وادیٔ سواں کے آخری نخلستان کا چرواہا
وادیٔ عرب کے بے مثال چرواہوں کی پیغمبرانہ ولایت اور جنت نظیر بکریوں کے ریوڑوں اور دودھ کی تقدس آمیز داستانوں سے باہم جڑے آخری نسل کے چند لوگ!
اور ان سب میں قدآور مشفق اور زمین دوست فرد، منتظم اور حدی خواں جو صحرائے نجد و شام کے کاروانوں کی صداؤں کی تفہیم پہ قادر ہو، اپنے معجز نما اسم کی مانند گزشتہ چھ دہائیوں سے خلق خدا کی بھلائی کے تقریباً ہر منصوبے کا والی رہا ہو۔ چاہے یہ ملک خداداد کے حکومتی زعماء کی نیک نیتی کا امتحان ہو یا عالمی مالیاتی اداروں کے غریب بستیوں کے لئے خیراتی اشک شوئی کا پردہ مہین ہو۔ ہر دو حالات میں جب بھی کمیونٹی بیسڈ نیٹورک ( دیہی بنیادوں پہ ترقی سازی کے مقاصد و انصرام) کی ضرورت پڑے گی تو واحد موجد و ضامن ملک فتح خان صاحب ہی ٹھہریں گے۔
ملک صاحب کی ذاتی منفرد تاریخ کا آغاز ہی نئے امکانات سے ہوا جب وہ لاوہ جیسے مردم خیز خطہ میں پیدا ہوئے جہاں شجاعت کے معنی درون اور بیرون قبیلہ اغیار کو نیست و نابود رکھنا تھا جس کا لا محالہ انجام نسل در نسل رقابت تھی کئی شیر جوان اس پشت ہا پشت دشمنی کی نذر ہوئے اور ان کی مائیں زندہ درگور ہوئیں علاقہ تعلیم اور ترقی سے کوسوں دور رہا۔
ملک فتح خان انہی تلخ، گہری اور چشم کشا حقیقتوں کے درمیاں ستر اور اسی کی دہائی میں اسکول، کالج اور پھر زرعی ترقیاتی ادارے کی سربراہی تک جا پہنچے۔
اور یوں دیہی معاشرے سے جڑی اور ورثے میں ملی مقامی ثقافت کے صرف امین ہی نہ ٹھہرے۔ بلکہ اگلی چھ سات دہائیوں میں سرکاری و غیر سرکاری شعبوں میں زرعی ترقی کے اولیں نقیب بھی ثابت ہوئے
ملک صاحب کی زندگی مختصراً
”ایک کسان کا خواب اور اس پہ مبنی سرکاری حکمت عملی کے لئے پیہم جدوجہد“
دو ہزار سولہ میں ان سے پہلی ملاقات کئی دنوں تک یادداشت پہ جگمگاتی رہی۔ سفید براق لباس، سرو قامتی کے باوجود سراپا نیاز، ایک نفس مطمئنہ، ہمہ وقت نوجوانوں سے مشاورت پہ آمادہ و سربستہ چاہے یہ مقامیت اور گلوبل ازم کی بحث ہو، تلہ گنگ ضلع کے امکانات و خدشات ہوں، یا علاقے میں خواتین کو با اختیار بنانے کی علمی کوششیں
ان کے اسباق اور تجربے کا استفادہ ان کی آئندہ کئی نسلوں کے لئے ہمیشہ دستیاب رہا۔
نجی تعلیمی اور زرعی شعبے میں انقلاب برپا کر نے والے افراد کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو ہر تمہید کا عنوان ملک فتح خان صاحب ہی رہے!
علاقے کے نامور ادبی سرخیل محترم اظہار الحق صاحب کی شاندار تحریروں میں ان کا ذکر نمایاں ہے۔ جو ہمیشہ ان کی نجابت اور علم دوستی کا ثبوت دیتا رہے گا۔
تلہ گنگ میلے کے ”خیال“ سے لے کر انعقاد تک ملک صاحب کی سرپرستی شامل حال رہی۔
اس دوران ان کے زیتون کے باغات، شہتوت اور درختوں سے محبت کے لاتعداد تذکرے ہوئے۔ لاوہ کی سرزمین نے ہسپانیہ اور یونان کے پھلوں کو محبت و ان تھک محنت کے پیوند سے باہم کر دیا۔ ان سنگلاخ زمینوں کے وارثوں نے علاقے کو درپیش حیات انسانی کے سب سے ممکنہ حملے کی نشاندہی کو نہ صرف بھا نپ لیا بلکہ اس کے تدارک کی کاوشوں کو بھی فریضہ منصبی سمجھا۔
علاقے میں پانی کے ذخائر کی افزونی، جنگلوں کی افزائش اور کاشتکاری کے شعبے کی طرف توجہ، جیسے موضوعات ان کی عمومی گفتگو کا حصہ رہتے ہیں جو ان کی عمر بھر کی پیشہ ورانہ ریاضت اور عبادت کا نچوڑ ہیں۔
اب استفادہ کی کتنی فراست اور ہمت ہم جیسوں کو درکار ہے اس کا فیصلہ تو رب کریم کے ہاتھ میں ہے
مگر
ھم اس خوش نصیب قافلے کا حصہ ضرور ہیں جس کی رکھوالی
پہ متعین اپنی مخصوص سفید پگڑی کے ساتھ بکریوں کے ریوڑ کو ہانکتے وادیٔ سواں کے آخری نخلستان کا چرواہا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
کہیں دور کسی نغمہ خواں کی مدھر گنگناہٹ معدوم ہوتے جنگلوں سے کہ رہی ہے
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

