شنگھائی تعاون تنظیم کا وزرائے خارجہ اجلاس۔ مستقبل کی پیش بندی

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی بنیاد 15 جون 2001 کو شنگھائی میں رکھی گئی تھی اور تنظیم میں اس وقت آٹھ رکن ممالک (چین، بھارت، قازقستان، کرغزستان، روس، پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان) ، مکمل رکنیت حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے چار مبصر ممالک (افغانستان، بیلاروس، ایران اور منگولیا) اور چھ ”ڈائیلاگ پارٹنرز“ (آرمینیا، آذربائیجان، کمبوڈیا، نیپال، سری لنکا اور ترکی) شامل ہیں۔ سنہ 2021 میں ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم میں مکمل رکن کی حیثیت سے شمولیت کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور مصر، قطر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب بھی مذاکراتی شراکت دار بن گئے ہیں۔
سنہ 2001 میں اپنے قیام کے بعد سے شنگھائی تعاون تنظیم نے بنیادی طور پر علاقائی سلامتی کے امور، علاقائی دہشت گردی، نسلی علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی ترجیحات میں علاقائی ترقی بھی شامل ہے۔
4 سے 5 مئی تک شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھارت میں گوا کے مقام پر ہوا۔ یہ اجلاس کئی حوالوں سے نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ پہلی اہمیت تو یہ تھی کہ کہ جولائی میں دلی میں ہونے والے سربراہی اجلاس کو حتمی شکل دی گئی۔ دوسری اہمیت یہ رہی کہ اجلاس میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کسی بھی پاکستانی وزیر خارجہ کی حیثیت سے 12 سال بعد بھارت کا دورہ کیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر جمی برف مستقبل میں پگھلنے کا مکان ہے۔ لیکن اس بار اس اجلاس کی سب سے بڑی اہمیت موجودہ وقت میں دنیا کے بدلتے سفارتی حالات میں ایران، سعودی عرب تعلقات کی بحالی ہے جو پہلے ہی کسی نہ کسی حیثیت میں اس تنظیم کا حصہ ہیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی اس کانفرنس میں بھارت جا کر شرکت کرنے پر کئی حلقوں سے تنقید بھی کی گئی لیکن پاکستانی حکومت کے اس فیصلے پر حکومت کو سراہا بھی جا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کی سفارتی اور تجارتی حلقہ بندیاں اپنے عروج پر ہیں، پاکستان کے لیے یہ مناظر سائڈ لائن پر بیٹھ کر دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا حصہ بننے کے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی شرکت نے اسے یہ موقع بھی دیا کہ وہ دنیا کے سامنے اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کر سکے اور دہشت گردی پر مبنی مخالف پروپیگنڈے کا جواب دے سکے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر ایک ایسا دیرینہ مسئلہ رہا ہے جس نے کئی دہائیوں کا سفر طے کر لیا ہے لیکن ابھی بھی حل طلب ہے۔ کانفرنس میں شریک پاکستانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے کشمیر کے حوالے سے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو کشمیر میں 2019 میں کیے گئے اقدامات واپس لینا ہوں گے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اسے سفارتی پوائنٹ اسکورنگ میں استعمال کی بجائے تمام ممبر ممالک کو مل کر اس کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا۔
پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر اس تصفیے کی ثالثی کے لیے بڑی طاقتوں کو دعوت بھی دی جاتی رہی ہے تو کیوں نہ دنیا کی نئی طاقتوں کو اس بار یہ موقع میسر ہو کہ وہ خطے کے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں کرے اور دنیا کی نظریں خاص طور پر چین پر مرکوز ہوں گی جس نے گلوبل سکیورٹی انیشییٹو کے نظریے کے تحت ایران سعودی عرب تعلقات کی بحالی میں بھی اپنی پر خلوص کردار ادا کیا۔
چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ چھین گانگ نے کہا کہ دنیا کو متعدد بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کو بین الاقوامی اور علاقائی امور میں ایک اہم تعمیری قوت کی حیثیت سے ”شنگھائی اسپرٹ“ کو مضبوطی سے آگے بڑھاتے ہوئے ایس سی او کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کرنا چاہیے۔
اس حوالے سے چھین گانگ نے پانچ تجاویز پیش کیں۔ پہلی یہ کہ اسٹریٹجک خودمختاری پر عمل کرنا ہو گا اور اتحاد اور باہمی اعتماد کو مضبوط بناتے ہوئے علاقائی معاملات میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کی مخالفت کرنا ہوگی۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ سکیورٹی تعاون کو بڑھاتے ہوئے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی پر کاری ضرب لگانا ہوگی اور منشیات کی اسمگلنگ اور بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھنا ہو گا اور ایک وسیع اور جامع سیاسی فریم ورک کی تعمیر میں افغانستان کی حمایت کرنا ہو گی۔
تیسری تجویز میں چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ممبر ممالک کو مشترکہ ترقی کو فروغ دیتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظام اور مارکیٹ کے قوانین کو کمزور کرنے والے کسی بھی طرز عمل کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے۔ چوتھی تجویز انصاف کی پاسداری کرتے ہوئے بین الاقوامی نظام کی ترقی کو زیادہ منصفانہ اور معقول سمت میں فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنا تھی اور پانچویں تجویز میں میکانزم کی تعمیر کو مضبوط بنانے پرزور دیا گیا۔ ایران اور بیلاروس کی شمولیت کا عمل منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا اور شنگھائی تعاون تنظیم کو صورتحال کی تبدیلیوں کے مطابق ترقی دینی ہوگی۔
اجلاس کے شرکا نے علاقائی سلامتی اور ترقی کے لئے ایک اہم علاقائی تعاون پلیٹ فارم کے طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار کو سراہا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سیکریٹریٹ اور انسداد دہشت گردی کے علاقائی اداروں کی تعمیر کو مضبوط بنایا جائے اور شنگھائی تعاون تنظیم کی توسیع کے عمل کو منظم طریقے سے آگے بڑھایا جائے۔
چینی وزیر خارجہ کی پیش کردہ ان تجاویز سے صاف ظاہر ہے کہ خطے کے مسائل میں بیرونی مداخلت کی روک تھام، معازی استحکام، مضبوط اتحاد، دیر پا امن اور ایک مکمل میکانزم ہی شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ممالک اور ان کے خطوں کے مسائل کا حل ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ یہ کوششیں مستقبل میں اقوام عالم میں کیسے اپنی جگہ بنائیں گی تا کہ دنیا ایک مضبوط اور پائیدار ترقی دیکھ سکے۔

