احفاظ الرحمٰن کی شعلہ نفسی
زاہدہ حنا نے احفاظ پر اپنے ایک مضمون میں انہیں شعلہ نفس اور شرر بار بتایا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ احفاظ کی اس سے اچھی اور جامع تعریف نہیں ہو سکتی، ان چند الفاظ میں ان کی پوری شخصیت کا احاطہ ہوجاتا ہے۔ ان کی اس شعلہ نفسی اور شرر باری سے ان کے مخالفین جتنا ڈرتے تھے، ان کے موافقین بھی اتنا ہی ڈرتے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ مخالفین ان کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی موقع چھوڑتے نہیں تھے اور ان کے دوست اس لئے گھبراتے تھے کہ کہیں ان کی کوئی کمزوری یا کوتاہی موصوف کی شعلہ نفسی اور شرر باری کی زد میں نہ آ جائے۔ میں یہ بات اس لیے کہ رہا ہوں کہ میں خود کئی بار ان کی ان صفات کی زد میں آ چکا ہوں اور ان کے بہت قریبی دوستوں کو ان کے غصے کا شکار ہوتے دیکھ چکا ہوں۔
ایک بار ایسے ہوا کہ سندھی روز نامے ہلال پاکستان کی نو منتخب یونین کی ایپنیک میں شمولیت کے مسئلے پر ایپنیک کراچی کا اجلاس جنگ کی عمارت میں ہو رہا تھا، اجلاس میں جھگڑا ہو گیا، پیپلز پارٹی کی حکومت تھی ہلال پاکستان کی یونین جس کی ہم حمایت کر رہے تھے اس کی ایپنیک کراچی کی مجلس عاملہ میں ہمارے بعض ساتھی مخالفت کر رہے تھے، مخالفین میں احفاظ کے بہنوئی نسیم شاد بھی شامل تھے، میں اپنی تقریر میں ذرا جذباتی ہو گیا اور چیخنے چلانے کے ساتھ ساتھ سینہ کوبی پر اتر آیا، احفاظ میری دہائیوں اور آہ و زاری سے ایسے متاثر ہوئے کہ انہوں نے نسیم شاد کا گریبان پکڑ لیا، اجلاس میں بھگدڑ مچ گئی اور کمرے میں صرف صف اول کے مجاہدین رہ گئے نتیجے کے طور پر کورم ختم ہو گیا اور بغیر کسی فیصلے کے اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔
ایسے ہی ایک بار ملتان یا بہاولپور میں پی ایف یو جے اور ایپنیک کی مجلس عاملہ کا اجلاس تھا، کراچی سے برنا صاحب، ظفر بھائی (ظفر رضوی مرحوم) پیکر نقوی، محمود علی اسد، احفاظ اور خاکسار ٹرین کے ذریعے روانہ ہوئے۔ عثمانی صاحب، آئی ایچ راشد اور راقب صاحب وغیرہ کو لاہور سے آنا تھا، ولی محمد واجد اور دوسرے کچھ ساتھی ملتان سے آئے۔ میزبانی بہاولپور والے کر رہے تھے جس میں مجید گل اور وہاں کے دوسرے ساتھی کر رہے تھے، میں ٹرین میں راستے بھر فیض، ساحر، اختر الایمان کے اشعار جو یاد تھے سناتا رہا اور احفاظ نہ صرف سنتے رہے بلکہ دادا بھی دیتے ر ہے۔ اتفاق سے وہاں مقامی انتظامیہ نے ہمیں میٹنگ کی اجازت نہیں دی چنانچہ میٹنگ کا انتظام شہری حدود سے باہر ایک گاؤں میں کرنا پڑا۔ اجلاس میں ایک نکتہ میں اٹھانا چاہتا تھا اور احفاظ چاہتے تھے کہ اس پر بحث نہ ہو لیکن اجلاس میں، میں نے اس موضوع پر بحث چھیڑ دی، بڑی گرما گرم بحث ہوئی، احفاظ نے اجلاس میں تو میری مخالفت نہیں کی لیکن میری اس حرکت پر ناراض ہو گئے اور واپسی کے سفر میں، میں نے پھر وہی اشعار سنانے شروع کیے جو آتے ہوئے سنا رہا تھا لیکن اس بار احفاظ داد دینے کے بجائے ان میں مین میخ نکالنے لگے کہیں کہتے سکتہ آ گیا ہے ٹھیک سے پڑھو کہیں کہتے یوں نہیں یوں ہے نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے بڑی ترش روئی سے منع کر دیا ’یار یہ بکواس بند کیجئے مجھے نیند آ رہی ہے‘ ان کے اس رویے کی تلخی خاصے دنوں تک ہمارے تعلقات پر حاوی رہی، یہاں تک کہ مجھے بے روزگاری نے آن لیا اور احفاظ سے نہ صرف ہمارے تعلقات بحال ہو گئے بلکہ وہ مجھے نوکری دلوانے کی کوششوں میں لگ گئے۔
نعیم آروی اور نصر ملک سے ان کی بڑی دوستی تھی لیکن میں نے ان دونوں سے ان کی لڑائی بھی دیکھی ہے اور نعیم مرحوم جسمانی اعتبار سے پیٹھ پر زور کی تھپکی سہنے کے بھی قابل نہیں تھے لیکن احفاظ کے مقابلے میں ایسے ڈٹ جاتے کہ ان کو نارمل کرنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے اور عموماً میں نے احفاظ ہی کو معاملے کو رفع دفع کرنے میں پہل کرتے دیکھا ہے، یہی حال نصر ملک کا تھا۔ نصر ملک نے بعد میں صحافت کے پیشے سے علحدگی اختیار کرلی تھی اور لیاری میں کوئی اسکول چلا رہے تھے لیکن ’پریس کلب‘ یا ’کے یو جے‘ کے انتخابات کے موقع پر احفاظ کے کہنے پر آ جاتے اور انتخابی مہم میں ان کے ساتھ ساتھ رہتے۔
ایک اور واقعہ سنتے چلیے، بھٹو کی پھانسی کے کچھ ہی دنوں بعد ’روزنامہ سن‘ بھی بند ہو گیا جس سے میں وابستہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں بےروزگار ہو گیا۔ کچھ ادھار قرض پر گزارا ہو رہا تھا کہ ایک دن محمود علی اسد مرحوم نے مژدہ سنایا کہ میر جاوید الرحمٰن نے بلایا ہے۔ میں گیا تو میر جاوید نے کہا ’آپ جنگ پنڈی کے لئے ایک ہفتہ وار کالم لکھیں دو سو روپے فی کالم ملیں گے‘ یہ پیشکش محمود علی اسد کی کوششوں کا نتیجہ تھی، میں نے فوراً قبول کرلی، مہینے میں کبھی آٹھ سو کبھی ہزار روپے مل جاتے، یہ کچھ نہیں سے بہتر تھا اور یہ سلسلہ چل نکلا کہ ایک دن اطلاع ملی کہ ’جنگ کے دفتر میں کارکنوں کا احتجاجی جلسہ ہو رہا ہے جس میں تمہیں بھی شریک ہونا ہے‘ میں نے بڑے ہاتھ پاؤں جوڑے، اپنی بے روزگاری کی دہائی دی لیکن نہ احفاظ مانے نہ اسد نے سنا۔ مجبوراً جلسے سے خطاب کرنا پڑا اور یہ کالم بند ہو گیا اور پھر وہی بیروزگاری کی لعنت۔ بہر حال یہ سلسلہ جلد ہی ختم ہو گیا اور اجمل دہلوی صاحب نے دوبارہ امن میں بلا لیا، وہاں میں نے وہی کالم جو جنگ پنڈی میں لکھتا تھا امن میں شروع کر دیا، یہ پس پردہ غالباً احفاظ ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔
معاملہ جب اجتماعی جدوجہد کا ہوتا تو احفاظ تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیتے اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے بھی یہی توقع رکھتے جس میں ان کو اکثر مایوسی ہوتی۔ ان کی ان حرکتوں کے نتیجے میں مجھے دو نوکریاں ملیں اور دو سے نکلنا پڑا۔ دوستوں اور اپنے ہم عصروں سے ان کے لڑائی جھگڑوں کا حال آپ نے سنا۔ یہ سلسلہ اتنا طویل ہے کہ صرف اس موضوع پر ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں ذرا سی بات پر وہ آستین چڑھا لیتے وہاں اپنے سینئرز کی ناگوار سے ناگوار بات بھی بڑے تحمل سے برداشت کر لیتے ان بزرگوں میں برنا صاحب، شوکت صدیقی، عثمانی صاحب، حفیظ راقب، قیوم بھائی، خالد علیگ وغیرہ شامل تھے، ان سے اختلاف کی صورت میں چپ ہو جاتے یا کسی بہانے اٹھ کر چلے جاتے اور پیٹھ پیچھے بھی شکایت یا نکتہ چینی سے گریز کرتے۔
بہرحال یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر ، یہاں میں ایک بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں، ہم سارے دوستوں میں ایک بات مشترک تھی اور وہ یہ کہ ہم کھلی آنکھوں سے خواب دیکھتے تھے، اس دنیا کو ایک بہتر دنیا بنانے کی آرزو تھی فرق صرف یہ تھا کہ ہم میں سے کچھ خواب کو خواب ہی سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ اس کی تعبیر الٹی ہو سکتی ہے اور اگر الٹی نہ بھی ہو تو ہو بہو سیدھی تو نہیں ہی ہوگی۔ کچھ ایسے تھے جو اپنے خوابوں پر حقیقت کی حد تک یقین رکھتے تھے۔ وہ یہ تسلیم کرنے پر تیار ہی نہیں ہوتے تھے کہ انہوں نے جو کچھ سوچا ہے وہ محض خواب ہے۔ میری نظر میں احفاظ کا تعلق ہمارے اس دوسری قسم کے دوستوں سے تھا، جبکہ میں اپنے آپ کو پہلی صف میں شمار کرتا ہوں۔ چنانچہ ہم اپنے ان خوابوں کی تعبیر سے جلد ہی مایوس ہو گئے اور اپنا بوریا بستر لپیٹ کر منظر سے غائب ہو گئے۔ انہوں نے مایوس ہونے میں خاصی دیر لگا دی بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ وہ مرتے دم تک مایوس نہیں ہوئے۔
اپنی اس استقامت کا انہیں مختلف شکلوں میں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا، ان کے اندر ایک غصے کی کیفیت پیدا ہو گئی، جہاں تک اس غصے کا تعلق ہے اسے اپنے مخالفین پر اتارنے کا انہیں کم ہی موقع ملتا اس لئے ہمہ وہ وقت اپنے آپ سے لڑتے رہتے اور جب اپنے اندر کی اس لڑائی سے تھک جاتے تو اپنے دوستوں پر یہ غصہ اتارتے، چنانچہ میں نے انہیں جن دوستوں کے لئے روتے ہوئے دیکھا ہے ان سے لڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور جن سے لڑتے ہوئے دیکھا ہے ان کے لئے انہیں لڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے، میں خود بھی کئی بار ان کے اس عتاب کا شکار ہوا ہیں، جبکہ وہ اکثر میری بے روزگاری دور کرانے یا میری اجرت ویج بورڈ کے مطابق دلوانے میں پیش پیش رہے ہیں۔
ان میں ایک اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ جلسے جلوس یا یونین کے کاموں میں تو وقت کی بہت پابندی کرتے لیکن سیگریٹ نوشی کے سوا کسی اور آلائش میں مبتلا نہیں تھے پریس کلب میں بھی میں نے انہیں شطرنج کھیلتے تو دیکھا ہے لیکن کارڈ روم میں کسی سے ملنے کے لئے بھی جاتے ہوئے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ پریس کلب بھی وہ عموماً شطرنج کھیلنے ہی آتے اور زیادہ تر نرگس خانم اور غازی صلاح الدین کے ساتھ کھیلتے دکھائی دیتے۔ کسی استقبالیے یا دعوت میں جانے سے گریز کرتے جبکہ ہم لوگ خبر ملتے ہی علیم الدین پٹھان، چھاپرہ یا اقبال جعفری کی گاڑیوں پر اپنی سیٹ بک کرا لیتے تھے لیکن احفاظ اس طرح کے اجتماع سے ہمیشہ گریز کرتے، کم از کم میں نے تو یہی دیکھا کہ جہاں کوئی اس قسم کی اطلاع ہوئی نعیم آروی، مشتاق میمن، صبیح الدین غوثی وغیرہ کپڑے بدل بدل کر شام سے ہی پریس کلب کے لان میں ٹہلنے لگتے لیکن ایسے مواقع پر احفاظ غائب ہو جاتے۔
اور یہ حقیقت ہے کہ اس طرح کی محفلوں میں بعض موقعوں پر ہمیں بڑی سبکی کا بھی سامنا کرنا پڑتا، مثلاً ایک بار سابقہ سوویٹ یونین کے سفارت خانے کی طرف سے ’بلیک ہاؤز‘ میں استقبالیہ تھا مشتاق میمن سوٹ پہن کر اور ٹائی باندھ کر آ گئے کہ ’میں بھی چلوں گا‘ سب نے مخالفت کی، پر میں کسی طرح علیم الدین پٹھان کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ مشتاق نے بھی بڑی یقین دہانیاں کرائیں لیکن وہاں جیسے ہی رنگ پر محفل آئی مشتاق نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک فلک شگاف نعرہ مارا ’ڈاؤن وتھ ریویژنزم، (Down with Revisionism) اس سے پہلے کے دوسرا نعرہ مارتے، میں نے دوڑ کے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا لیکن جناب انہوں نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور دوسرا نعرہ بھی لگانے میں کامیاب ہو گئے، ایک لمحے کے لئے پوری محفل میں سناٹا چھا گیا، میں انہیں کسی طرح گھسیٹتا ہوا باہر لایا پھر جو انہوں نے حرکتیں کی ہیں، ان کا ذکر بھی مشکل ہے۔ بڑی مشکل سے ایک ہمدرد پولیس والے کی مدد سے ایک رکشہ روکا اور انہیں لے کر پی پی آئی کے دفتر لایا، اس زمانے میں وہ پی پی آئی سے وابستہ تھے، انہیں دفتر میں ایک خالی ٹیبل پر زبردستی سلایا، ویسے وہ خود بھی اس وقت تک کچھ ڈھیلے پڑ گئے تھے، وہاں سے فارغ ہو کر میں پھر واپس بلیک ہاؤز گیا، وہاں محفل برخواست ہونے لگی تھی لیکن میرے تمام دوست میرے خلاف اپنی تلواریں سونتے ہوئے کھڑے تھے اور پھر میرا جو حشر ہوا ہے اس کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے.
ایسے ہی ایک موقع پر فلیٹ کلب میں مشاعرہ تھا، ضیا الحق کے مارشل لا کا ابتدائی زمانہ تھا ہم میں سے وہاں کوئی نہیں گیا لیکن مشتاق میمن کسی طرح پہنچ گئے اور اچانک کھڑے ہو کر نعرے لگانے لگے‘ ڈاؤن ود مارشل لا اور ڈاؤن ود جنرل ضیا’ پولیس والے انہیں اٹھا کر تھانے لے گئے۔ مشاعرے میں انوپا بھی اسٹیج پر بیٹھی تھیں۔ (پتہ نہیں انوپا اب کتنے لوگوں کو یاد ہوں گی۔ زندہ بھی ہیں یا گزر گئیں، مجھے نہیں معلوم) وہ پیچھے پیچھے تھانے پہنچیں اور کسی طرح انہیں چھڑا لائیں لیکن انہیں مشتاق کا نام نہیں معلوم تھا جب پولیس والوں نے دریافت کیا کہ آپ انہیں جانتی ہیں تو انہوں نے بڑے وثوق سے گردن ہلاتے ہوئے کہا ’ہاں بھائی یہ علی احمد ہیں، صحافی ہیں اور امن اخبار میں کام کرتے ہیں۔ پولیس والوں کو کچھ رحم آ گیا اور انہوں نے مشتاق کو ان کے حوالے کیا اور وہ انہیں پریس کلب چھوڑ کر واپس چلی گئیں۔
صبح کو میرے پاس انوپا کا ٹیلی فون آیا کہ ایسے ایسے ہوا اور مجھے بندے کا نام نہیں معلوم تھا، میں نے تمہارا نام بتا دیا۔ میں نے سر پکڑ لیا۔ کوئی چار بجے سہ پہر کو پریس کلب پہنچا تو دیکھا مشتاق لان میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہیں بلکہ لہک لہک کر اپنی اس مہم جوئی کے قصے سنا رہے ہیں۔ اتنے میں احفاظ آ گئے، انہیں جب اس واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے جناب بقول ان کے ہماری ان غیر ذمہ دارانہ حرکتوں پر ایک بہت ہی فصیح و بلیغ تقریر کر ڈالی جو مشتاق نے ایک کان سے سنی اور دوسرے سے اڑا دی لیکن مجھے ان کے حصے کی شرمندگی بھی برداشت کرنی پڑی۔

اگر مجھے صحیح یاد ہے تو ابراہیم جلیس صاحب کے انتقال کے بعد ارشاد راؤ نے مساوات کراچی کی ادارت اور انتظامی امور سنبھال لئے یا انہیں سونپ دیے گئے، اخبار کے صحافیوں اور عملے کے دوسرے افراد کی تنخواہوں اور دوسرے واجبات کے سلسلے میں کچھ تنازع پہلے سے چل رہا تھا، ارشاد راؤ نے جب اخبار کا کنٹرول سنبھالا تو احفاظ کی ان سے ٹھن گئی۔ یہاں تک کہ ایک دن احفاظ الفتح کے دفتر پہنچ گئے اور ارشاد راؤ سے بحث مباحثہ شروع ہو گیا اور معاملہ اتنا بڑھا کہ ہاتھا پائی تک نوبت آن پہنچی۔ بڑی مشکل سے بیچ بچاؤ ہوا، اس کے تھوڑی دیر بعد میں پہنچا تو احفاظ اپنی کارروائی کر کے جا چکے تھے لیکن ارشاد راؤ تپے بیٹھے تھے اور انہوں نے کوئی پون گھنٹے میرے سامنے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ اس کے بعد دونوں کی آپس میں ایسی ٹھنی کہ بول چال بھی بند ہو گئی۔ برنا صاحب کو معلوم ہوا تو وہ بھی ارشاد راؤ سے ناراض ہو گئے۔
پھر ایسا ہوا کہ پی آئی اے کا طیارہ اغوا کر کے کابل پہنچا دیا گیا، یہ غالباً الذوالفقار نامی کسی تنظیم کی کارروائی تھی اور اس واردات کے روح رواں کوئی ٹیپو تھے میں ان کے بارے میں نہیں جانتا، اغوا کرنے والوں نے طیارے کی واپسی کے بدلے پیپلز پارٹی کے کچھ کارکن قیدیوں، کچھ کارکنوں اور کچھ صحافیوں کی رہائی اور انہیں کابل پہنچانے کی شرط لگا دی۔ ان میں وہاب صدیقی اور ارشاد راؤ بھی شامل تھے۔ ان تمام لوگوں کو کو گرفتار کر کے کہیں ایک جگہ رکھا گیا۔ شاید اسمبلی کے ہوسٹل پہنچا دیا گیا جہاں سے انہیں کابل پہنچانا تھا۔ اب جناب احفاظ نے سارے اختلافات بھلا کر برنا صاحب کو مجبور کیا کہ وہ جاکر ارشاد راؤ اور وہاب صدیقی سے ملاقات کریں اور انہیں تسلی تشفی دیں۔ چنانچہ برنا صاحب گئے اور دوسرے قیدیوں سمیت ان تمام لوگوں سے ملے اور انہیں تسلی تشفی وغیرہ دی۔ خیر ارشاد راؤ تو نہیں گئے لیکن وہاب صدیقی اور اکرم قائم خانی وغیرہ اس تبادلے کے نتیجے میں ملک سے باہر چلے گئے، یہ اور ایسے بہت سے واقعات ہیں جب احفاظ نے اپنے ذاتی یا سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال دیا اور متعلقہ شخص کی براہ راست یا بالواسطہ مدد کو پہنچ گئے۔
میں ایک بار لندن سے آیا تو وہ روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ تھے، میں ان سے ملنے ایکسپریس کے دفتر گیا وہ اپنے ساتھی اقبال خورشید کے ساتھ ’سب سے بڑی جنگ‘ کی تیاری میں مصروف تھے، آواز بیٹھنی شروع ہو گئی تھی لیکن حوصلے بلند تھے مجھے تعجب بھی ہوا اور کچھ شرمندگی بھی محسوس ہوئی۔ لیکن اس پوری ملاقات میں وہ ماضی کو یاد تو کرتے رہے، دوستوں کا ذکر کرتے رہے، ان سے متعلق واقعات کا ذکر کر کے خوش ہوتے رہے، ان لوگوں کے بارے میں بھی کوئی شکایت وغیرہ نہیں کی جنہوں نے میری معلومات کے مطابق ایک زمانے میں ان کی زندگی میں تلخیاں اور کٹھنائیاں گھول رکھی تھیں۔ آخر میں ایک بات ان کے بارے میں کسی حد تک وثوق سے کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ احفاظ ادیب، شاعر، صحافی، مترجم سب تھے اور یہ سارے کام بڑی محنت اور دیانتداری سے کرتے تھے یہاں تک کہ تقریر میں بھی آئیں بائیں شائیں کرنے کے بجائے لکھ کر کرتے تھے تاکہ وہی باتیں ہوں جو وہ کرنا چاہتے تھے، ممکن ہے انہیں اپنی اس ہمہ جہت شخصیت پر ناز بھی ہو لیکن ان کی شخصیت کا جو پہلو میری نظر میں بہت نمایاں ہے وہ ہے ٹریڈ یونین تحریک سے ان کی وابستگی، اس معاشرے کے مظلوم اور پسماندہ طبقات کی زندگی بہتر بنانے کی آرزو، جمہوری حقوق اور جمہوری اصولوں کی پاسداری اور ان کا فروغ جس کے لئے انہوں نے ذاتی قربانیاں بھی دیں اس کا بین ثبوت ان کی آخری تصنیف یا ترتیب ہے جو ’سب سے بڑی جنگ‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ انہوں نے جس محنت اور لگن سے اس کے لئے مواد جمع کیا، یہ وہی کر سکتے تھے۔ گرچہ عمر کے آخری حصے میں ان کی آواز دب گئی تھی لیکن انہوں نے اس ملک کے مزدوروں، مظلوموں اور پس ماندہ لوگوں کی آواز کو اپنی آواز بنالیا تھا۔ میں اس کے لئے انہیں سلام کرتا ہوں۔






