مردم شماری پر تحفظات۔کیا اور کیوں؟


پاکستان میں اب تک چھ مردم شماریاں۔ 1951، 1961، 1972، 1981، 1998، 2017 ہو چکی ہے اور ملکی تاریخ کی ساتویں اور پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا کام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اگرچہ ہر دس سال بعد ملک میں مردم شماری ایک آئینی تقاضا ہے۔ تاکہ مسائل کے ادراک اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ مگر ہم میں سے اکثر لوگوں کو آئین کی صرف من پسند شقیں نظر آتی ہے۔ اور صرف ان آرٹیکل سے صرف نظر کو آئین توڑنا سمجھتے ہیں جو ہمارے مفادات کے لئے ضروری ہو ورنہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینا بھی آئین ہے سولہ سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم دینا بھی آئین ہے، ملک کے ہر شہری کو بلا امتیاز سستا انصاف فراہم کرنا بھی آئین ہے۔

مگر ہمارے حکمران اور ججز صاحبان صرف انتخابات جمہوریت حکومت وزارت اور کرسی کے حصول کو آئین کا جامہ پہناتے ہیں اور وہ آئینی تقاضے پس پشت ڈالتے ہیں جن کا تعلق عوام سے ہو۔ اور عوام بھی اپنے آئینی حقوق کے لئے جدوجہد کی بجائے حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ شاید وہ جمہوریت اور آئین کی خدمت کر رہے ہیں۔

جہاں تک جاری ڈیجیٹل مردم شماری پر ایم کیو ایم سندھ حکومت اور کراچی کے جماعت اسلامی کے تحفظات کا تعلق ہے یہ نہ صرف سیاسی مفاد پرستی پر مبنی بلکہ حیران کن ہے۔ مفاد پرستی اس لئے کہ ایم کیو ایم سندھ کی شہری جبکہ پیپلز پارٹی دیہی علاقوں کی نمائندگی کی دعویدار جماعتیں ہیں۔ اگرچہ اب کراچی میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی بھی حصہ دار بن چکی ہے۔ کراچی کی نمائندگی کے دعویدار تینوں جماعتیں یعنی ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا دعوی ہے کہ کراچی کے عوام اور گھروں کو صحیح طور سے نہیں گنا جا رہا ہے جبکہ پیپلز پارٹی انہی خدشات کا اظہار باقی سندھ کے حوالے سے کر رہی ہے۔

پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام اور مولانا فضل الرحمن کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے مگر اس میں وہ شدت اور سختی نہیں ہے جو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے موقف میں ہے۔ حالانکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی قبائلی اضلاع جو اب نئے ضم شدہ اضلاع کہلاتے ہیں میں مکمل مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ دوردراز پہاڑی علاقوں، سہولیات کی عدم دستیابی امن وامان کی ابتر صورتحال اور سپرویژن کی کمزور نظام کی وجہ سے یہاں کی درجنوں دیہات گننے سے رہ جاتے ہیں۔

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ 1998 کی مردم شماری میں ان علاقوں میں تو کئی دیہات سمیت بعض مکمل تحصیلوں کو نہیں گنا گیا تھا لیکن یہاں کا کوئی پرسان حال اور سیاسی والی وارث نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی آواز ان کے گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔ اور صوبے یا ملک کے کسی ذمہ دار نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ سیاسی مفادات اور ان لوگوں کے تحفظات کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر جماعت اس علاقے میں تعداد کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہے جن میں ان کو اپنی حمایت کا یقین ہے تاکہ بعد میں وہ اپنے اپنے حلقوں کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کر سکے۔

مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ان لوگوں کے شدید تحفظات نہ صرف دوسروں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ بلکہ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن کے تحفظات حیران کن اس لئے ہے کہ وفاق، سندھ اور خیبر پختونخوا میں ان سب کی مخلوط حکومت ہے۔ اور مردم شماری وفاقی حکومت صوبائی ملازمین کے ذریعے کروا رہی ہے۔ اب پیپلز پارٹی کے وزیر اعلی سندھ جناب مراد علی شاہ سے کوئی پوچھے کہ وہ کس کے خلاف تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔

کیونکہ اگر وفاق نے غلط مردم شماری کی ہدایات دی ہے تو اپنے چیئرمین سے سوال کرے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں اور اگر مردم شماری کرنے والا عملہ درست کام نہیں کرتا ہے تو آپ کو احتجاج کی بجائے خود استعفی دے دینا چاہیے کیونکہ یہ سب آپ کے صوبائی ملازمین ہیں۔ احتجاج تحفظات اور ان ڈراموں کی کیا ضرورت ہے؟ یہی سوال ایم کیو ایم اور مولانا سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ کہ میڈیا میں ان رہنے اور عوام کو بے وقوف بنانے کی بجائے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری لیجیے جہاں بھی کوئی کوتاہی ہے اسے پورا کرنے کے لئے عملی اقدامات کیجئے۔

کیونکہ آپ لوگ حکمران ہیں۔ البتہ اپنے سیاسی مفادات کے لئے دوسروں کا حق مارنے کی کوشش مت کیجئے۔ مگر جاری مردم شماری پر نعروں کی حد تک آپ لوگوں کے تحفظات سے لگتا ہے کہ آپ لوگ صرف دباؤ بڑھا کر اپنے حلقوں کی آبادی کو زیادہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں جو دوسروں کا حق مارنا ہے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت مخلوط حکومت کے باقی سٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے کی اس کوشش کو ناکام بنائے اور اپنے اپنے حلقوں کی تعداد بڑھانے کی بجائے اسے کم گننے سے بچائے۔

Facebook Comments HS