اسلام آباد میں سہ فریقی مذاکرات


پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سہ فریقی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں پاکستان چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے مابین افغان امور خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد سے افغان اور امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کو کئی اہم معاملات سے باہر رکھ کر امریکہ نے اپنی غلطیوں کو دہرایا لیکن اس بار حالات ماضی کی نسبت مختلف ہیں۔ قبل اس کے کہ اس سہ فریقی مذاکرات کے حوالے سے جائزہ لیا جائے یہ بات یاد دہانی کے طور پر ضروری ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات اور امن عمل سمیت طالبان کی حکومت اور انہیں انتقال اقتدار میں حکومت پاکستان سمیت جن ہمسایہ اور برادر ممالک نے بھر پور تعاون کیا ان میں روس، چین، ایران اور ترکیہ کا بھی اہم کردار ہے۔

یہی وہ وجہ ہے جس کی بدولت حالیہ بین الاقوامی تعلقات میں افغانستان کو وہاں قائم حکومت کے ذریعے ہر سطح کے مذاکرات اور دیگر علاقائی تنظیمی سرگرمیوں میں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ افغانستان پر روسی حملے اور بعد ازاں ملک میں خانہ جنگی، پھر امریکی مداخلت اور امریکی فوج کے انخلا سمیت کسی بھی وقت میں پاکستان نہ صرف افغان امور کی وجہ سے متاثر ہوا ہے بلکہ ہمسایہ اور برادرانہ ملک کی حیثیت سے پاکستان نے افغان امن عمل کے ہر دور میں اپنی مخلصانہ کوششوں سے اپنا کردار بھی ادا کیا ہے۔

ماضی کے حالات اور موجودہ حالات میں فرق اور پائیداری اس لیے نظر آ رہی ہے کہ اس بار افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک اور خطے کی طاقتیں بھی افغانستان میں امن عمل کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ترکیہ اور ایران نے جس انداز میں سفارتی معاملات میں افغانستان کی مدد کی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن روس اور خاص طور پر چین نے جس انداز میں اس وقت عالمی سیاست میں امن اور پائیدار ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔

سہ فریقی مذاکرات میں بھی چین کے وزیر خارجہ چھن گانگ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ چین روایتی دوست ہمسایوں کی حیثیت سے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کے نفاذ کے لیے افغانستان اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ کوششیں کرنے کو تیار ہے۔

چین نے افغانستان اور پاکستان کے ساتھ سلامتی اور انسداد دہشت گردی پر سہ فریقی تعاون کو مضبوط بنانے، مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے وژن کو برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی اور ”دوہرے معیار“ کی سختی سے مخالفت کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

چینی فریق نے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ سہ فریقی تعاون کے طریقہ کار کے ذریعے چین، افغانستان اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک مواصلات اور پالیسی کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانے کا بھی خواہاں ہے تاکہ اچھے ہمسایہ اور تزویراتی باہمی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔

افغان پالیسی میں یہ واضح اشارے پاکستان میں 2018 میں منتخب ہونے والی عمران خان کی حکومت میں اس وقت محسوس کیے گئے تھے جب پاکستان نے اپنے اس موقف کو بار بار دہرایا تھا کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں کسی صورت کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا اور ایک پر امن افغانستان، پاکستان کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔ اسی انداز کا موقف ان سہ فریقی مذاکرات میں بھی اپنایا گیا ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت، افغانستان کے خلاف غیر قانونی یک طرفہ پابندیوں اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی۔

ایک اور سمت جس پر پاکستان نے گزشتہ ایک دہائی میں کافی کام کیا وہ افغان سرزمین کا پاکستان میں دہشت گردی کا استعمال ہے۔ پاکستان نے بار ہا افغان حکومت سے مطالبہ بھی کیا اور اس ضمن میں سرحدوں پر حفاظتی اقدامات بھی کیے گئے لیکن یہ مسئلہ ہنوز موجود ہے اور سہ فریقی مذاکرات میں اس حوالے سے چین نے بھی پاکستانی موقف کی تائید کی ہے جو افغان امور میں ایک نئی پیش رفت ہے اور اس سے چین کی خطے میں پر امن اور مخلصانہ کوششوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے جواب میں افغانستان نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی طاقت کو چین اور پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ چین نے افغانستان میں امن، اور معاشی استحکام کی ہر دور میں حمایت کی ہے اور یہی وہ رویہ ہے جو چین کو ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے دنیا بھر میں منوا رہا ہے۔

تینوں ممالک نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر تعاون کو فروغ دینے، افغانستان تک چین پاکستان اقتصادی راہداری کی توسیع کی حمایت، تینوں ہمسایہ ممالک اور خطے کے درمیان رابطے کو فروغ دینے اور سرحد پار تجارتی نظام کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا، جس کا مقصد سہ فریقی اقتصادی انضمام اور پائیدار ترقی کے حصول کو فروغ دینا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین، افغانستان اور پاکستان کا تعاون علاقائی امن اور خوشحالی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

Facebook Comments HS