اقتداری جال اور ماہر شکاری


سیاست کی الجھتی گتھیاں ایسی ہیں کہ سلجھائے بھی نہ سلجھیں کیونکہ اس کے پیچھے خاص مقاصد ہوتے ہیں، جب تک ان کے حصول کا کوئی سبب نہ بنے، گتھیوں کو مزید الجھائے رکھنے میں ہی عافیت جانی جاتی ہے۔ تاکہ جن مفادات کے لیے کام ہو رہا ہے ان کو انجام دیا جا سکے۔

مفادات کے حصول کے لیے جب کوئی صورت نہ بن پڑے تو شکاری بڑی خوبصورتی سے ایسا جال بچھاتا ہے کہ اس کا شکار خود بخود شکنجے میں آ جائے۔ شکاری کے بچھائے جال میں اکثر اڑان میں ماہر پرندے ہی پھنستے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ خوبصورت جال صرف فریب نظر ہے۔ لیکن کشش ہی ایسی ہے کہ پرندے بھی روکے نہ رکیں۔

یہی حال ہماری سیاست کا ہے جہاں ’اقتداری جال‘ بچھایا جاتا ہے اور موقع کی تلاش میں بیٹھی سیاسی جماعتیں اس جال میں پھنسنے کے لیے بے تاب نظر آتی ہیں۔ یہ جال پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مطلب، من پسند اور خواہش کے عین مطابق چلنے والے سیاسی پرندے کو دیا جاتا ہے۔ جہاں پرندے کی چال بدلی وہیں پر کاٹ کر جال سے باہر پھینک دیا جاتا ہے ۔

ایسا ہی ایک جال بڑی خوبصورتی سے عمران خان کے آگے پھینکا گیا جس میں ’نئے انتخابات‘ کرانے کے دانے گرائے گئے اور عمران خان پرندوں کی طرح صرف دانے دیکھتے ہی خوشی خوشی اس جال میں آ گئے۔ جس طرح پرندہ دانہ ڈالنے والے کو ہمدرد سمجھتا ہے بالکل اسی طرح عمران خان کے ساتھ بھی ہوا، جو دانہ چگنے کی خواہش میں جال میں پھنستے چلے گئے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت انتخابات کاجو پتہ عمران خان کے آگے پھینکا گیا اب اس سے نکلنے کی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔

اس جال کو کاٹنے کے لیے مذاکرات کی ایک گتھی میز پر رکھی گئی تھی لیکن وہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھنے کا سبب بن رہی ہے۔ اور سپریم کورٹ کی مداخلت بھی رہائی کا کوئی خاص پروانہ بنتی نظر نہیں آ رہی کیونکہ انتخابات کی راہ ہموار ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر تو بٹھا دیا گیا لیکن پھر بھی کوئی احتجاج کے لیے تیار ہے تو کوئی احتجاج کی آڑ میں برائے نام مذاکرات کے خاتمے کے لیے۔ مرتے کیا نہ کرتے ارباب اختیار کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ پھر جن میں خوب انا ہوتی ہے موقع دیکھتے ہی ان کو جھکنا بھی خوب آتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انکار کی صورت دور بیٹھے پرندے بھی شکاری کے شکنجے میں آ سکتے ہیں۔

مذاکرات کا جال پھینکنے والوں کی شاید کوئی مجبوریاں رہی ہوں گی کہ اپنے بنائے ہوئے ان حریفوں کو بھی سامنے لا بٹھایا جو کسی صورت اپنے اپنے دائروں سے نکلنے کو آمادہ نہیں کیونکہ اس صورت میں جان سے پیاری کرسی سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے، جس کے لیے پہل تو درکنار کوئی سوچنے کو بھی تیار نہیں۔ لیکن بہر حال فیصلہ ساز قوتیں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تیار نظر آتی ہیں اور فیصلہ جو بھی ہو وہ سیاسی قیادت کا نہیں بلکہ ان قوتوں کا ہو گا جو ان کو مذاکرات کی میز تک لائے ہیں۔ اور وہ فیصلہ سب کو ماننا ہو گا۔

سیاسی مداخلت میں اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے کردار سے تو سب واقف تھے لیکن اب بات عدلیہ کے مبینہ جوڑ توڑ تک بھی آ گئی ہے۔ اور اس کو انصاف نہیں، ذاتی اور ’سیاسی مفاد‘ کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کہیں مذاکرات کے لیے جوڑ توڑ کا الزام ہے تو کہیں ’پارٹی ٹکٹ‘ کے حصول کے لیے جدوجہد کا۔ کہا جا رہا ہے کہ عدلیہ اب انصاف نہیں، ٹکٹ دلواتی ہے۔

پہلے کہا جاتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے من پسند امیدواروں کو پارٹی میں جگہ بنا کر دیتی ہے اور اب عدلیہ پر بھی پشت پناہی کا الزام آ رہا ہے۔ تمام ریاستی کردار جن کو سیاست میں شامل نہیں ہونا تھا وہ اسی میں کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے سب کچھ پس پردہ ہوتا تھا اب کھلے عام ہو رہا ہے اور تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ پھر وہ ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو لیک کی تصدیق ہو یا اسٹبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کی۔

پرندوں کے لیے بچھائے جانے والے جال میں ’ماہر شکاری‘ خود بھی پھنس گئے ہیں۔ جس سے وہ خود کو محفوظ باہر نکالنے کی تگ و دو میں ہیں کہ ضرب بھی نہ لگے اور شکار بھی پورا ہاتھ میں آئے لیکن اس بار شکاری کا سامنا ایسے ’شاطر پرندے‘ سے ہوا ہے کہ چاہیں بھی تو راہ فرار کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ہاں ’مصالحت‘ کی پیشکش دونوں جانب سے جاری ہے اور مذاکرات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

مذاکرات کی میز پر بیٹھنا اس وقت سب کی مجبوری ہے کیونکہ اس کے بغیر چارہ نہیں، حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ ہاتھ بڑھائے، عمران خان اقتدار میں واپسی کے لیے مجبور ہیں اور مقتدرہ الزامات سے بری راستے کے لیے۔ یہ مصالحت کی کوششیں مجبوری ہیں یا کسی مصلحت کا نتیجہ؟ یہ بھی اب کوئی راز نہیں کیونکہ نفرت کی آگ میں سلگتی حکومت اور انتقام کی خواہش میں بیٹھی تحریک انصاف اس میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ نتیجتاً اس سے بہت سی قوتیں بے نقاب ہو رہی ہیں۔

اشاروں کنایوں میں بات پویلین سے باہر بیٹھے اصل کرداروں تک بھی پہنچائی جا رہی ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ’میں نہ مانوں ہار‘ کی جنگ بھی جاری ہے، دیکھتے ہیں پہلے پلک کون جھپکتا ہے۔ اس کے لیے انتظار جاری ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments