بنت داہر – ایک نیا زاویہ


ہندوستان کے زر سے زن تک لوٹنے والوں کو اس سماج نے اچھی طرح نہیں پہچانا۔ اس سماج میں کنفیوژن کے انبار پہاڑوں کی طرح تہہ در تہہ دبیز موجود ہیں جو اس سماج کے نا بلوغت کا اظہار ہیں۔ عربوں سے لے تاتاریوں اور آریاؤں نے جب بھی زر، زن اور دھن کی کمی محسوس کی تو ہندوستان پہ چڑھائی کردی۔ انہی کشمکش میں ہندوستان کے باشندے اپنی تہذیب و تمدن کو بھی پس پشت ڈال بیٹھے، اپنے اقدار و روایات کے مٹنے کے نوحے اور مقدمے لکھتے رہے۔

انہی نوحوں میں ایک نوحہ صفدر زیدی کا بھی ہے جسے اس نے بنت داہر کا نام دیا ہے۔ بنت داہر سندھ تہذیب و ثقافت کا ترجمان اور مقامیت کی وہ موقف ہے جسے بعض ادیب دینے سے کتراتے ہیں۔ ناول میں مصنف نے عربوں کی جبر و تشدد اور سفاکیت کو دنیا کے سامنے لانے اور سندھ واسیوں کا حقیقی چہرہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔

ناول میں مصنف نے حجاج بن یوسف اور خلیفہ ولید بن ملک کے چھپے مذہب کے آڑ میں حرص و ہوس کو بے نقاب کر کے ہندوستان اور سندھ کے لوگوں پر عیاں کیا ہے کہ کس طرح عربوں اور بن قاسم نے سندھ کو یرغمال بنا کے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں۔ سندھ پر حملے سے عربوں نے یہاں کی دولت، اسباب اور عورتوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔ مصنف نے سندھ میں بسنے والے بدھوں، جینیوں اور سناتن دھرم کے پرامن پیروکاروں پر ڈھائے گئے مظالم کو ان کی وحشت اور درندگی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔

عربوں کے حملے سے قبل کا سماج پرامن، مہذب، ہم آہنگ، بلوغت سے آشکار اور باوقار اور سلیقہ مند دکھایا گیا ہے۔ حملے کے بعد سندھ واسیوں کے عورتوں کو کنیز، غلام اور داسی بنا کر انہیں بے آبرو، ان کی عزت کو تخت و تاراج کر کے انہیں ناکارہ بنایا گیا ہے۔ ناول میں عرب مسلمانوں کے اندرونی چپقلش اور تضادات کو بھی دکھایا گیا ہے جس میں خلیفہ اختیارات اور طاقت کے نشے میں سرشار ہوکے قتال کراتا ہے اور اپنے مخالفین اور نقادوں کو کیسے نیست و نابود کرنے کے جتن کرتا ہے۔

حملے کے وقت مذہب کے نام پہ دھن، دولت، زر و زن حاصل کرنا اولین ترجیح ہوتا ہے، کہیں بھی قبضہ کرنے کے بعد وہاں کی عورتوں کو اپنے تحویل میں لے کے ان جسموں سے کھیلنا اہم فتح میں شمار ہوتا ہے۔

ناول میں جابجا عورتوں کے ساتھ شب زفاف منانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں جس سے مصنف ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ عرب سپہ سالار اور سپاہی سیکس کی وحشت میں مبتلا ہیں۔ بے نقاب اور غیر حجاب عورتوں کے سامنے ان کا ایمان آٹے کا چراغ ثابت ہوتا ہے۔ بظاہر ایمان کی عظمت پہ دلائل کے دستر خوان بچھانے والوں کا ایمان ایک عورت کی جھلک دیکھتے ہی ڈگمگانے لگتا ہے اور ہوائے نفس میں شلوار نیچے گر جاتا ہے۔

مصنف نے ناول میں محمد بن قاسم کو ایک مہرہ کے طور دکھایا ہے جس سے جبرا کام لیا جا رہا ہے۔ محمد بن قاسم راج کماری سوریا کو رجھانے میں لگ جاتا ہے۔ دونوں میں خوب گاڑھی چھن جاتی ہے، دونوں ایک دوسرے سے خوب رومانس اور وعدے وعید کرتے ہیں۔ راج کماری محمد بن قاسم کو سپہ سالاری چھوڑ کر بھاگنے کی ترغیب دیتی ہے۔ دونوں رضامند ہو جاتے ہیں کہ وہ اس جہاں سے بھاگ کر دوبارہ سندھ کی آزادی کے جتن کرنے اور عربوں سے چھٹکارا پانے کی جستجو کریں گے۔

حجاج بن یوسف کو خلیفہ ولید بن ملک کی جانب سے زہر دے دیا جاتا ہے، طبیب کی دوا لادوا بن جاتی ہے۔ حجاج کو اپنے کیے گئے جرم یاد آتے ہیں، محمد علافی اور ابن زبیر کو محض ان کے اختلافات کے باعث قتل کرنے کا لمحہ ان کے آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ زہر اور ماضی کی یادیں حجاج کو ستاتے ہیں جب ستانے کی حد کراس کر جاتا ہے تو حجاج اپنے آپ کا خاتمہ آگ میں ڈال کر کر دیتا ہے۔ حجاج کی موت کے بعد خلیفہ ولید حجاج کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے قتل کرا دیتا ہے۔ ادھر محمد بن قاسم جونہی فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے انہیں پکڑ کر لیا جاتا ہے، راج کماری محل سے دریائے سندھ میں چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

ناول میں مصنف نے سندھ کو پرامن، خاطر تواضع کرنے والا، باشندوں کو محبت سے لبریز اور بالغ ذہن اور شعور والا دکھایا ہے۔ عربوں اور حملہ آوروں کی سفاکیت اور ہوس کو بے نقاب کر کے ان کے ناقص عزائم کو ظاہر کر کے ان کے جرم کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔ مصنف نے باقی ماندہ ادیبوں کی طرح حملہ آوروں کو ہیرو کی بجائے ولن دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مذہب کی آڑ میں پس پشت مقاصد و عزائم کو ذاتی مفادات قرار دیا ہے۔

یہ کتاب 335 صفحات پہ مشتمل ہے اور عکس والوں نے شائع کی ہے جس کی قیمت 1200 مقرر کی گئی ہے
تبصرہ:محمد سلیم حلبی

Facebook Comments HS