ادھ کھلی کھڑکی
وہ آج بھی حسب معمول ناشتہ کر کے، اپنے کمرے کی اس ادھ کھلی کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی، جس سے سامنے والے باغ کا نظارہ کیا جاسکتا تھا، اور جہاں بھانت بھانت کے لوگ آ کر اس ماحول سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ کمرہ ایک ایسی کال کوٹھڑی تھی، جہاں وہ قریب بائیس برس سے مقید تھی، اور اپنی زندگی کے ایام بے بسی اور لاچارگی کے ساتھ کاٹ رہی تھی۔ وہ باہر کی دنیا سے مطلق بے خبر اور کائنات کے متعلق بالکل لاعلم تھی، کیونکہ یہ کمرہ اور باغ ہی اس کی کل کائنات تھی۔
اس نے اپنی پیدائش سے لے کر آج تک گھر کے آنگن سے ایک قدم بھی باہر نہیں رکھا تھا، کیونکہ اس کے والدین کی یہی مرضی تھی۔ وہ والدین کی اکلوتی اور چہیتی اولاد تھی، جو انہیں بے حد عزیز تھی۔ وہ اس کے ناز نخرے اٹھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے اور جو منہ سے مانگتی مل جایا کرتا تھا۔ باپ اپنی بیٹی پہ صدقے واری جاتا اور ماں جھوم جھوم کر بلائیں لیتی گویا وہ پیار جس کا ایک انسان تصور کر سکتا ہے، وہ اسے گھر میں ملا ہوا تھا۔
دنیا کی وہ کون سی نعمت اور آسائش تھی، جو اسے اس کمرے میں میسر نہ تھی، مگر اس سب کے باوجود اگر اس کی زندگی ایک نعمت سے محروم تھی تو وہ تھی آزادی۔ کیونکہ اس کے والدین اس بات پہ کبھی بھی آمادہ اور رضامند نہیں ہوئے، کہ وہ اپنی بیٹی کو گھر سے باہر لے کر جائیں اور اسے اس خوبصورت دنیا کے حسیں نظاروں سے روشناس کروائیں۔
تمام عمر اسی ایک کمرے کے گھٹن زدہ ماحول میں اگر کوئی اس کا مونس اور غمگسار تھا تو وہ ایک چڑیا تھی، جس نے بانس کے بنے چھت میں اپنا گھونسلہ بنا رکھا تھا اور وہ رات کو یہاں قیام کر کے اگلی صبح اسی ادھ کھلی کھڑکی سے باہر اڑ جاتی تھی جس سے وہ لڑکی باغ کا نظارہ کرتی تھی۔ چنانچہ وہ جیسے ہی شام کو واپس گھونسلے میں آتی، تو یہ اس چڑیا کے ساتھ باتیں کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی، اور دل ہی دل میں سوچتی کہ یہ چڑیا کتنی خوش قسمت ہے جسے جینے اور آنے جانے کی مکمل آزادی میسر ہے۔
ہر صبح جونہی وہ چڑیا گھونسلے سے اڑان بھر کر کھلی فضا میں سیر کے لئے نکل جاتی، تو یہ لڑکی اس ادھ کھلی کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہوجاتی اور باغ کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے میں لگ جاتی۔ اگرچہ وہ باغ کافی کشادہ اور خوبصورت تھا، مگر ادھ کھلی کھڑکی سے اس کا محض ایک گوشہ ہی وہ دیکھ پاتی، اور اسی سے اٹکل پچو لگا کر باقی باغ کے متعلق بھی خیالات بنتی رہتی۔
وہ ان ہنستے مسکراتے چہروں کو غور سے دیکھتی رہتی، ان کی حرکات و سکنات کا بغور مشاہدہ کرتی اور جی ہی جی میں کڑھتی رہتی کہ کاش! وہ بھی اس آزاد فضا میں جاکر چند گھڑیاں گزارتی اور اس باغ کی رونق سے لطف اندوز ہوتی۔ اس ادھ کھلی کھڑکی میں سارا دن کھڑے رہتے ہوئے، اسے اس بات کا قطعاً احساس نہ ہوتا کہ کب صبح کی ٹھنڈک، دوپہر کی جھلسانے والی دھوپ میں تبدیل ہوئی اور کب سورج ڈھلتے ڈھلتے مغربی افق کے کنارے جا لگا۔ وہ وقت کی اس گردش سے بے نیاز، بس سارا دن دو پاؤں پہ کھڑی اس جیل نما کمرے سے عارضی فرار اختیار کیے، بیرونی دنیا کا مشاہدہ کیے جاتی۔
وہ کبھی باغ میں اڑتی رنگ برنگی تتلیوں کو دیکھتی، تو تمنا کرتی کاش وہ تتلی ہوتی، اور کبھی پھولوں کے گرد منڈلاتے اور چہچہاتے پرندوں کی طرح اپنے آپ کو پرندوں کے غول میں شامل ہو جانے کی دعا مانگتی۔ کبھی ان بچوں اور بچیوں کو ہنستا مسکراتا دیکھتی، تو اپنے آپ کھلکھلا کر یوں ہنستی، جیسے یہ بھی ان بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ کبھی دو چار لڑکیوں کی ٹولی کو دیکھتی جو آپس میں ہنس ہنس کر باتیں کرتے، باغ میں سیر کر رہی ہوتیں تو اس کا دل بے اختیار تمنا کرتا کہ کاش! اس کی بھی سہیلیاں ہوتیں، جن کے ساتھ وہ باغ میں جاتی اور اس خوبصورت نظارے سے محظوظ ہوتی۔ وہ اس باغ کی ہر چیز اور ہر انسان کو اس انداز سے دیکھتی کہ جیسے ایک چھوٹا بچہ کسی ایسے کھلونے کو دیکھتا ہے، جس کو حاصل کرنے کی سکت اس میں نہیں ہے۔
الغرض ہر وہ چیز جو اس باغ کا حصہ اور آزاد تھی، اس سے اس لڑکی کو پیار اور انس تھا۔ اس کا دن یونہی باغ کی رونق دیکھتے ہوئے گزر جاتا، مگر جب رات کے سائے پوری طرح نمودار ہو جاتے اور باغ بھی ویران ہوجاتا، تو وہ بستر پر آ کر لیٹ جاتی اور پھر کمرے کی چھت اور اس کی دیواروں کو نفرت بھرے انداز سے یوں گھورتی رہتی، جیسے یہ دیواریں اس کی دشمن اور اس کے ارادوں میں مزاحم ہیں۔ جب دیواروں کو گھورتے گھورتے وہ تھک جاتی تو اس پرندے کو دیکھنا شروع کر دیتی، جو سارا دن باہر گزار کر اب اس کے کمرے میں بنے گھونسلے میں محو استراحت تھا۔ اس کے لئے دن گویا ایک ہوا کا مختصر جھونکا تھا، جو آناً فاناً گزر جاتا ہے، جبکہ رات وہ سخت طوفان تھا جو تھمنے اور رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ایک ایسا طوفان جس نے اس کے اندر شکست و ریخت کرتے ہوئے، اس کو اندر سے توڑ ڈالا تھا۔
کیونکہ انسان کبھی بھی ایک حالت پہ قانع نہیں رہتا، اور اپنے حالات اور رسم و رواج سے بغاوت کرتا ہے۔ لہذا اب اس نے بھی بغاوت کا فیصلہ کیا اور آزادی حاصل کرنے کے بارے میں سوچنے لگ پڑی۔ کبھی اس کا دل چاہتا کہ وہ کھڑکی کے پاس جاکر زور زور سے چلا کر، راہ گزرتے افراد کو اپنی جانب متوجہ کرے، تو کبھی وہ اس ادھ کھلی کھڑکی کو توڑ کر، یہاں سے ہمیشہ کے لئے نکل جائے۔ مگر وہ ایک عورت تھی اور نہایت ہی کمزور۔ جس کے گرد والدین کی بے جا تشویش اور غیرت کا ایک مضبوط جال تنا ہوا تھا۔ یہ جال اس قدر مضبوط اور سخت تھا، کہ وہ چاہنے کے باوجود بھی اس کو توڑ نہیں سکتی تھی۔ وہ ایک جانب آزادی کی متوالی تھی، تو دوسری جانب والدین کی محبت اور ان کی عزت کے آگے مجبور۔ سو آزادی اور غیرت کے مابین ایک سخت معرکہ اس کے اندر بپا تھا، جس میں کوئی بھی فریق ابھی تک کامیاب نہ ہوسکا تھا۔
جب اس جنگ نے مزید طوالت پکڑی اور اس لڑکی کے اعصاب جواب دے گئے، تو اس نے ایک فیصلہ کیا۔ ایک ایسا فیصلہ جس میں اسے آزادی بھی نصیب ہو جائے گی اور والدین کی عزت پہ بھی کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ اور پھر اس بہادر لڑکی نے اپنی زندگی کا سب سے مضبوط فیصلہ ایک روز کر ہی لیا۔ چنانچہ ایک صبح جب اس کی ماں اسے کمرے میں جگانے آئی، تو وہ اپنے بستر پر مردہ پڑی تھی۔ اس کی آنکھیں ادھ کھلی کھڑکی کی جانب کھلی ہوئیں، جبکہ ہاتھوں نے پلنگ کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ اس کے کمرے میں موجود اس کا اکیلا ساتھی وہ پرندہ بھی جا چکا تھا، جس کے ساتھ اس کی روح پہلی مرتبہ اس ادھ کھلی کھڑکی سے باہر نکل کر، آزاد فضا میں اڑنے گئی تھی۔


