انارکزم کی برائی کیوں؟
ملکی سیاست میں جب بھی ناکام معیشت اور مستقبل کی متزلزل سیاست کی بات ہوتی ہے تو دونوں طرف کے سیاستدانوں کی طرف سے ملک کے انارکی کی طرف گامزن ہونے کی پیش گوئی کی جاتی ہے ایسے جیسے کہ ملک خون خرابے کی طرف چلا جائے گا۔ عام طور پر انارکزم کو انتشار، افراتفری، نفسانفسی، مارا ماری، لوٹ مار، خون خرابہ، دہشت گردی اور ہر فرد کی دوسرے فرد کے خلاف جارحانہ رویہ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں اگر کوئی فرد کسی اتھارٹی کے بغیر آزاد معاشرے کے قیام کی بات کرے یا ریاستی اداروں کی حاکمیت کی مخالفت کرے تو ایسے خیالات یا نظریے کو کو فوری طور پر انارکسٹ قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔
حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب ٹیلی ویژن اسکرینز پر بیٹھے ہوئے تجزیہ داں اور ماہرین سیاست ملک میں نوآبادیاتی نظام کے تحت قائم اداروں کی حمایت میں اس حد تک چلے جاتے ہیں جیسے ملک کی بقا ان ہی اداروں سے مشروط ہے جبکہ بنگالیوں نے صرف ان اداروں کے ظالمانہ و جابرانہ اور نسل پرستانہ رویوں اور معاشی لوٹ مار کے باعث ہم سے آزادی حاصل کی تھی، بلکہ ہمیں پچاس سال قبل ہی کہہ گئے تھے کہ اگر امن و خوشحالی چاہتے ہو تو ان اداروں سے آزادی حاصل کر لو۔
اب وہی ادارے ہیں جن میں ان کی کارکردگی کے لحاظ سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جبر کا نظام پہلے کی نسبت زیادہ سخت ہو گیا ہے حالانکہ میڈیا انتہائی جدید سطحوں پر موجود ہے نیز سوشل میڈیا تو کسی کو بخشنے کو تیار نہیں پھر بھی جبر اور ظلم انتہائی پیچیدہ نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔ گرفتاریوں کے بعد جبری گمشدگیاں، عقوبت خانوں میں ہلاکتیں، پولیس مقابلے، فوج کا آڈٹ نہیں ہو سکتا، پولیس کو ایذا رسانی اور ماورائے قانون قتل پر مقدمات نہیں چل سکتے نہ سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
عدلیہ جو چاہے فیصلے کر لے، آئین کو بدل لے، پھانسی لگنے کے بعد ملزمان کو بری کر دیا جائے، لاکھوں مقدمات عدالتوں میں موجود ہیں سائل اپنے مقدمات اپنی نسلوں کو منتقل کر کے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ پھر بھی ملک کے آئین ساز اور قانون پر عمل کرنے کی نصیحتیں کرنے والے ادارے، وکلاء حضرات، بڑے بڑے دانشور، تجزیہ داں اور رائے عامہ کے ادارے کہتے ہیں کہ ”اداروں“ کے خلاف بات نہ کریں ورنہ ملک انارکی کی طرف جائے گا۔ یہاں کوتاہ نظر افراد کے لئے صرف یہی جاسکتا ہے اگر انارکزم بری شے ہے تو وہ پاکستان کے اداروں سے زیادہ برا نہیں ہو گا جو قرآن وسطی سے بھی بدتر ہیں۔

ان سب باتوں سے بالاتر، انارکزم ایک خوبصورت نظریہ ہے جو ریاستی جبر اور اداروں سے آزاد معاشرے کی تشکیل کا نظام پیش کرتا ہے۔ یہ ایک فلسفے اور تحریک کا نام ہے جو حاکمیت یا اختیارات کے تمام درجات کے خاتمے کی بات کرتا ہے۔ جہاں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے سخت خلاف ہے وہاں وہ حکومتوں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ نیشن اسٹیٹ (قومی ریاست) کے خلاف بھی جو انفرادی آزادی چھین لیتے ہیں۔ یہ حکومتوں کو ایک غیر ضروری طرز حاکمیت اور عوام کے لئے نقصان دہ سمجھتا ہے کیوں کہ حکومتیں لوگوں سے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے بھاری ٹیکسز عائد کرتی ہیں، اپنے اور اشرافیہ کے تحفظ کے لئے سخت قوانین نافذ کرنا، پولیس اور فوج کر بھاری تعداد بنا کر لوگوں کو مسلسل جرائم میں ملوث کرنا، سزاؤں کے لئے عدالتوں کا ایک سخت گیر جال بچھانا کہ ہر فرد خود کو مجرم سمجھے اور ریاست ہمہ وقت خود کو غیر محفوظ بنا کر عوام کی تمام ازادیاں چھین لیتی ہیں جن میں سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں ختم ہو کر لوگ روبوٹ بن جاتے ہیں۔ علم بھی وہی فراہم کیا جاتا ہے جو ریاست اور اس کے آقاؤں کی ضروریات کو پورا کرے۔
نراجیت پسند نظریہ داں Peter KropotKin پیٹر کروپوٹکن کے مطابق یہ دراصل ایسے اصول یا نظریہ زندگی اور رویے کا نام ہے جس میں ایسے معاشرے کی تشکیل ہی جو کسی کی فرمانبرداری اور حاکمیت کے بغیر قائم ہو۔ ہمارے چھٹ بھئیے دانشور چھوٹی اسکرینوں پر بیٹھ کر تباہ شدہ صورت حال اور خون خرابے کو انارکی سے تشبیہ دے دیتے ہیں۔ حالانکہ انارکی فلسفہ حیات میں ہر انفرادی فرد کی تکریم اور آزادی سے زندگی گزارنے کی بات کی گئی ہے، کسی کو کسی پر زور زبردستی دکھا کر اپنے تابع رکھنے کی سختی سے ممانعت ہے۔
یہ نظریہ اخلاقیات، اخلاقی بندھنوں اور باہمی تعاون پر زور دیتا ہے جس میں سزاؤں، قانون کی بالادستی کے نام پر فوج و پولس اور عدالتوں کا تصور نہیں ہے۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو کمیونٹی اس کو جرائم سے دور رکھنے کی ذمہ دار ہوگی۔ یعنی ہر کمیونٹی (یوں سمجھئے کہ ایک یونین کونسل کے برابر کی آبادی) میں آباد لوگ (مرد، خواتین اور بچے ) اپنے وسائل، اپنی کھپت اور ضروریات کے تحت باہمی رضامندی اور آزادانہ سمجھوتوں کے تحت مسائل حل کریں گے۔ امریکہ کی ممتاز اور ایوارڈ یافتہ مصنفہ Cindy Milstien نے انارکزم کی تعریف کچھ یوں کی ہے کہ ”آزاد افراد کی آزاد سوسائٹی“۔

انارکی یونانی زبان کے لفظ Anarkhia سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ”بغیر حاکمیت کے“ ۔ وسیع معنوں میں یوں ہے کہ کسی کی بالا دستی، اقتدار، یا مذہبی و نسلی اور ذات پات کی درجہ بندی یا خاندان کی حاکمیت کے بغیر معاشرہ قائم کرنا ہے۔ انارکی نظریہ کا سلسلہ قدیم یونان اور چین سے ملتا ہے جہاں کے فلسفیوں نے ریاست کے وجود کی موجودگی پر سوالات اٹھائے ہیں اور ایسے فلسفیوں نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ ہر فرد کا حق ہے کہ وہ کسی جبر اور اتھارٹی (حاکمیت) کے بنا آزادانہ زندگی گزارے۔ ان کا نظریہ تھا کہ دنیا یا معاشرے اور افراد کے گروہوں یا تنظیموں پر کسی کی حاکمیت نہیں ہونی چاہیے فیصلے باہمی مشاورت اور تعاون سے ہوں۔
میں یہاں انارکزم کی تبلیغ نہیں کر رہا ہوں اور نہ ہی انارکسٹ ہوں ہاں البتہ انارکزم کے نظریے کو پسند کرتا ہوں بالکل اسی طرح جس طرح دینی جماعتیں خود کو اسلام پسند کہلاتی ہیں یعنی وہ اسلام کو پسند کرتے ہیں اور اسلام سے تعلق نہیں۔ اسی طرح میں انارکی پسند ہوں۔ اس تحریر کا مقصد تجزیہ دانوں اور خاص کر ان تبصرہ نگاروں پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہر بے لگام سیاسی صورت حال کو انارکی کہہ دینا اپنی کم علمی کا اظہار ہے۔ ہو سکے تو اس کے بارے مطالعہ کر لیا جائے۔ اس ضمن میں کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں محض گوگل کرنے سے ہی کام چل جائے گا۔ لفظ انارکی کو بدنام کرنے سے بہتر ہے Chaos، افراتفری، نفسانفسی یا خون خرابے کے الفاظ استعمال کریں۔
ویسے یہ بتا دوں کہ گزشتہ تین چار دہائیوں سے انارکزم نے نئی نئی تحریکوں کو جنم دیا جن کے تحت سامراج اور عالمی معیشت کے خلاف بڑی بڑی تحریکیں چلائی گئی ہیں جن میں غریب ممالک میں لوٹ کھسوٹ اور ریشہ دوانیوں کے خلاف عوام کو منظم کیا ہے۔ ان تحریکوں میں نہ کوئی قائد ہوتا ہے نہ کوئی قائد تحریک۔ انارکزم کی تحریکیں عوام میں اتنی پیوست ہو گئی ہیں کہ صرف ٹویٹ فیس بک میسج پر لاکھوں کی تعداد لوگ نہ صرف شرکت کرتے ہیں بلکہ کئی روز تک سڑکوں پر قبضے بھی رکھتے ہیں اور ایسی تحریکوں میں لوگ رہائش و خوراک اپنے ہی خرچے پر کرتے بلکہ چندہ جمع کرنے کے خلاف بھی ہوتے ہیں۔

ان تحریکوں کے نتیجے میں انارکزم کے نظریے پر لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے کہ وہ خود عوامی تحریکوں کے قائد ہیں اور انہوں نے کسی کو اپنا حاکم نہیں بنایا۔ ان میں معاشی استحصال کے خلاف عوامی تحریکوں کو پاپولر بنانا، اور معاشی عالمگیریت کو مسترد کرنا جیسی تحریکیں شامل ہیں۔ امریکہ کے شہر سیٹل میں 1999 کی تحریک جب ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا اجلاس تھا جس کے دوران لاکھوں لوگوں نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بھرپور احتجاج کیا تھا۔ جس پر امریکی حکومت نے بدترین تشدد کیا، یہ مظاہرہ اجرتوں کی غیر مساوی تقسیم اور معاشی عالمگیریت کے ظالمانہ نظام اور منافع کے بے لگام حصول کے خلاف عوامی غصے کا بھرپور اظہار کیا۔ جنگ سیٹل نے اس کے بعد بہت ساری تحریکوں کو جنم دیا جن میں ورلڈ سوشل فورم، سڑکوں گلیوں پر قبضوں کا حق، یورپی یوم مئی (فرانس میں مسلسل چلنے والی مزدور تحریک، ماحولیات کی بحالی سمیت دنیا بھر میں بغیر کسی قیادت کے چلنے والی تحریکیں اور عرب اسپرنگ جیسی تحریکیں شامل ہیں۔


