بشپ جان جوزف: بے مثال قائد لازوال قربانی


جس نے اپنی دھرتی کو سجانے سنوارنے کے لئے، جس نے اپنی دھرتی کی بھلائی کے لئے، دھرتی پہ بسنے والوں انسانوں کی نجات کے لئے دھرتی کو اپنا خون دینے سے گریز نہ کیا، دھرتی کی مٹی سے پیدا ہو کر اسی مٹی کی زرخیزی بحال کے لیے اپنے جسم کو مٹی میں ملانے سے گریز نہ کیا اور اپنی بھیڑوں سے ایسا نرالا پیار کیا کہ ان کی عصمت پر اپنی جان کو قربان کر دیا۔ ایسا قائد جو اپنی قوم کی فکر اور اپنے مقصد حیات میں اس قدر واضح تھے کہ اپنی جان کی قیمت ادا کر دی تو میں کہوں گا وہ کس قدر خوش نصیب تھا اپنی ابدی نیند سونے سے پہلے گلشن کی بنیاد میں اپنا خون شامل کر گئے کیونکہ ان کے لئے ان کی دھرتی ہی ہیر تھی اور انہیں یقین تھا کہ اس دھرتی کی خوبصورتی کے لئے ہر کسی کو اپنے حصے کا قرض اتارنے کے لیے اپنا حصہ ادا کرنا ہے بھلے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔

بائبل مقدس بیان کرتی ہے کہ ”اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی جان قربان کرتا ہے“ اور بشپ جان جوزف شہید وہ خوش نصیب تھے جو اچھے چرواہے کا اعزاز سینے پر سجائے 6 مئی 1998 ء کو اپنی لازوال قربانی پیش کر کے اس دنیا سے اپنے ابدی باپ کے پاس منتقل ہو گئے۔

بشپ جان جوزف ایک پاکستانی رومن کیتھولک بشپ تھے جنہوں نے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ وہ 1 جولائی 1932 کو خوش پور، پاکستان میں پیدا ہوئے، اور 1960 میں کہانت کا ساکرامنٹ حاصل کیا اور کاتھولک کاہن کے طور پر مقرر ہوئے۔ 1984 میں، انہیں فصل آباد ڈایوسیس کا بشپ مقرر کیا گیا، جہاں وہ اپنی قربانی تک مذہبی خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں اعزاز حاصل تھا کہ وہ پہلے پنجابی کاہن اور پہلے پنجابی بشپ مقرر ہوئے تھے۔

بشپ جان جوزف پاکستان میں اقلیتوں بالخصوص مسیحیوں کے حقوق کے ایک مضبوط وکیل تھے۔ وہ بین المذاہب مکالمے اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششوں کے لیے جانا جاتا تھا، اور وہ پاکستان کے توہین رسالت کے قوانین کے سخت ناقد تھے، جن کے بارے میں ان کے خیال میں اکثر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

مئی 1998 میں، بشپ جان جوزف نے توہین مذہب کے قوانین اور ایوب مسیح نامی مسیحی شخص کو سنائی گئی سزائے موت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ساہیوال میں عدالت کے سامنے خودکشی کر لی، جس پر توہین مذہب کا الزام تھا۔ ان کی موت پر پاکستان اور دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سوگ منایا گیا، اور انہیں انسانی حقوق کے ایک دلیر محافظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے چیمپئن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یاد رکھا جائے کہ 2002 ء میں سپریم کورٹ نے ایوب مسیح کو اس مقدمے سی بری کر دیا تھا۔

بشپ جان جوزف کی میراث لوگوں کو مزید منصفانہ اور پرامن معاشرے کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتی رہتی ہے، اور ان کی قربانی نے توہین رسالت کے قوانین اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر ان کے اثرات کی طرف توجہ دلائی ہے۔

بشپ جوزف کو بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کی کوششوں اور خواتین اور پسماندہ کمیونٹیز کی تعلیم اور با اختیار بنانے سمیت سماجی انصاف کے مسائل کے لیے ان کی لگن کے لیے بڑے پیمانے پر احترام کیا جاتا تھا۔ وہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں اس مسئلے میں شامل ہوئے اور 1998 میں اپنی موت تک اینٹوں کے بھٹہ مزدوروں کے لیے بہتر حالات کے لیے مہم چلاتے رہے۔

پاکستان میں اینٹوں کے بھٹے کی صنعت کو مزدوروں کے بڑے پیمانے پر استحصال کی نشانی سمجھا جاتا ہے، جس میں قرضوں کی غلامی، کم اجرت، اور کام کے خطرناک حالات شامل ہیں۔ بشپ جوزف ان کارکنوں کی حالت زار پر گہری تشویش میں مبتلا تھے اور ان کے حقوق کی وکالت کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کیا۔

بشپ جان جوزف کی قربانی نے انہیں عظیم قائد بناتی ہے جس نے اپنے لوگوں کو غیر منصفانہ موت کے خوف سے آزاد کروانے کے لئے اپنی زندگی قربان کر دی اور اقوام عالم کے توجہ ریاستی جبر و ظلم کی طرف دلوائی۔ جہاں پاکستان کے مسیحی ان کی قربانی کو یاد کرتے ہیں وہاں ان کہانت کے دوران نبھائی گئی زندگی کو بھی یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غریب، لاچار، ضرورت مند، نوجوان مسیحیوں نے اپنا مسیحا کھو دیا۔

Facebook Comments HS