کیا بننا سنورنا صرف عورت کا کام ہے؟


شادی شدہ زندگی میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شوہر کے لئے بننا سنورنا صرف عورت کا کام ہے، مرد کا نہیں۔ بقول سہیل وڑائچ صاحب کے، یہ کھلا تضاد ہے۔ مرد حضرات یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیویاں خوش لباس، گھنی زلفوں والی، خوشبو میں بسی، ادائے دل ربا کے ساتھ ان کے سامنے پیش ہوں مگر خود دانت صاف کریں، نہ پسینہ کی بدبو کا کوئی بندوبست، نہ کوئی خوشبو، بال ہیں تو انہیں ٹھیک بھی نہ کریں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مرد کا دل ہے تو عورت کیا پتھر ہے جس کو بنا سنورا شوہر اچھا نہیں لگتا؟

مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اپنی بیویوں کے لئے بھی اچھے کپڑے پہنا کریں، اچھی خوشبو لگایا کریں، الکحل فری سستی اور اچھی خوشبو ہر اچھے شہر سے مل جاتی ہے۔ ورنہ روٹین کی خوشبو ہر جگہ ملتی ہے۔ گرمیوں میں روزانہ نہانا اچھا احساس ہے، سردیوں میں بھی نہایا جاسکتا ہے۔ جرابیں بھی چیک کر لیں، بدبو ناقابل برداشت تو نہیں؟ ہاں کبھی کبھی جرابیں اتار کر پاؤں بھی دھو لینے چاہیے۔ جسم کے غیر ضروری بال ہفتے میں ایک بار ضرور صاف کر لیے جائیں، زیادہ وقت نہیں لگتا۔

صفائی ویسے بھی نصف ایمان ہے۔ مرد اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور سے ملنے جائے تو اچھا لگنے کا ہر جتن کرے، بیوی کے لیے کوئی اہتمام نہیں۔ حقیقت یہ ہے اگر مرد حضرات بیویوں کے لئے اپنے آپ کو کچھ ٹھیک ٹھاک رکھنا شروع کر دیں تو زندگی خوش گوار ہو جائے گی۔ مرد حضرات اپنی جاب کے مسائل گھروں سے دور رکھنا شروع کر دیں تو بیویوں کی زندگی اچھی ہونے کے کافی امکانات ہیں۔ کبھی بیوی کو اچھا سرپرائز دیں تو اس سے بھی معاملات اچھے ہوں گے۔ اگرچہ آج کل مردوں کے بھی پارلر کھل گئے ہیں مگر وہاں صرف دلہے تیار ہوتے ہیں۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد وہی دلہا ویسے ہی نہیں پہچانا جاتا جیسے آج کل دلہن شادی پر نہیں پہچانی جاتی۔

Facebook Comments HS