ریٹائرڈ ملازمین اور حکمرانوں کی بے حسی
ملک عزیز پاکستان کے محکمہ شماریات کے مطابق ملک میں مہنگائی اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے جو کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے بلکہ اب تو اس کمر توڑ مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد سے ہٹ کر گھنٹوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ایسی صورتحال میں صاحب استعداد طبقہ سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ساتھ سفید پوش اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی دستیاب وسائل میں گزارا نہیں کر پا رہے اس مہنگائی نے غریبوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور متوسط طبقے کی تو کمر ہی توڑ کر رکھ دی ہے دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ کا جینا اور مرنا دونوں ہی دشوار ہوچکے ہیں عوام کی آمدن میں مسلسل کمی جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافے نے لوگوں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے پٹرول، بجلی، گیس، ایل پی جی، آٹا، چینی، گھی، سبزیاں دالیں، دودھ، دہی اور ڈبل روٹی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اب روز مرہ کی ضروریات کی اشیاء ان دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ کے افراد کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
غریب مزدور دن بھر خون پسینہ ایک کر کے محنت اور مزدوری کرنے والے مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں بھوک اور افلاس ان کے گھروں میں ڈیرے ڈال چکے ہیں۔ دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی کے حصول میں مشکلات کے سبب یہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں جو لوگ اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی نہیں خرید سکتے وہ علاج معالجہ کیسے کروائیں گے۔ ادویات کی ہوش اڑا دینے والی قیمتوں نے سفید پوش، مڈل کلاس دیہاڑی دار مزدور کو بنیادی علاج معالجہ کی سہولیات سے بھی محروم کر دیا ہے۔
مہنگائی کے اس بے قابو جن نے جہاں ہر طبقہ کو پریشان حال کر رکھا ہے وہیں پر ان لاچار بے کس و مجبور پریشان حال ریٹائرڈ ملازمین، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے جو پندرہ سے اٹھارہ ہزار پینشن لے رہے ہیں۔ جن کا اس پینشن کے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ حکومت ایک جانب گیس، بجلی اور پیٹرولیم کی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں رکھ پا رہی ہے۔ تو دوسری جانب یہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔
حکومت کا اولین فریضہ معمر شہریوں، بے سہارا افراد، بیواؤں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے لیکن حکومت ایک فلاحی اسلامی ریاست ہونے کی دعویدار تو ہے، لیکن پینشنرز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ بڑھاپے میں بہتر علاج اور بروقت ادویات ان کی زندگی کا اہم جز ہے مہنگائی کے اس طوفان میں جہاں پینشنرز بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کر رہے ہیں تو دوسری جانب یہ بہتر علاج اور ادویات کی سہولیات نا ملنے کے سبب سسک سسک کر اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔
ریاست عوام کے لیے ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔ یہ ریاست کی اولین ترجیحی ہونے چاہیے کہ یہ اپنی عوام اور خصوصی طور پر ان افراد کا خصوصی طور پر خیال رکھے جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال اس ریاست کی خدمت گزاری اور وقار کی بلندی کے لیے قربان کیے ہیں۔ اور اس ملک اور قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ریاست، صاحب اختیار، عصائے شاہی رکھنے والے اور ایوان عدالت میں فائز عدل و انصاف مہیا کرنے والوں کی جانب سے ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کے ان مالی، معاشی اور معاشرتی گمبھیر مسائل سے مسلسل چشم پوشی اور غفلت برتنا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی نظریاتی ریاست ہے ایک اسلامی فلاحی ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہوا کرتی ہے کہ وہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ بنیادی سہولیات میں چار طرح کی سہولیات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
1۔ خوراک
2۔ رہائش
3۔ علاج معالجہ
4۔ تعلیم
مگر لمحہ فکریہ ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے برتی جانے والے غفلت، لاپرواہی اور عدم توجہ کے سبب ملک و قوم کی خاطر اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال قربان کرنے والے۔ اور اس ملک کی حفاظت میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کی بیوائیں اور یتیم بچے ان تمام سہولیات سے محروم ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں سے اپیل ہے کہ وہ ایک اسلامی مملکت کے حکمران ہونے کے ناتے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے قانون کو پامال ہونے سے بچاتے ہوئے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن ایک تولہ سونا کی قیمت کے برابر کریں۔ بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچنے والے ان ضعیف العمر افراد کی اکثریت شوگر، بلڈ پریشر، امراض قلب، ذہنی امراض اور سینے کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ کئی مہلک بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ انہیں بہتر صحت کی سہولیات کی اشد ضرورت ہے ان کے میڈیکل الاؤنس کی رننگ پینشن کے حساب سے ادائیگی کی جائے اور ادویات کی بڑھ جانے والے دو سو فیصد قیمتوں کی مطابقت سے ان کے میڈیکل الاؤنس میں اضافہ کیا جائے۔
ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین اور دوران سروس وفات پا جانے والے ملازمین کی بیوائیں اور یتیم بچے لائف انشورنس اور باقی حقوق کے نہ ملنے کے سبب بے سروسامانی اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں خدارا ان بیواؤں اور یتیم بچوں کے حال پر ترس کھا کر ان کو ان کے حقوق فوری طور پر لوٹائے جائیں تاکہ یہ بھی معاشرے میں عزت اور وقار کی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔
جیسا کہ سال 2023 / 2024 کے بجٹ کا سیزن شروع ہو چکا ہے بجٹ کی تیاری کی خبریں آنا شروع ہو چکی ہیں۔ میری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ ایسے میں ان تیس سے چالیس سال تک ملک و قوم کی خدمت سر انجام دینے والے اور دوران سروس اپنی تنخواہوں سے ہر ماہ ایک خاص رقم کی کٹوتی کے ساتھ ساتھ باقاعدگی کے ساتھ اپنی آمدنی کے ٹیکس کی ادائیگی کرنے والے ان پینشن کے حقدار قرار دیے جانے والوں کو ماضی کے حکمرانوں کی طرح انہیں فراموش اور مایوس نہ کیا جائے۔
کیونکہ ماضی میں حکمرانوں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ پہلے پہل پینشنرز کو تیس سے پینتیس فیصد کی خبریں سنا سنا کر اور آئے دن ان میں ردو بدل کر کے بجٹ والے دن ان کو بڑے احسان کے ساتھ پانچ یا دس فیصد کی نوید سنائی جاتی رہی ہے۔ ملک میں گرتی ہوئی معیشت مہنگائی بے روز گاری بدامنی اور حکمرانوں کی جانب سے برتی جانے والی بے حسی کے سبب یہ ریٹائرڈ ملازمین اپنی زندگیوں سے عاجز اور بے زار آچکے ہیں۔ اب ان میں زور و زبر سے تھوپے گئے بجلی، گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگیوں کی سکت اور ہمت نہیں رہی ہے اب ان کے کاندھے مزید بار اٹھانے سے جواب دے چکے ہیں۔
اب ان کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے۔ اس سے پہلے کہ منہ زور مہنگائی، بے روز گاری اور بڑھتی ہوئی بدامنی کا یہ عفریت سب کچھ نگل لے اس سے پہلے روٹی کپڑا اور مکان، ووٹ کو عزت دو، نئے پاکستان بنانے والے اور پرانا پاکستان یا ایک ہی پاکستان کے نعرے لگانے والوں کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ غربت بے روز گاری اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف سنجیدگی کے ساتھ عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔ کیوں کہ یہ ملک و قوم اب حکمرانوں کی آپس کی چپقلش، اداروں کے درمیان طاقت کے حصول کی رسہ کشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بھوک، افلاس اور بے روز گاری، کے سبب پیدا ہونے والی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔


