ڈاکٹر زبیدہ سرنگ کی کتاب کا ایک تجزیہ


ڈاکٹر زبیدہ سرنگ صاحبہ کی کتاب ”آپٹکس، میڈ ایزی“ کو چترال ہی میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ قومی ٹی وی چینلز نے ڈاکٹر صاحبہ کے کئی انٹرویوز کیے اور ان کے کام کو سراہا گیا۔ میں نے بھی ایک محب وطن پاکستانی اور چترالی ہونے کے ناتے ان کے کام کی تعریف کے پل باندھ دیے تھے اور ان کو فخر چترال اور دختر پاکستان کا لقب تک دے دیا تھا۔

ابھی کچھ دن پہلے فزکس کے ایک پروفیسر، جو کہ چائنہ میں ایک اچھی پوزیشن پر ہیں اور اپنے فیلڈ میں مہارت رکھتے ہیں، نے ان کی اس کتاب پر تنقید کی۔ ڈاکٹر صاحبہ کی تعریف کے ساتھ ساتھ ان پر تنقید بھی ہوتی رہتی ہے، لیکن حالیہ تنقید کوئی عام شہری نہیں بلکہ فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والا ایک پروفیسر کر رہا تھا۔ اس لئے میں نے بھی اس کتاب کے متعلق کچھ جانچنے کی کوشش کی ہے۔

پہلی بات جو میں نے جانی وہ یہ ہے کہ یہ کوئی ریسرچ پر مبنی کتاب نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحبہ کے نوٹس ہیں جو انہوں نے اپنے کسی مضمون کی تیاری کے لئے کسی سورس بک سے بنائے ہیں۔ پھر ان کو یہ لگا کہ یہ طلباء کے لئے مفید ہو سکتے ہیں اس لئے ان کو ایمیزون سے کتابی صورت میں پبلش کرائی۔

کتاب ایمیزون پر موجود ہے۔ اس کی تشہیر کرنے والے اسے بیسٹ سیلر ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔ شروع میں تین لوگوں نے ریٹنگ دی تھی اس وقت ریٹنگ 4.5 تھی۔ لیکن اب جب 10 لوگوں نے ریٹنگ دی ہے تو ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق اب اس کی ریٹنگ 3.6 ہو گئی ہے۔

تیسری بات، تین لوگوں کی رائے پر مبنی الگورتھم کے مطابق پہلے یہ کتاب اوپتھولموجی پر 20 اچھی کتابوں کی فہرست میں شامل تھی لیکن اب دس لوگوں کی رائے پر مبنی الگورتھم کے مطابق یہ 100 اچھی کتابوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ نہ ہی بک ایتھورٹی میں لکھا ہے کہ یہ سب سے بہترین کتاب ہے۔ ہاں کتاب کی ڈسکرپشن میں مصنفہ یا پبلشر نے خود ”ون آف دی بیسٹ بکس“ لکھا ہے۔ اب ہمارے یہاں اس کا غلط ترجمہ کیا جا رہا ہے اور اس کو ”دی اونلی بیسٹ بک“ یا سب سے بہترین کتاب کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

اب آتے ہیں ڈاکٹر صاحبہ کی فنی مہارت کی طرف۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امراض چشم کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ ایک قابل ڈاکٹر ہیں تبھی تو آغا خان ہیلتھ سروس نے ان کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب اور ان کی شخصیت پر تنقید اور بے جا تعریف مسلکی اور قومی یا علاقائی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔ لوئر چترال والے اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر صاحبہ اور ان کی کتاب پر بلا وجہ تنقید کر رہے ہیں اور اپر چترال، زوندرے قوم بالخصوص اور اسماعیلی برادری بالعموم، ان کی بے انتہا تعریف کر رہے ہیں۔ اول الذکر طبقہ حب ڈاکٹر اور آخر الذکر لوگ بغض ڈاکٹر میں انتہا پر ہیں۔

اس کتاب کی کنٹینٹ پر فزکس، خاص کر کے آپٹکس والے، ہی بہتر تبصرہ کر سکتے ہیں۔ بحیثیت ایک عام قاری میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس طرح کی کتابیں اس لئے مشہور ہوتی ہیں کیونکہ یہ آسان ہوتی ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیجیے کہ معاشیات پر کارل مارکس، ایڈم اسمتھ اور کینیس کی کتابیں معاشیات کے طلباء میں اتنی مشہور نہیں ہوتی ہیں جتنی قصہ خوانی، پشاور یا اردو بازار، لاہور میں چھپنے والی دیسی کتابیں ہوتی ہیں۔ ہاں، جو اسکالر ہوتے ہیں وہ اوریجنل سورسز کو ترجیح دیتے ہیں اور کاہل پاکستانی طلباء ”آپٹکس، میڈ ایزی“ جیسی آسان کتابوں پر جان نچھاور کرتے ہیں۔

مختصراً یہ کہ ڈاکٹر زبیدہ سرنگ صاحبہ اپنے شعبے میں اچھی ڈاکٹر ہیں لیکن کتاب کے حوالے سے ان کا کارنامہ محض سوشل میڈیا پبلسٹی کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ڈاکٹر عبد السلام، ہود بھائی اور ادریس آزاد جیسے لوگوں اور ان کے علمی کاموں کو سراہا کریں نہ کہ پانی سے چلنے والا انجن بنانے کا ڈرامہ رچانے والے انجینئر آغا وقار جیسے رانگ نمبروں کو۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اول الذکر لوگوں کو پذیرائی نہیں ملتی ہے اور آغا وقار جیسے لوگ مشہور ہوتے ہیں۔ تاہم ان کے کارنامے شروع میں چھا جاتے ہیں لیکن جلد ہی جھاگ کی طرح بیٹھ بھی جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.