مئی 2007 اور مئی 2023
مئی 2007 اس وقت کے سیاسی حالات میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا اور ایک قہر جو ملک کے سب سے بڑے شہر پر برپا کیا گیا سب کو لے ڈوبا۔ 12 مئی ہمیشہ کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری کے ایک المناک سانحے کی کرب ناک یاد کو تازہ کرتا رہے گا جس نے پاکستان کے سیاسی منظر نامے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس بدترین تشدد اور بھیانک خونریزی میں 50 کے قریب سیاسی کارکنوں کو سرعام گولیاں برسا کر قتل کیا گیا اور ڈھائی سے تین سو کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوئے۔ مئی 2007 اور مئی 2023 میں کیا مماثلت ہے؟
یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب ملک ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھوں یرغمال تھا اور آئین کی حکمرانی سے متعلق مسائل سے دوچار تھا۔ 12 مئی 2007 کے دن پورے کراچی میں فسادات اور تشدد پھوٹ پڑے اور شہر افراتفری میں ڈوب گیا۔ پورا دن مسلح جتھوں کے ہاتھوں شہر یرغمال رہا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو تشدد کو روکنے میں مکمل ناکام رہے یا پھر انہیں روکنے کا حکم نہیں تھا۔ اور یوں اس قتل عام کو گھنٹوں جان بوجھ کر جاری رہنے دیا گیا۔ آج ملک میں کسی ڈکٹیٹر کی حکمرانی تو نہیں لیکن ملک بہرحال آئین کی حکمرانی سے متعلق مسائل سے دوچار ہے۔
اس سانحے کی یوں تو کئی وجوہات بیان ہوتی ہیں لیکن اگر اسے ایک ڈکٹیٹر کی انا اور ہٹ دھرمی اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان طاقت و اقتدار کی رسا کشی کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہو گا۔ ان دنوں پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک چل رہی تھی جنہیں اس وقت کے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے عہدے سے معطل کر دیا تھا۔ افتخار چوہدری کی بحالی اپوزیشن جماعتوں کے لیے ایک بیانیہ بن گئی تھی۔ جیسے آج کل کبھی بیرونی سازش تو کبھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی کوئی اور بیانیہ بن جاتا ہے۔ تاہم پرویز مشرف اپوزیشن کے مطالبات کے خلاف مزاحمت کرنے اور اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم تھا۔ اسی کشیدگی کا نتیجہ ایک پرتشدد تصادم بنا۔
سیاسی جماعتوں نے افتخار چوہدری کے استقبال کے لیے کراچی میں ریلیاں نکالیں، جو وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرنے والے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے افتخار چوہدری کو ائر پورٹ سے باہر نہ آنے دیا گیا اور حکومت کے حامی بھی سڑکوں پر نکل آئے اور ریلیاں خون کی ہولی میں تبدیل کر دی گئیں۔ جو سفاکانہ اور ظالمانہ تشدد ہوا وہ ملک کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے شرمندگی کا باعث بن کر درج رہے گا۔ ایک طرف بے گناہ سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔ کراچی کی سڑکیں لاشوں سے اٹی پڑی تھیں، افراتفری میں سینکڑوں زخمی ہوئے تھے، دوسری طرف اسلام آباد میں اسٹیج پر حکمران مکے لہرا کر اس لاقانونیت اور طاقت کے بہیمانہ مظاہرے پر شرمندہ ہونے کے بجائے خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔
یہ سانحہ ایک المناک یاد دہانی ہے اس اذیت ناک قربانی کی جو عام لوگ اس وقت ادا کرتے ہیں جب اقتدار کی ہوس ہر حد پار کر جاتی ہے اور سادہ و معصوم سیاسی کارکنوں کو قربانی کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہوتا ہے اور وہی ہوا۔ یہ سانحہ ان چیلنجوں کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے جو ہر قسم کے حالات میں پاکستان کو امن و امان برقرار رکھنے میں درپیش ہیں۔ اس سانحے کا ایک انتہائی دردناک پہلو یہ ہے کہ متاثرین کے اہل خانہ کو کبھی انصاف نہیں ملا۔
متعدد تحقیقات اور رپورٹس کے باوجود تشدد کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے لیے ذمہ داروں کو کٹہرے تک نہیں لایا گیا۔ ایسا بھی نہیں کہ ریاستی ادارے اتنے نا اہل ہیں کہ انہیں کوئی سراغ ہی نہ ملا ہو مگر یہ بھی تو ممکن نہیں کہ طاقتور حلقے قانون کی گرفت میں آجائیں۔ اسی لیے ایسے معاملات میں قانونی نظام میں اکثر سمجھوتہ کیا جاتا ہے اور متاثرین کے خاندانوں کے لیے انصاف ایک ناقابل تعبیر خواب بن جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں طاقتور حلقوں کو حاصل ہونے والے استثنا کی ایک اور واضح مثال ہے۔
12 مئی کے تشدد کے متاثرین کے لیے انصاف کی لڑائی بہت طویل اور مشکل رہی ہے۔ متاثرین کے خاندانوں کو ایک ایسے قانونی نظام سے لڑنا پڑ رہا ہے جو عوام کے لیے ہمیشہ سست اور غیر موثر ہوتا ہے اور طاقتور لوگوں کے لیے ضرورت سے زیادہ چست اور شفیق۔ عوام انصاف کے لیے عدالت کی چوکھٹ کے متواتر چکر لگاتی رہتی ہے لیکن عدالت کو یا تو ملک کے ایلیٹ کی راہوں میں نین بچھائے منتظر پاتی ہے جو وقت پر آنے کے عادی نہیں پھر چاہے وہ کوئی جلسہ ہو یا عدالتی کارروائی، یا پھر ان کی گاڑیوں اور گھروں تک فری اور فوری ریلیف ڈلیوری میں مصروف پاتی ہے۔ عدلیہ کی جانبداری کا تاثر انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے بقول شاعر
آزادی اظہار پر پابندی ہے،
پھر کسی اخبار پر پابندی ہے۔
نفرت کی سرپرستی سو بسم اللہ،
ہاں مگر پیار پر پابندی ہے۔
کسی کو بھی مار دو بنا سوچے،
سوچ و وچار پر پابندی ہے۔
گلا گھونٹ دو غیرت کے نام پر،
بانہوں کے ہار پر پابندی ہے۔
زورآور کے اک ٹرک کی مار ہے قانون،
مسکین و لاچار پر پابندی ہے۔
یہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ 12 مئی جیسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ آج بھی ملک کی سیاسی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے جو کسی مفاہمت کے بجائے انتشار اور فساد کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔ معیشت کا یہ حال ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد ذرا سا مسکرا کر بات کر دے تو بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔ سری لنکا اور افغانستان سے امداد ملنے کی خبریں چل رہی ہیں۔ خدا وہ وقت نہ دکھائے کے ہمارے حکمران ہندوستان میں کشمیر کے بجائے امداد مانگنے جائیں۔
ایک دو وقت کے کھانے کے حصول کے لیے ہر دن لوگ راشن کی قطاروں میں جان دے رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی ہو یا پی ڈی ایم دونوں اقتدار کی رسا کشی میں مصروف ہیں اور اب تو خود کو آئین سے بھی ماورا سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو سبق سکھانے کی غرض سے غیر آئینی اقدامات سے گریز نہیں کرتے۔ ایک طرف پی ٹی آئی ہے جو عدم اعتماد کے مرحلے سے لے کر صدر کی جانب سے حلف برداری ہو یا کسی بل پر دستخط کا مرحلہ ہو آئین کو پیٹھ دکھا دیتی ہے اور دوسری طرف پی ڈی ایم حکومت ہے جو پی ٹی آئی کو اسی غیر آئینی طرز پر سبق سکھانے کی غرض سے یا اہم تقرریوں اور تبادلوں کے انتظار میں آئینی تقاضوں کو یکسر نظر انداز کر کے الیکشن کی تاریخ کو 90 روز سے آگے لے آئی ہے۔
اگر پچھلے الیکشن میں باقی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ پیر باندھ کر پی ٹی آئی کو جتوانا غلط تھا تو آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کے ہاتھ پیر باندھ کر دوسروں کو جتوانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ آئین کی تشریح میں سیاستدانوں کے درمیان اختلاف ہو تو عدالت جاتے ہیں لیکن جب اعلیٰ عدلیہ کے جج بھی اختلاف کا شکار بن جائیں اور آئین کی چھتری تلے مل بیٹھنے کو تیار نہ ہوں تو اختلافات کیسے ختم ہوں۔
ایک طرف خان صاحب ہیں جو دراصل ہماری اجتماعی نفسیات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت یہی چاہتی ہے کہ قانون سب کے لیے ہونا چاہیے، کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے سوائے میرے۔ یہ خود احتسابی کا بھی وقت ہے۔ غلط روایات کا سہارا لینے والے بھول جاتے ہیں کہ وہ خود بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 2023 میں حکومتی اتحاد بالکل اسی طرح الیکشن جیتنے کے لیے پر اعتماد ہے جیسے 2018 میں پی ٹی آئی تھی۔ دوسری جانب پی ڈی ایم ہے جنہیں یہ سوچنا چاہیے کہ آمریت کے ہر دور کے ہر وار سے بار بار بچ نکلنے والا آئین اگر جمہوریت کے وار سے ملنے والے زخموں کی تاب نہ لا سکا تو پھر کیا گا؟
یہ جمہوریت کی چیمپیئن سیاسی قیادت کا آئین پر متفقہ خودکش حملہ ثابت ہوا تو پھر کیا ہو گا؟ کیا مستقبل میں کوئی بھی سیاسی جماعت اس سے متاثر ہوئے بنا رہ سکے گی؟ ملک کی خاطر نہ سہی ذاتی مفادات کے پیش نظر بھی مل بیٹھنے کے علاوہ اب کوئی حل نہیں بقول چاچا خمیسو کہ ”کام تو کسی نے نہیں کرنا، بہتر ہے سب مل کر حکومت کریں، کھائیں پئیں عیش کریں اور پھر سرکاری خرچے پر حج عمرہ کر کے کعبے شریف کے اندر بیٹھ کر ملک کی ترقی کے لیے دعا کریں۔“
یاد رکھنا چاہیے کہ 2007 میں بھی سب کا نقصان ہوا تھا۔ عوام سڑکوں پر خون سے لت پت پڑی تھی۔ حکمران زیادہ دیر تک حکومت قائم نہ رکھ سکے۔ اپوزیشن کو اپنی رہنما کی شہادت کے سانحے کا سامنا کرنا پڑا۔ اور ملک ایک قابل و مقبول لیڈر سے محروم ہوا اور عدلیہ کے بجائے ارسلان کے ابا کی بحالی کا مرتکب ہوا، جس کا خمیازہ نہ جانے کب تک بھگتنا پڑے گا۔ ملک کو 2007 جیسے حالات سے بچانے کے لیے تمام فریقین کو انا، دھونس اور ہٹ دھرمی کا راستہ چھوڑ کر آئین کا راستہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
12 مئی ایک ایسا سانحہ تھا جسے کبھی نہیں دہرایا جانا چاہیے۔ یہ واقعہ زیادہ موثر قانونی نظام اور آئین کی حکمرانی کا احترام کرنے والے سیاسی کلچر کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ ایسا سیاسی کلچر بنانے کے لیے مل کر کام کرنا ضروری ہے جو رواداری اور آئین کی حکمرانی کے احترام پر مبنی ہو۔


