اگر ہم پتھر کے زمانے میں ہوتے – مکمل کالم
اگر کسی دن ہم نیند سے بیدار ہوں اور پتا چلے کہ ہم مہذب دنیا کی آخری انسانی نسل ہیں اور آج کے بعد دنیا کی مادی اور سائنسی ترقی نہ صرف رُک جائے گی بلکہ اسے ریورس گیئر لگ جائے گا اور کچھ ہی عرصے میں زمین ویسی ہو جائے گی جیسی آج سے دو لاکھ سال پہلے تھی، تو ہمارا ردعمل کیا ہو گا؟ پہلے اِس بات کا تصور کرتے ہیں کہ زمین اپنی ’اصل حالت‘ کی طرف واپس کیسے جائے گی۔ ظاہر ہے کہ تمام کارخانے اور دفاتر بند ہوجائیں گے، گاڑیاں، ہوائی جہاز، کمپیوٹر، مشینیں، بجلی اور تیل سے چلنے والی تمام اشیا ناکارہ ہوجائیں گے، کھانے کے طور طریقے بدل جائیں گے، لوگوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا کم ہو جائے گا، کرہ ارض پر خاموشی چھا جائے گی اور اِس کی حالت کچھ کچھ ویسی ہو جائے گی جیسی کوویڈ کے دنوں میں تھی۔ لیکن ہم اِس سے بھی پیچھے جائیں گے اور اُس وقت تک چلتے جائیں گے جب تک ہمیں زمین اُس حالت میں واپس نہیں ملتی جیسی دو تین لاکھ سال پہلے تھی۔
اُس وقت انسان بھی جانوروں کی طرح غاروں میں رہتا تھا اور انہی کی طرح شکار کر کے کھاتا تھا، انسان نے زبان بھی ایجاد نہیں کی تھی، تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت کا انسان آج کے مقابلے میں زیادہ ’بہتر حالت‘ میں تھا؟ یا ایسے کہیے کہ اگر ہمیں پتا چل جائے کہ آج کے بعد ہمیں دو لاکھ سال پہلے کے انسان کی طرح رہنا ہو گا، بغیر کسی سائنسی اور مادی ترقی کے، تو کیا یہ سودا برا ہو گا؟ ممکن ہے کچھ لوگوں کو پتھر کے زمانے کی زندگی کے بارے میں سوچ کر ہی جھرجھری آ جائے مگر سچ پوچھیں تو یہ سودا گھاٹے کا نہیں ہو گا۔ چلیے اِس مفروضے کی پڑتال کر کے دیکھتے ہیں۔
ترقی یافتہ زندگی کے جو دو بڑے فائدے ہمیں نظر آتے ہیں اِن میں سے ایک جہاز کا سفر ہے اور دوسرا میڈیکل سائنس کی ترقی۔ جہاز کی بدولت انسان نے زمین کا چپہ چپہ دیکھ لیا ہے، اِس ایجاد کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان خدا کی اِس خوبصورت تخلیق کو دیکھ پاتا۔ اسی طرح میڈیکل سائنس معجزے کا دوسرا نام ہے، اگر اِس میدان میں ترقی نہ ہوتی تو انسان بھی جانوروں کی طرح چھوٹی چھوٹی بیماریوں کا شکار ہو کر مر جاتا۔ ترقی یافتہ زندگی کا ایک پہلو فنون لطیفہ بھی ہے، مصوری، مجسمہ سازی، شاعری، موسیقی، کہانی، ڈرامہ، رقص، ظاہر ہے کہ پتھر کے زمانے کا انسان اِن تمام باتوں سے نا آشنا تھا سو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مہذب دنیا کم از کم اِن تین باتوں کی وجہ سے پتھر کے زمانے سے بہتر ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ انسان نے اِس ترقی کی جو قیمت ادا کی وہ کیا تھی؟
اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ انسان اپنی دائمی مسرت کی خاطر سب کچھ کرتا ہے تو کیا اِن چیزوں کی بدولت اسے دائمی مسرت حاصل ہو گئی؟ اگر انسان وہ سب کچھ نہ کرتا جو اُس نے گزشتہ دو لاکھ برسوں میں کیا تو شاید اُس کے لیے دائمی مسرت کا حصول اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا آج ہے۔ آج اِس مسرت کے لیے اسے جس قدر کٹھن محنت کرنی پڑتی ہے اور جس مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ دو لاکھ سال پہلے مفقود تھا۔ پہلے انسان نے قدرتی طرز زندگی کو چھوڑا، پھر زرعی انقلاب برپا کیا جس سے جائیداد اور ملکیت کا تصور وجود میں آیا، اُس کے بعد صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھی جس سے شخصی آزادی کے تصور نے جنم لیا، اِس تصور نے سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیا جس میں زیادہ سے زیادہ چیزوں کو خریدنا ضروری ہو گیا، اِس کے لیے انتھک محنت لازمی قرار پائی اور اب اِس جہد مسلسل کے بغیر زندہ رہنا محال ہے۔
انسان کے علاوہ زمین پر شاید ہی کوئی دوسری مخلوق ہو جسے محض زندہ رہنے کے لیے اتنا کام کرنا پڑتا ہو، یہ کام کرنا دراصل فطرت کے خلاف ہے، یہی وجہ ہے کہ باقی جاندار محض اپنی خوراک کے لیے تھوڑا بہت تردد کرتے ہیں اور جب انہیں خوراک مل جاتی ہے تو وہ کوئی کام نہیں کرتے، جانداروں کو محنت کرنے یا کام کرنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ خوراک کے ذخائر کا ڈھیر بھی لگا لے تو مطمئن نہیں ہوتا، مستقبل کا ان دیکھا خوف اسے جینے نہیں دیتا، یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچنے کے باوجود انسان کی بے چینی ختم نہیں ہوتی اور خواہشات ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ موجودہ دور کی ترقی نے ہم سے کمپیٹیشن کی شکل میں جو قیمت وصول کی ہے کیا وہ اُن آسائشوں اور سائنسی ایجادات سے زیادہ نہیں جو آج ہمیں میسر ہیں!
اِس ترقی نے جس نظام کو تشکیل دیا ہے وہ نظام کمزور انسانوں کو روند کر آگے بڑھ جاتا ہے، بے شک دو لاکھ سال پہلے بھی فطرت کا یہی قانون تھا جسے ڈارون نے دریافت کیا تھا مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ باقی انسانیت بھی محفوظ نہیں جو تمام جانداروں کو شکست دے کر یہاں تک پہنچی ہے۔ ایک تو ہم نے کرہ ارض کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑا اور دوسری طرف ہم اُس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں اپنی ہی ایجاد ات سے خوفزدہ ہیں اور اُن سے بچاؤ کے طریقے دریافت کرنے کی فکر میں ہیں۔
مگر شاید یہ سب کچھ انسان کے بس میں نہیں تھا، باقی جانداروں کے مقابلے میں انسانی جسم اور عقل و شعور کا ارتقا جس طرح ہوا اُس کے بعد یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان دیگر جانوروں کی طرح محض شکار کر کے بیٹھ جاتا اور سارا دن اونگھ کر گزار دیتا۔ اُس کی جبلت نے اسے چین نہیں لینے دیا، ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے کے لیے اُس نے اشاروں کنایوں کا سہارا لیا اور پھر رفتہ رفتہ زبان بھی ایجاد کر لی، زبان کی دریافت کے بعد انسان ایک ہی جست میں دیگر جانوروں سے آگے نکل گیا۔ میں سائنسی ایجادات اور جدید ترقی کے قطعی خلاف نہیں ہوں، میں تو صرف یہ سوچتا ہوں کہ پتھر کے زمانے کا انسان، جس کی کوئی ذاتی جائیداد نہیں تھی، کی زندگی کیا ہم سے زیادہ سہل نہیں تھی؟ اگر اِس سوال کا جواب دینے میں ذرا بھی مشکل پیش آئے اور آپ سوچنے میں چند منٹ لگائیں تو سمجھ لیں کہ اُس دور کے انسان کی زندگی آسان تھی۔
اگر اپنی تمام تر عقل و دانش کے باوجود آج کا انسان ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں ناکام ہے جہاں ہر شخص کو برابری اور آزادی کے ساتھ جینے کا موقع میسر نہیں تو اُس سے کہیں بہتر تو پتھر کے زمانے کا انسان تھا جب تمام انسان کم از کم برابر تو تھے۔ پس ثابت ہوا کہ زیادہ عقل بھی بعض اوقات بندے کی مت مار دیتی ہے!


