صحافت کے عالمی دن پر

ص، ح، ا، ف اور ی، ان پانچ حروف کے ملاپ سے لفظ صحافی بنتا ہے۔ کہنے کو تو یہ چھوٹا سا لفظ پانچ حروف کا مجموعہ ہے لیکن اس لفظ کے پانچوں حروف اپنے اندر بھرپور معانی اور مفہوم رکھتے ہیں۔ میرے مطابق، ص سے مراد صادق یعنی سچا اور سچ کی پاسداری کرنے والا، ح سے مراد حافظ، یعنی اپنے حافظے میں اردگرد رونما ہونے والے واقعات کو اپنے دماغ میں سمیٹ کر اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں ان سے نتائج اخذ کرنے والا۔ الف سے مراد امن کا متلاشی، ف سے مراد فولادی قوت اور جذبے والا، اور ی سے مراد یزید وقت کی بیعت سے انکار کرنے والا۔ ماہرین کی رائے میں صحافی اور صحافت کی جو بھی تعریف ہو لیکن میرے خیال میں صحافی وہ ہے جس میں بیان کردہ خوبیاں یکساں طور پر موجود ہوں۔ افسوس مگر اس بات کا ہے کہ فی زمانہ بیشتر صحافی ان خوبیوں کے الٹ چلتے نظر آتے ہیں صحافت کا معیار اتنا گر چکا ہے کہ ہر پانچواں یا شاید دوسرا بندہ اپنی موٹر سائیکل کے آگے پیچھے پریس لکھوا کر طمطراق دکھاتا نظر آئے گا۔
ستم تو یہ ہے کہ لانڈری والے کی بائیک پر بھی پریس لکھا ہوتا ہے۔ اب ان برساتی مینڈکوں کی طرح پھدکتے نام نہاد صحافیوں میں اکثریت ایسی ہے کہ جنہیں جرنلسٹ کے سپیلنگ تک نہیں آتے اور اکثر خود کو جرنلسٹ کہہ دیتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ بہت سے جانے پہچانے اور اعلی پائے کے صحافیوں میں بھی ”جرنلسٹ“ موجود ہوتے ہیں۔
ایک دفعہ میرے ایک جاننے والے ماسٹر صاحب میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے یار تمہارا تعلق واسطہ کافی ہے کسی اخبار کی نمائندگی ہی لے دو میں نے کہا ماسٹر جی بلکہ ماشٹر جی! آپ تو سرکاری نوکری کر رہے ہیں اور ماشاء اللہ شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں آپ کے پاس اتنا وقت کہاں کہ صحافت کی ذمہ داریاں نبھا سکیں ویسے بھی قانونی طور پر اس کی اجازت نہیں، تو ماشٹر جی بولے یار ذمہ داریاں خاک نبھانی ہیں تمہیں تو معلوم ہے پریس کارڈ کی اپنی ایک ویلیو ہوتی ہے، دفتروں میں رعب جمانے کے لئے کمال کی چیز ہے میں نے ماشٹر جی سے تو معذرت کر لی کیونکہ ان کا موڈ مزید بحث کرنے کا تھا اس لیے معذرت کر کے ان کی بحث سے راہ فرار حاصل کی۔ ماشٹر جی تو چلے گئے۔ لیکن مجھے سوچنے پر مجبور کر گئے کہ انسان اپنے مفادات کے حصول کے لیے کہاں کہاں تک ہاتھ پیر مارتا چلا جاتا ہے۔
ایسے لوگ ان ورکنگ جرنلسٹ کے ناموں پر سیاہ دھبہ ہیں جو دن رات اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اخبارات اور چینلز کے لیے سٹوریز تیار کرتے ہیں بہت سے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور بہت سے گھناؤنے جرائم میں ملوث مکروہ افراد کے چہروں سے شرافت کے لبادے اتارتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اعلیٰ عہدیداروں تک رسائی کے لئے میدان صحافت میں آتے ہیں اور کچھ صحافی اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے کے لئے قلم اٹھاتے ہیں، ان کی خدمت میں میرا ایک شعر پیش ہے۔
تم ایک عہدہ میرے لیے بھی بچا کے رکھنا
میں تیرے حق میں قلم اٹھا کر نکل پڑا ہوں
شام کو ہر چینل پر آپ کو اینکر پرسن کے بھیس میں کسی نہ کسی پارٹی کا سپوکس مین ملے گا سوچا جائے، تو صحافی کا کسی بھی سیاسی، لسانی، مذہبی یا کاروباری گروہ سے کیا تعلق؟ اسے تو ہمیشہ غیر جانبدار رہنا چاہیے اور عوام کی رہنمائی کرنا چاہیے۔ اپنی تمام تر قوتیں کسی ایک پارٹی کی ترجمانی کی بجائے پورے ملک کی ترجمانی پر صرف کرنی چاہیں۔ یقین کیجیئے لوگوں نے اپنے اپنے چینل اپنی اپنی پارٹی کے حساب سے منتخب کیے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی پسند کے اینکرز کی اینکر گردیاں دیکھتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت سے ایسے لوگوں کا خاتمہ ہونا چاہیے جو محض ذاتی مفادات کے حصول کے لئے شعبہ صحافت میں آ کر اس عظیم شعبہ کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ جانبداری کی بجائے غیر جانبداری کو فروغ ملنا چاہیے تاکہ شعبہ صحافت کے طالبعلموں کو بہتر اور روشن مستقبل ملنے کے ساتھ ساتھ اس ملک کی عوام کو بھی اصل حقائق سے آگاہی ملتی رہے۔ اس مقصد کے حکومتی اداروں اور صحافتی تنظیموں کو آگے آنے کی ضرورت ہے اور صحافت جیسے مقدس پیشے اور ریاست کے چوتھے ستون کے لیے کچھ نہ کچھ اہلیت کا معیار اور نصاب ضرور ہونا چاہیے۔
بصورت دیگر صحافت اور صحافیوں اپنا اعتبار اور وقار کھو بیٹھیں گے۔ صحافت کے عالمی دن میں تاریک راہوں میں ماری جانے والی ایک نجی ٹی وی کی رپورٹر صدف نعیم کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ارباب اختیار سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے واقعات کی روک تھام بھی کی جائے اور ایسے گمنام مجاہدوں کا نام اور کام بھی زندہ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہیں۔

