلم لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی پر مشتمل ہے، نے ہمیشہ مزدوروں کو فراموش کیا، ملک کی سب سے بڑی اکثریت اقلیت بن چکی ہے اور اس پر 1 فیصد اشرفیہ حکمرانی کر رہی ہے۔ ہم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مزدوروں اور محنت کشوں کو سیاسی فیصلوں میں شامل کیا جائے یہ تب ہی ممکن ہے جب مزدور پارلیمان کا حصہ بنیں گے۔
عبدالرشید سرابھا کی زندگی اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ نزہت عباس اور محمد صغیر نے کہ لدھیانہ، مشرقی پنجاب کے گاؤں سرابھا میں پرورش پانے والے عبدالرشید سرابھا نقل مکانی کر کے پاکستان آئے تو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے گاؤں سرابھا ہی میں آباد ہوئے۔ 60 کی دہائی میں وہ میٹرک کا امتحان دے کر روٹی روزگار کی تلاش میں کراچی گئے تو ایک مشاعرہ میں حبیب جالب اور فیض احمد فیض کا کلام سن کر متاثر ہوئے اور واپس ٹوبہ آ کر پاکستان کسان کمیٹی کے تحت کسانوں میں کام شروع کر دیا۔
پھر برطانیہ چلے آئے اور طارق علی کے ساتھ مل کر ویت نام پر امریکی جارحیت کے خلاف ابھرنے والی تحریک کی قیادت کرنے لگے۔ ٹیکسٹائل ملوں میں ملازمت کے ساتھ ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے اور ان کا گھر برصغیر سے آنے والوں کے ملازمت فارم بھرنے کا کمیونٹی سینٹر بن گیا۔ بعد ازاں نیوکاسل منتقل ہو گئے اور ٹریڈ یونین تحریک کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی برطانیہ کے ایکٹیو رکن بن گئے۔ برطانیہ کی تاریخی کوئل مائنرز سٹرائیک ہوئی تو لاکھوں مزدور بے روز گار ہو گئے اور ان کے حالات فاقوں تک جا پہنچے۔
رشیس سرابھا اور ان کی بیٹی نجمہ پروین نے اپنے گروسری اسٹور کو بے روزگار مزدوروں کو مفت خوراک مہیا کرنے کا مرکز بنا دیا۔ وہ ایک بہترین شاعر، کالم نویس اور سرگرم انقلابی تھے اور برطانیہ و پاکستان میں ترقی پسند تحریک کی ترویج و ترقی کے کیے سرگرمی سے کام کرتے رہے۔ 2012 ء میں پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں کے انضمام سے عوامی ورکرز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو وہ نارتھ برطانیہ پارٹی کے صدر منتخب ہوئے، اور ایک لمبا عرصہ تک ہماری قیادت کرتے رہے۔ وہ 28 نومبر 2022 ء کو نیوکاسل میں کینسر سے لڑتے لڑتے ہم سے جدا ہو گئے۔
لالہ عبدالطیف آفریدی کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہو حیدر زمان، ذاکر حسین اور محمد یونس نے کہا کہ وہ پاکستان کی ترقی پسند تحریک کا بہت بڑا نام تھے۔ وہ بائیں بازو کے ان سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے جو ساٹھ کی دہائی کے آخر میں عوامی تحریک میں ابھرے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک ترقی پسند طالب علم رہنما کے طور پر کیا۔ لالہ نے پختونخوا اور دیگر جگہوں پر محنت کش طبقے اور کسانوں کو منظم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
انہوں نے مزدور کسان پارٹی، کمیونسٹ پارٹی، اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ کام کیا۔ بعد ازاں ایک جمہوری۔ سوشلسٹ معاشرے کی تشکیل کے لیے قومی انقلابی پارٹی بنائی۔ ایک مستقل جمہوریت پسند کی حیثیت سے انہوں نے جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے چاروں فوجی آمروں کے خلاف جدوجہد کی، اور انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ وہ وکلاء کے تحریک کے بھی روح رواں تھے اور ہائی کورٹ بار پشاور اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ انہوں نے غریب مزدوروں اور ان کی ٹریڈ یونین کے مقدمات ہمیشہ مفت لڑے۔ لالہ 16 جنوری 2023 ء کو ایک قبائلی جھگڑے میں بغیر کسی قصور کے شہید کر دیے گئے۔
قسور مبارک بٹ کی جدوجہد کا ذکر کرتے رانا اورنگ زیب عالمگیر، وقاص بٹ، پروفیسر عمران کمیانہ، اور پروفیسر اورنگ زیب نے کہا کہ وہ پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب، شاعر، پنجابی زبان و کلچر کی تحریک کے سالار تھے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ترقی پسند سیاست سے وابستہ ہو گئے تھے، اور وہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری رہے۔ ساہیوال کالج کی یونین کا الیکشن بھی جیتا اور بعد ازاں انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کے طور پر کیا۔
انہوں نے ترویج پنجابی کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں۔ وہ ساہیوال سے شائع ہونے والے پنجابی اخبار لوک لہر کے مدیر بھی رہے۔ وہ پنجابی زبان کی جدید کلاسک روایت کے شاعر تھے، اور ان کا کلام اپنے ہم عصر شاعروں کے حوالے سے بے مثال رہا۔ انہوں نے بطور جدید صوفی شاعر سندھ/ ہڑپہ تہذیب کے امتزاج کے ساتھ اپنی مادری زبان کے جدید ادب کو تقویت دینے کے لیے اپنی شاعری کے ذریعے بنیادی کردار ادا کیا۔ 80 کی دہائی کے وسط میں میری بھی ان سے قریبی دوستی رہی جب میں انجنیئرنگ یونیورسٹی لاہور میں زیر تعلیم تھا اور سوشلسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا جنرل سیکرٹری تھا۔
ہم شام کو لا کالج ہاسٹل لاہور میں ارشد چوہدری کے ہاں بیٹھتے تھے اور ضیاء آمریت کے خلاف مزاحمت ہماری بحثوں کا موضوع ہوتا تھا۔ قسور بٹ آمریت کے دور میں بھی وہ ایک دبنگ سیاسی کارکن کے طور پر مزاحمت کی آواز بنے رہے۔ وہ میرے والد کامریڈ چوہدری فتح محمد کے ساتھ بھی تین ماہ جہلم جیل میں رہے۔ کامریڈ قسور بٹ کا 14 دسمبر 2022 ء کو انتقال ہو گیا تھا۔
تقریب میں ایک قرارداد کے ذریعے گوجرانوالہ سے نامور ترقی پسند راہنما سید قربان علی شاہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور ان کے اہل خانہ، دوستوں اور انقلابی ساتھیوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ تقریب کے آخر میں مقررین نے کہا کہ شکاگو کے مزدوروں نے انیسویں صدی میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر 8 گھنٹے یونیورسل شفٹ اور سوشل سیکورٹی کا جو فلسفہ دیا تھا، آج اس سے نہ صرف مزدوروں بلکہ دنیا بھر کے انجنیئر، ڈاکٹر، اساتذہ، سائنس دان اور صنعتکاروں سمیت ہر شعبہ زندگی کے انسان مستفید ہو رہے ہیں۔
آئین ہم بھی اپنے ممالک میں ظلم، جبر، لوٹ کھسوٹ، سماجی نا انصافیوں اور استحصال کے خاتمہ کے لیے ایک مضبوط، منظم، متحرک اور متحدہ ترقی پسند تحریک کی بنیاد رکھیں۔ اگر ہم ترقی پسند متبادل لے کر عوامی آواز نہ بن پائے تو موجودہ خلاء کو پر کرنے کے لیے انتہا پسند آ جائیں گے، اور ملک ایک بار پھر طویل آمریت کی گود میں چلا جائے گا۔ اس وقت ایک وسیع تر ترقی پسند تحریک ہی حقیقی متبادل بن سکتی ہے، جس میں ہر شہری کو تعلیم، صحت، روز گار کی ضمانت اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ یہی یوم مئی کے شہداء کو بہترین خراج عقیدت ہو گا۔


