عدالتی آمریت کی آخری ہچکیاں


زیادہ وقت نہیں لگا۔ صرف پانچ چھ سال میں ہی نواز شریف کو نہ صرف راہ سے ہٹانے والے بلکہ ان کی ساکھ ختم کرنے والے وقت کے کٹہرے میں خود آن کھڑے ہوئے اور اپنے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ نواز شریف کرپٹ نہیں تھا۔ اسے کرپٹ ثابت کرنے والوں کے چہرے خدا نے ایسے بے نقاب کیے کہ الامان

سیاستدانوں کے نام پر سیاہ دھبہ عمران خان, اس کے مربی جنرل, اس کے عدالتی ساتھی, سب ایک ساتھ بے نقاب ہوئے۔ اور خدا نے ان کو ایک دوسرے کے ہاتھوں ہی بے نقاب کیا۔ باجوہ خان کے ہاتھوں رسوا ہوا۔ خان کو لانے اور ناز برداریاں کرنے کے گناہ کا اعتراف باجوہ نے اور فیض نے خود کر لیا۔ ثاقب نثار بندیال کورٹ کے ہاتھوں پکڑا گیا اور بندیال صاحب اپنے ہم خیال ٹولے سمیت دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ جتنا ہاتھ پاؤں مارتے ہیں، مزید دھنستے ہیں۔

عدلیہ کی آمریت عسکری آمریت سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ کیونکہ عسکری ادارے عوام سے براہ راست نہیں ہوتے۔ نہ ان کے مفادات کا براہ راست کوئی تعلق ہوتا ہے۔ لیکن عدالت وہ واحد فورم ہوتا ہے جہاں حکومتی یا عسکری یا کسی بھی ادارے کی شکایت لے کر عوام جا سکتے ہیں اور دادرسی عدالت کا فرض ہوتا ہے۔ جب عدالتیں بھی ظالموں اور غاصبوں کی بیساکھی بن جائیں تو اس ملک کے عوام کا کیا حال ہو گا، بآسانی سمجھ میں آ جاتا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اصل ستم یہ ہوا کہ سپریم کورٹ کے ہر ناجائز اور غیر آئینی حکم کو تسلیم کیا گیا اور پارلیمنٹ اپنا تقدس اور اپنے اختیارات سپریم کورٹ کے منہ زور اختیارات سے نہیں بچا سکی۔ بھٹو عدالت کی اسی منہ زوری کی نذر ہوا۔ حکومتیں اور پارلیمان بار بار چند ججوں کے ہاتھوں ختم ہوتی رہیں۔ کسی نے دم نہیں دکھایا کہ آگے بڑھ کر ان سرکاری ملازموں کا احتساب کرتا۔ سپریم کورٹ کے ہر حکم کو آنکھیں بند کر کے ماننے کا یہی خوفناک نتیجہ نکلا کہ قانون سازی اور قانون کے نفاذ سے لے کر ہر چیز کا حق سپریم کورٹ نے اپنے پاس رکھ لیا۔

عدالتی اصلاحات بل کو ختم کرنے کا حق کسی طرح بھی سپریم کورٹ کو نہیں۔ اب پارلیمنٹ اپنے پورے قد اور پوری قامت کے ساتھ جسٹس منیر کی بدروح، جسٹس سجاد علی شاہ اور ناقب نثار کی باقیات کو عدالت سے نکالے گی۔ یہ سنہرا وقت ہے پارلیمنٹ کے پاس۔ قومی سطح پر حقیقی سیاسی جماعتوں سمیت تمام صوبوں کی چھوٹی سیاسی جماعتیں بھی ساتھ کھڑی ہیں۔ اس وقت مضبوطی دکھانا ہوگی۔

ابھی جو قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے کہ سپریم کورٹ کے ناحق ڈسے کو اپیل کا حق ملنا چاہیے، اس قانون پر کسی کو اعتراض نہیں۔ اعتراض ہے تو اس بات پر کہ جو لوگ پہلے ڈسے جا چکے ہیں ان کو انصاف نہ مل جائے۔ یعنی نواز شریف کو یہ حق نہیں دینا چاہتے کہ سپریم کورٹ نے جس طرح ایک منتخب وزیراعظم کو کسی کالی پیلی لغت کا سہارا لے کر ناحق نہ صرف حکومت سے محروم کیا بلکہ تاحیات الیکشن لڑنے سے بھی محروم کیا، اس کا حساب نہ دینا پڑ جائے اور نواز شریف کی سزا ختم نہ کرنی پڑ جائے۔

یہ قانون پی ٹی آئی کو اس لئے برا لگ رہا ہے کہ نواز شریف پھر میدان میں آ جائے گا اور عدالت کو اس لئے کہ اسے اپنے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کا حساب دینا پڑ جائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو مجرموں کے کٹہرے سے نکال کر پست دماغ سابق ججوں اور ان کے سرپرستوں کو کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ یوسف رضا گیلانی کو عدالت میں کھڑے کھڑے بے دست و پا کرنے کا جواز دینا پڑے گا۔

عدلیہ کا جمہوریت مخالف دھڑا اپنے پیشروؤں کو بھی بچانے میں مصروف ہے اور قدم اپنے لڑکھڑا رہے ہیں۔ یہ گروہ اب نہ صرف خود نہیں بچ سکے گا بلکہ اپنے سابقین کے لئے بھی عذاب ثابت ہو گا۔ اس ساری آپا دھاپی میں عدلیہ اس قدر بوکھلا چکی ہے کہ جتنے اختیارات وہ اندھادھند طریقے سے پے درپے استعمال کر رہی ہے اتنا بے نقاب ہو رہی ہے۔

عدالتی تاریخ ان افراد کی اس حوالے سے احسان مند رہے گی کہ انہوں نے عدل و انصاف کے نام پر پھیلایا ہوا سارا جال بےنقاب کر دکھایا اور یہ بھی کہ صرف عدالتی آمرانہ اختیارات ہی کی وجہ سے یہ ملک کبھی سیاسی استحکام حاصل نہیں کر سکا۔ پارلیمنٹ میں جمہوری سیاسی جماعتوں کا اصلاحاتی بل عدالت کو منظور نہیں لیکن عدلیہ ایک فوجی آمر کو آئین میں ترمیم کا حق تفویض کرنے کا اختیار چاہتی ہے۔

Facebook Comments HS