عدلیہ بحالی تحریک


سنہ 2007 ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جس کی وجہ سے وکلاء برادری مشتعل ہو گئی اور ان کی بحالی کی تحریک دس مارچ 2007 ءکو اس وقت شروع ہوئی جب چیف جسٹس کے رہائش گاہ پر وکلاء رہنماؤں کو چیف جسٹس سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان وکلاء رہنماؤں نے چیف جسٹس کی اقامت گاہ کے باہر حکومتی رویہ کے خلاف احتجاج کیا۔

اس کے بعد بارہ، تیرہ اور سترہ مارچ کو و کلاء کے جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ بدسلوکی نے احتجاج کی شدت میں اضافہ کر دیا اور اس طرح ملک میں احتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی تھی کیونکہ وہ طویل عرصے سے خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہی تھیں اس لیے انھوں نے جنرل پرویز مشرف سے 2007 ء میں معاہدہ کیا کہ تمام سیاسی کارکنوں کے مقدمات ختم کیے جائے حالانکہ محترمہ بے نظیر بھٹو 2006 ء میں میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کرچکی تھیں لیکن جولائی 2007 ء میں نواز لیگ کے بلائے گئے آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں میں صدر کی وردی کے معاملے پر استعفے دینے کی بات پر اختلافات سامنے آئے۔ جس کے بعد نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے بغیر اے پی ڈی ایم بنائی۔ یوں ملک کی دونوں سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کا نتیجہ صفر رہا۔ اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو نے جو معاہدہ جنرل مشرف سے کیا اسے بھی ختم کر دیا جب انھیں جنرل مشرف نے الیکشن سے قبل پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا۔

نواز شریف صاحب کو جنرل مشرف نے 2000 ء میں طیارہ سازش کیس میں دس سال کے لیے سعودی عرب جلاوطن کیا۔ اس معاہدے کی روسے میاں صاحب کو 2010 ءمیں وطن واپس آنا تھا لیکن انھوں نے وطن واپسی کی کوشش محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہی شروع کردی۔

ایک طرف وکلاء برادری سڑکوں پر تھی دوسری طرف محترمہ کی وطن واپسی تیسری جانب میاں نواز شریف بھی وطن واپس پہنچ گئے۔ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کا اختتام تھا لیکن ان کی یہ خواہش تھی کہ انھیں صدر رہنے دیا جائے۔ لیکن وکلاء برادری نے جو احتجاج چیف جسٹس کو ہٹانے سے شروع کیا اس کا دائرہ وسیع ہو گیا اور وکلاء برادری مارشل لاء حکومت کے خاتمے کے لیے سرگرم ہو گئی

یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سابق چیف جسٹس وکلاء برادری کے ساتھ جلسے کے لیے 12 مئی 2007 ء کو کراچی پہنچے جب کہ ان کو حالات خراب ہونے کی رپورٹ تھی اور اس کے نتیجے میں سانحہ 12 مئی کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ 18 اکتوبر 2007 ء کو محترمہ کی وطن واپسی پر ان کے کاروان پر حملہ ہوا۔ جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور پھر 27 دسمبر 2007 ء میں ملک اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم اور ایک عالمی لیڈر کو شہید کر دیا گیا۔ ان حالات کو سامنے رکھے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی ذمہ دار معزز عدلیہ بھی ہے۔

افتخار چوہدری صاحب دوبارہ بحال ہوئے اور چند سال مزید چیف جسٹس رہے باقی وکلاء حضرات جنھوں نے تکلیفیں اٹھائیں وہ بھی اپنا حصہ لینے میں کامیاب رہے۔

نقصان ان کا ہوا جو ان فسادات کی نظر ہوئے اور پاکستان اپنے عالمی لیڈر سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت ان کے بچپن سے ہی ہو رہی تھی ان کے والد کی پھانسی کے بعد ان کی والدہ نصرت بھٹو ان کی سیاسی تربیت کرتی رہی۔ اس جمہوریت کے لیے پاکستان کی عوام اور ان کے لیڈروں نے اپنا خون دیا۔ اگر محترمہ کے ساتھ پبلک نہ کھڑی ہوتی تو وکلاء حضرات اگلے پانچ سالوں تک بھی احتجاج کرتے رہتے تب بھی نہ مشرف جاتے نہ مارشل لاء۔

ان 15 سالوں میں عدلیہ کی یہ کارکردگی رہی ہے کہ وہ اب 135 ویں نمبر پر آ گئی۔ ان سالوں میں جتنے سوموٹو لیے گئے وہ صرف عوام کی بدحالی کا موجب رہے چاہے وہ کراچی بدامنی کیس ہوں یا تجاوزات کے خلاف کیس ہو۔ کراچی بدامنی کیس میں بشمول پاکستان کی سابق خاتون وزیراعظم، کسی کو بھی انصاف نہ مل سکا اور نہ ہی تجاوزات کے خلاف آپریشن نے زمینوں کی غیرقانونی خرید و فروخت بند کرائی۔ آج بھی پورشن مافیا کام کر رہی ہے، آج بھی زمینوں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ ہو رہا ہے۔ بلکہ اب تو زرعی اراضی پر بھی ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی جا رہی ہے۔ اس وقت پاکستان کا سب سے منافع بخش کاروبار رئیل اسٹیٹ ہے۔

آج موجودہ چیف جسٹس کے سوموٹو پر عدلیہ اور ایوانوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کا سوموٹو لینا عوامی مفادات کے خلاف ہے۔

پاکستان کی عوام نے سوموٹو پر وہ وقت بھی دیکھا جب وہ اپنے کاروبار اور گھر بچانے کے لیے بلدیاتی حکومتوں سے لے کر وفاقی حکومت تک گزارشات لے کر گئے لیکن مایوس واپس لوٹے، سابقہ چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہونے گئے تو عدالت کا دروازہ بند کر دیا گیا کہ چیف جسٹس کا فیصلہ ہے اور ماننا پڑے گے کیونکہ سوموٹو پر اپیل کا حق نہیں ہوتا۔ آج جب سوموٹو کا فیصلہ حکمرانوں کے لیے پریشانی کا سبب بن گیا ہے تو اختلافی نوٹ بھی آرہے ہیں اور قانون میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ آج پھر معزز وکلاء حضرات سڑکوں پر آنے کے لیے بے چین ہیں۔ عدالتوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بینچ ڈسچارج ہو رہے ہیں۔ آج پھر اس 2007 جیسی تحریک شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ ان کے پسندیدہ جج کو چیف بننے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ فرد واحد کے پیچھے آخر کب تک نظام کو برباد کیا جائے گا؟ کب تک لیڈروں کو عدلیہ اور بیوروکریسی پر قربان کیا جائے گا؟ خواجہ آصف صاحب نے کہا ہے کہ اب ہم اپنے وزیر اعظموں کی گردنیں عدلیہ کو نہیں دیں گے انھوں نے کہا کہ بھٹو صاحب کو جو پھانسی دی گئی اس کا حساب ہونا چاہیے، یوسف رضا گیلانی صاحب کو نا اہل کیا نواز شریف صاحب کو نا اہل کیا اب ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے دو نام نہ لے کر نا انصافی کی ہے ایک ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اور دوسری ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو یہ دونوں ٹھیک ایک ہی مقام پر شہید ہوئے۔

عدلیہ بحالی تحریک نے انصاف کا حصول اور مشکل بنا دیا۔ کوئی ادارہ عوام کے مسائل حل نہیں کر رہا ہے کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ جب عدالت میں مقدمہ جائے گا یا تو التواء کا شکار ہو گا یا پھر ان کا وکیل کسی نہ کسی طرح مقدمہ بند کرا دے گا۔ وکلاء برادری سوچے کے پاکستان کا نظام انصاف کس درجہ پر کھڑا ہے۔

انصاف جو نادار کے گھر تک نہیں پہنچا
سمجھو کہ ابھی ہاتھ ثمر تک نہیں پہنچا

نوٹ:آرٹیکل لکھنے میں مدد بی بی سی، وکیپیڈیا اور مظہر عباس کے آرٹیکل سے لی گئی ہے

Facebook Comments HS