یاسر جواد کی کتاب کہانی: ایک منفرد آپ بیتی


دوسرے لوگوں کے بارے میں جاننا مجھے بچپن سے ہی اچھا لگتا تھا۔ گھر آنے والے اکثر افراد سے ملنے پر میں ان کی زندگی کے بارے جاننے کے لیے سوال جواب کرتا رہتا تھا۔ میری اس عادت نے بچپن میں ہی مجھے کتابوں سے روشناس کرا دیا۔ کسی بھی فرد کی سوانح عمری یا خود نوشت پڑھ کر آپ کو اس کی شخصیت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے اس لیے میری کتابوں سے دوستی کی ایک وجہ اپنے شوق کی تسکین بھی بنی۔ آپ کسی بھی شخصیت کے بارے میں جان کر ان کی طرح اچھا بننے کی کوشش کر سکتے ہیں، ان کے تجربات سے سبق سیکھتے ہیں۔

پچھلے چھ سات ماہ میں بک کارنر جہلم سے چھ سات خودنوشت تواتر سے شائع ہوئیں تو میں یہ سمجھا کہ شاید خود نوشت چھپنے کا بھی یہ موسم ہے یا پھر یہ صنف اب زیادہ مقبول ہو گئی ہے۔ ایک دن عزیزم گگن شاہد نے اطلاع دی کہ یاسر جواد کی کتاب کہانی بھی شائع ہو گئی ہے۔ میں نے جانا شاید یہ بھی یاسر جواد نے کسی نئی کتاب کا ترجمہ کیا ہو گا۔ اس کے چند دن بعد مارچ کے پہلے ہفتے میں لاہور میں ہونے والے کتاب میلہ میں بک کارنر جہلم کے سٹال پر جانا ہوا تو کتاب کہانی دیکھ کر ورق گردانی کرنے پر پتہ چلا کہ یہ تو یاسر جواد کی آپ بیتی ہے۔

اسی دن بک سٹال پر یاسر جواد سے ملاقات بھی ہو گئی۔ ان سے کتاب پر دستخط بھی لے لیے، اس لئے کہ میری نظر میں اس سے کتاب کی اہمیت اور قدر اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ کتاب میلہ سے گھر واپس پہنچ کر دوسرے معاملات میں ایسا الجھا کہ پڑھائی کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو گیا۔ معاملات کی اسی کھینچا تانی میں برطانیہ پہنچ گیا۔ یاسر جواد کی کتاب کہانی سمیت تین دوسری کتابیں دستی سامان زیادہ ہونے کی وجہ سے کارگو سے بک کروا نے کے لیے اپنے دوست کے حوالہ کیں۔

دو ہفتے بعد جب سامان برطانیہ پہنچا تو اس میں سے کتابیں ندارد، پتہ چلا کہ سامان کی پیکنگ کرتے ہوئے کتابیں تو پاکستان میں ہی رہ گئیں ہیں، جان کر انتہائی دکھ ہوا۔ عید پر کتابوں سے محبت رکھنے والے ڈربی میں مقیم عزیزم قیصر ریاض سے دوسری باتوں کے علاوہ کتابوں کا ذکر آیا۔ میں نے بک کارنر سے شائع ہونے والی کتب پر بات کرتے ہوئے ان سے دو تین کتابوں کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کو دو تین پہلے ہی پارسل ملا ہے۔ میں نے ان سے کتاب کہانی مستعار دینے کی درخواست کی اور شام کو ان کے بھائی کے توسط سے کتاب میرے ہاتھ میں تھی۔ آپ سوچ نہیں سکتے جب دیار غیر میں آپ کی مطلوبہ شے آپ کو فوراً مہیا ہو جائے تو کتنی خوشی ہوتی ہے۔

یاسر جواد سے میرا پہلا تعارف ان کی شادی والے دن ہوا۔ ہم بھی ان کی شادی میں دلہن والوں کی طرف سے شریک تھے۔ اس کے بعد ان سے بالمشافہ ملاقات کبھی نہیں ہوئی البتہ کتابوں کی وجہ سے ان سے واقفیت ہوتی رہی۔ کتاب کہانی دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ پینتالیس پچاس سال کے جوان کی خود نوشت کیا ہو گی؟ اس نے ابھی زندگی میں دیکھا ہی کیا ہو گا، لیکن کتاب پڑھ کر میں اس بات پر حیران رہ گیا کہ اس جوان نے تو اتنی عمر میں ہی زندگی کا سو سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل کر لیا ہوا ہے۔ اس نے زندگی اور ہماری سوسائٹی کو اتنے قریب سے دیکھ کر وہ کچھ سیکھا ہے جو عام بندہ سو سال میں بھی نہیں سیکھ سکتا۔ پاکستان کے علاوہ بہت سی عالمی شخصیات کی سوانح عمری اور خود نوشت پڑھنے کا موقعہ ملا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ سوانح عمری لکھنے والے شخصیت کے بارے میں عموماً سب اچھا ہی لکھتے ہیں۔

اپنی خود نوشت لکھنے والے بہت سی شخصیات اپنا خاندانی منصب اتنا بڑھا چڑھا کر لکھتے ہیں کہ ان کو اچھی طرح جاننے والے ان کی دروغ گوئی پر حیران رہ جاتے ہیں۔ خوشونت سنگھ، قتیل شفائی اور دو تین دوسری شخصیات کی خود نوشت پڑھ کر میں سمجھا کہ انہوں نے تو اپنے بارے میں بڑی بے باکی سے لکھا ہے لیکن کتاب کہانی پڑھ کر مجھے لگا کہ جو کڑوا اور کھرا سچ یاسر جواد نے اپنے بارے میں اور اپنی زندگی سے جڑے افراد کے بارے میں لکھا ہے، کوئی دوسرا وہ کچھ لکھنے کی ہمت ہی تک نہیں کر سکتا۔

اپنے قلم کے نشتر سے انہوں نے اپنی زندگی کے ہر پہلو کا اتنی بیدردی سے آپریشن کر کے سب کے سامنے رکھ دیا ہے کہ پڑھنے والے بھی حیرت زدہ ہو گئے ہیں۔ یاسر جواد کی ابھی تک گزاری ہوئی زندگی کتنی کٹھن تھی اور موجودہ مقام تک پہنچنے کے لیے انہوں نے کتنی زیادہ محنت اور زبردست جدوجہد کی ہے، آپ کتاب کہانی پڑھ کر ہی جان سکتے ہیں۔ اپنی آپ بیتی انھوں نے بڑے سادہ لفظوں میں بڑی آسان زبان میں بیان کی ہے۔ ان کی تحریر میں ایسے الفاظ بھی پڑھنے کو ملے ہیں جواب عام بول چال میں متروک ہوتے جا رہے ہیں۔

ان بہت سارے الفاظ جن سے ہماری نئی نسل ناواقف ہو گی، میں گیٹے، ٹیپ، بائیوں والی چارپائی، دہوری، تغاری یا تنگاری، اور کروہڑی اور بہت سے دوسرے لفظ شامل ہیں۔ چاولوں کی کروہڑی ہم بچپن میں شوق سے کھاتے تھے۔ ملک میں خلیجی ریاستوں سے سامان کی ترسیل سے پہلے ستر کی دہائی میں کیمی کی گھڑی متوسط طبقے میں بہت مقبول تھی۔

یاسر جواد کی تصویر سے مزین خوبصورت سرورق اور دیدہ زیب و مناسب سائز کی چھپائی میں 383 صفحات پر مشتمل ان کی آپ بیتی کتاب کہانی کو بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔ میں پہلے بھی کہیں لکھ چکا ہوں کہ آج کل کتاب پڑھنے کے علاوہ دیکھنے کی بھی چیز ہوتی ہے اسی لیے دیدہ زیب پیرہن والی کتب قاری کو جلد اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مصنف کے لکھے ہوئے کو ایک خوبصورت کتاب میں ڈھالنے کا فن بک کارنر کو بہت اچھی طرح آتا ہے۔ یہ کتاب بھی بک کارنر جہلم سے چھپی ہوئی اچھی اور دیدہ زیب کتب کی فہرست میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔

مجھے کسی بھی طرح سے یاسر جواد روایت پسند نہیں لگا۔ روایتی اور معاشرتی رسم و رواج سے وہ اپنے اپنے آپ کو الگ رکھتا ہے۔ جو زندگی اس نے گزاری ہے، اس کے ہر پہلو کے بارے میں وہ ایک مسلمہ رائے رکھتا ہے جو زیادہ تر حقیقت سے قریب ترین اور سچائی پر مبنی ہوتی ہے۔ اس نے اپنی اس خود نوشت کا آغاز بھی غیر روایتی طور اپنے دو دوستوں سے چائے پر ہونے والی ایک ملاقات سے کیا ہے۔ اپنے آبا و اجداد کی گاؤں سے ہجرت اور لاہور میں آباد ہونے پر انہوں نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب بچوں کی تعلیم کے حصول کے لیے باشعور خاندانوں نے گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی۔ والد محترم کی تعلیم اور نوکری کی تفصیل بڑی باریکی سے بیان کی ہے۔ والد کے ائرفورس میں ملازم ہونے کی وجہ سے ان کا بچپن کالونیوں میں گزرا۔ کالونی کے اندر رہن سہن کی کیا خوبصورت منظر نگاری کی ہے۔ کالونی کی چاردیواری کے اندر گریڈوں کے تحت الاٹ ہونے والے ایک اور دو کمرے کے کوارٹروں میں رہنے والوں کی زندگی باہر کی دنیا سے بہت مختلف ہوتی ہے۔

انہوں نے اپنی کیمپ میں اور کالونی میں گزرنے والی ابتدائی زندگی کی جزیات، ماحول، متوسط طبقے اور غریب دیہاتی نچلے درجے کے ملازمین کی نفسیات، رہائش، بودوباش، گڑھی شاہو اور اس سے ملحقہ محلوں کی زندگی، تنگ گلیوں میں بنے گھروں، تنگ و تاریک غسل خانوں اور ایسے علاقوں میں پروان چڑھنے والے تعلقات اور پیار محبتوں کو جتنی باریکی سے بیان کیا ہے اس پر ان کا مشاہدہ اور یاداشت دونوں داد کے قابل ہیں۔ گڑھی شاہو کے محلوں، چھوٹے چھوٹے بازاروں اور گلیوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں اور ان میں رہائش پذیر مکینوں کی نفسیات بڑی باریک بینی سے بیان کی ہے۔

ان یادداشتوں کو پڑھ کر لگتا ہے کہ آپ بھی کبھی ان کا حصہ رہے ہیں۔ اپنے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے با رے میں اتنا کڑوا سچ لکھنے اور عام لوگوں کے سامنے بیان کرنے کی جتنی جرات اور ہمت یاسر جواد نے دکھائی ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ یہاں تو سب اپنی اور اپنے خاندان کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی بیان کردہ اپنے ابو کی شخصیت اور ان کے شوق کے بارے میں پڑھ کر مجھے اپنے خالو یاد آ گئے جو ڈیزل انجن بنانے کے ماہر تھے اور ان کے شوق بھی ایسے ہی تھے۔

کتابوں سے تعلق رکھنے والوں کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ نیک خاندان، کتابوں اور ادب سے بچپن میں تعلق قائم ہونے کی وجہ سے ان میں ہمیشہ مثبت سوچ کا غلبہ رہا جس نے انھیں منفی انداز فکر اپنانے سے دور رکھا۔ ورنہ ایسی جدوجہد سے بھرپور زندگی گزارنے والے اپنے والدین اور معاشرے سے شکایت کرتے نظر آتے ہیں اور منفی انداز اپنا لیتے ہیں۔ صنف نازک سے تعلق کی خواہش ایک فطری جذبہ ہے۔ اپنے اندر پیدا ہونے والے اس جذبے کو انہوں نے قارئین سے چھپانے اور اپنے آپ کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے عشق کی داستان تمام جزیات کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھ دی ہے۔

میں اس لحاظ سے یاسر جواد کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اسے بڑی اچھی اور نیک سیرت شریک حیات ملی۔ انہوں نے اپنی شریک حیات کی والدہ کی جو خوبیاں بیان کی ہیں ان سے میں ذاتی طور پر آگاہ ہوں وہ واقعی ایسی خوبیوں کی مالک خاتون تھیں۔ میں ان کے سارے خاندان کو بہت قریب سے جانتا ہوں۔ عملی زندگی میں انہوں نے قدم تو بہت پہلے رکھ دیا تھا لیکن شادی کے بعد کی زندگی میں بتیوں والے تیل کے چولھے کا تفصیلی ذکر پڑھ کے مجھے اپنی شادی کے ابتدائی برسوں میں اپنے گاؤں میں اس تجربے سے گزرنا یاد آ گیا۔

یاسر جواد جیسی زندگی گزارنے والی زیادہ تر شخصیات معاشرے اور خصوصاً اپنے والدین سے ہمیشہ شاکی رہتے ہیں لیکن یاسر جواد ان سے بہت مختلف ہیں کیونکہ وہ اپنے والد کو زندگی میں تحفظ اور قوت کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ مجھے وہ ایک انتہائی متحرک شخصیت کے مالک نظر آئے ہیں جنہوں نے فارغ بیٹھنا کبھی پسند نہیں کیا۔ لوگ ایک مضمون لکھ کر تھک جاتے ہیں لیکن وہ مختصر وقت میں پوری پوری کتاب کا ترجمہ کرنے پر ملکہ رکھتے ہیں۔

کسی بھی کتاب کا ترجمہ کرنے کے لیے اسے بڑی باریک بینی سے پڑھنا اور سمجھنا پڑھتا ہے۔ اس کے سیاق و سباق کا خیال رکھنا اور اس ملک کی رسم و رواج سے واقفیت ہونا بھی بہت ضروری ہے تبھی آپ ایک اچھے تراجم ہو سکتے ہیں۔ ڈیڑھ سو کے قریب کتابوں کا ترجمہ کرنے کے لیے یاسر نے کتنی پڑھائی کی ہو گی اس کا اندازہ آپ لگا لیں۔ کتابوں سے بہت کچھ سیکھتا ہے اس کی جھلک ان کی تحریر میں ملتی ہے۔ الفاظ کا چناؤ، حقیقت کو پوری سچائی سے بیان کرنا اور منظر نگاری کتاب کہانی کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں پرانے سنیما گھروں، پرانے کالجوں اور لائبریریوں کی عمارتوں میں دلچسپی نوجوانی میں پیدا ہوئی جو ابھی تک برقرار ہے۔ کتاب کہانی میں مختلف افراد کے بارے میں لکھتے ہوئے ان کے یہ جملے مجھے بہت پسند آئے۔

”کچھ لوگ ریل گاڑیوں کے سلیپروں کی طرح ہوتے ہیں جو چپ چاپ پڑے رہتے ہیں۔ دباؤ، رگڑ اور ضربیں سہنے کا کردار ادا کرتے ہیں لیکن کچھ نہیں بولتے ”
”قبروں پر جلتے دیے کسی کو راہ نہیں دکھاتے۔ وہ اس لیے رکھے جاتے ہیں کہ روح اپنے آگے کے سفر میں راہ دیکھنے کے قابل ہو سکے ”

صحافت کے چمن میں اپنے گزرے ہوئے دنوں کو بھی انھوں نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں بھی یاسر نے اپنے اور اپنے جیسے ملازمین پر اخباری مالکان کے مظالم، دباؤ، دھونس اور دھمکیوں کو بڑے واضح الفاظ میں تحریر کیا ہے۔ اتنے بڑے بڑے اداروں اور ان کے ارباب بست و کشاد کی چیرہ دستیوں کے بارے میں اتنا کڑوا سچ لکھنا بھی یاسر جواد کا ہی حوصلہ ہے۔ وہ زرد صحافت اور اخباری مالکان کا سرکاری اداروں میں اثر و رسوخ ہونے اور اثرانداز ہونے کو واشگاف الفاظ میں احاطہ تحریر میں لائے ہیں۔

اپنے اور اپنے دوستوں کے بارے میں سچ لکھنا فی زمانہ ایک انتہائی مشکل کام ہے جو یاسر جواد نے کیا ہے۔ دوستوں اور ساتھیوں کے بارے میں ان کا مشاہدہ بڑا ہی باکمال ہے اسی لیے ان دوستوں اور ساتھیوں کی زندگی کے صحافتی پہلوؤں اور ذاتی زندگی کے مختلف گوشوں پر بے لاگ اور سچی باتیں لکھی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان کی تفصیل پڑھ کر وہ افراد ان کے بارے میں کچھ اچھا سوچیں گے۔ انیس ناگی، انور سجاد اور اپنے ایک باس ریٹائرڈ ڈی آئی جی حمید اصغر جیسی اچھی شخصیت کے مالک بھی ہمارے معاشرے میں رہتے ہیں کتاب کہانی میں پڑھ کر پتہ چلا۔ ان جیسی بہت سی دوسری شخصیات اور گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم کرنے والے لاہور کے عاصم بٹ جیسے دھوتی پوش اور درویش لیکن بہت اچھے مترجم سے جڑی یادداشتیں قلمبند کی ہیں۔ احمد سلیم، شیما مجید اور کنول مشتاق جیسی شخصیات کے حالات پڑھ کر دکھ ہوا۔ اس دکھ کو یاسر جواد نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

”شیما جیسے لوگ نہ وفات پاتے ہیں، نہ ان کا انتقال ہوتا ہے نہ وہ خالق حقیقی سے جا ملتے ہیں، وہ بس مر جاتے ہیں“

کتاب کے آخر میں مختلف موضوعات پر ایک ایک صفحہ پر محیط ان کے تجزیہ جات شامل ہیں جن کی تعداد سولہ ہے۔ وہ بھی بڑی خاصے کی چیز ہیں۔ میں نے مضمون کے شروع میں لکھا تھا کہ یاسر جواد روایت پسند نہیں ہے اس لیے دوسروں کی نسبت خود نوشت ہونے کے باوجود اس میں کوئی تصویر نہیں لگائی۔ بہن کی شادی پر پیسوں کا بندوبست کرنے کے لیے پبلشر سے دو کتابوں کا ترجمہ کرنے کا بیس ہزار میں سودا کرنے پر مجھے سعادت حسن منٹو یاد آ گئے جو اپنی ”ضرورت“ پوری کرنے کے لیے پبلیشر سے سودا کر کے دستی افسانہ لکھ کر دے دیتے تھے۔

سب سے اچھی بات یاسر کی مجھے یہ لگی کہ انہوں نے ہمیشہ قلم سے مزدوری کی ہے اپنے قلم کو بیچا نہیں ہے۔ اتنی مشکل زندگی گزارنے کے بعد اتنا بڑا، مشہور اور مستند مترجم بننے کے باوجود بھی اس کی گردن میں ان لوگوں کی طرح سریا فٹ نہیں ہوا جو دو کتابیں لکھ کر اپنے آپ کو کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ لاہور میں بالمشافہ ملاقات میں مجھے وہ بڑا سادہ سا بندہ لگا، عام مشہور لوگوں کی طرح غرور نام کی کوئی چیز اس کی شخصیت میں نظر نہیں آئی۔ سچ پڑھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

Facebook Comments HS