بلاول کا دورۂ بھارت اور ایک خواب


شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کے آٹھ ممالک پر مشتمل ایک انتہائی اہم تنظیم ہے۔ یہ تنظیم، اپنے ممبر ممالک کی آبادی اور اس کے جغرافیہ کے اعتبار سے، دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے اور اس تنظیم کے ممبر ممالک کا مشترکہ جی ڈی پی دنیا کے ٹوٹل جی ڈیپی کا بیس فیصد ہے۔ اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر شنگھائی میں ہے اور جب یہ 1996 میں قائم ہوئی تو اس وقت اس کو شنگھائی فائیو کا نام دیا گیا تھا کیونکہ ابتدائی طور پر یہ پانچ ممالک پر مشتمل تھی جن میں چین اور روس کے علاوہ قزاقستان، کرغستان اور تاجکستان شامل تھے۔ بعد میں ازبکستان اور چند سال قبل پاکستان اور بھارت کو اس کا ممبر بنایا گیا۔

اس سال ایس سی او کا اجلاس بھارت میں ہوا کیونکہ اس دفعہ بھارت اس کا صدر اور منتظم ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کے لیے بلاول بھٹو پانچ مئی بروز جمعرات بھارت کے شہر گوا پہنچے جو کہ کسی بھی پاکستانی سینئر آفیشل کا بارہ سال بعد بھارت کا دورہ تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اور جس طرح بھارتی وزیر خارجہ نے آداب میزبانی ایک طرف رکھتے ہوئے پریس کانفرنس کی اس پر کچھ کہنے کے بجائے ہم تصویر کا ایک دوسرا رخ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کو آپ چاہے ایک دیوانے کا خواب کہ لیں لیکن ابھی بھی سرحد کے دونوں اور ایک بہت بڑی تعداد میں ایسے دیوانے موجود ہیں جو پوری ایمانداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان دونوں ہمسایوں کے درمیان محبت اور بھائی چارہ نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ایک چھوٹے ہمسائے ہونے کے ناتے ہمارے تو اچھے مستقبل کا انحصار بھی ہندوستان سے دوستی کے ساتھ منسلک ہے۔ اب آئیے راقم آپ کو ایک خواب کی روداد سناتا ہے جو اس نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا۔

بلاول بھٹو گوا کے شاندار ہوائی اڈے پر جب اترتے ہیں تو ہندوستانی میڈیا کے ایک ہجوم کو ائرپورٹ پر اپنی آمد کا منتظر پاتے ہیں جہاں وہ ہندوستانی میڈیا کے ساتھ ایک مختصر بات چیت کے بعد آگے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ایس سی او کانفرنس ہال میں بھی ان کو غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہوتی ہے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ اپنے پاکستانی ہم منصب کا سواگت، بنسبت دیگر وزرائے خارجہ کے، زیادہ جوش و خروش سے کرتے ہیں۔ اور صرف نمستے کہنے کی بجائے مصافحہ بھی کرتے ہیں جس پر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔

ہندوستانی وزیر خارجہ اپنی تقریر میں تمام مہمانوں کا سواگت کرتے ہوئے کہتے ہیں، میں اس خطۂ ہند کی شاندار روایات، ثقافت اور پرم پر اؤں کا امین ہوں جہاں ایک مہمان کو بھگوان مانند مانا جاتا ہے اور اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ میں اپنے ہم منصب بلاول بھٹو صاحب کا خاص طور پر ممنون ہوں کہ ہمارے بیچ کے بہت سارے اختلافات کے باوجود ہماری دعوت پر آپ یہاں تشریف لائے۔ میں آپ کو تمام ہندوستانی عوام کی طرف سے ویلکم کرتا ہوں۔

مسٹر بھٹو میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ہندوستان آپ کو صرف پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے نہیں دیکھ رہا بلکہ آپ کو اس مہان خاتون کے بیٹے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جس نے ہمیشہ ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ پاکستان کی اس عظیم بیٹی کو یہاں ہندوستان میں بہت عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے اور ستائیس دسمبر کی اس بدقسمت شام کو شاید ہی کوئی ہندوستانی ہو گا جس کی آنکھوں میں غم کے آنسو نہ امڈ آئے ہوں۔ بلاول صاحب میں امید کرتا ہوں کہ آپ بھی اپنی والدہ محترمہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ پاکستان اور ہندوستان کو قریب لانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

انڈین وزیر خارجہ کی تقریر کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں ہندوستانیوں کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔ بلاول نے کہا کہ ہم نے بہت دشمنی کر لی، بہت جنگیں لڑ لیں آئیں اب اپنے خطے کو غربت اور محرومیوں سے نکالیں اور جو پیسے ہم جنگی کھلونے خریدنے پر لگاتے ہیں ان سے ہم اپنی عوام کی زندگیوں میں ایک بڑی تبدیلی لائیں۔ بلاول نے ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کو اس خطے کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیا اور ہندوستان کی مزید ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بلاول کی تقریر کے اختتام پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

ایس سی او کانفرنس کے بعد بلاول کو بطور خاص گوا شہر اور وہاں کے ساحلوں کی سیر کرائی گئی۔ بلاول گوا شہر کی خوبصورتی، صفائی اور ہریالی اور وہاں کی گلیوں میں مغربی ٹورسٹ کی بہتات کو دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ بلاول نے بطور خاص اس چیز میں دلچسپی لی کہ ہم کیسے کراچی کے ساحلوں کو گوا کی طرح خوبصورت بنا کر دنیا بھر کے ٹورسٹ کو اپنی طرف راغب کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد بلاول نے پاکستانی سفارت خانے میں ایک پریس کانفرنس کی جہاں پر تمام ہندوستانی میڈیا موجود تھا اور بلاول نے انتہائی خندہ پیشانی اور تحمل سے سب سوالات کے جوابات دیے۔ ہندوستانی حکومت کی یہ روش قابل ستائش رہی کہ ان کے میڈیا میں موجود تمام ارنب گوسوامی کو بلاول کے قریب بھی نہ بھٹکنے دیا گیا جس سے ہندوستانی حکومت کے رویے میں ایک مثبت تبدیلی کو واضح طور پر محسوس کیا گیا۔

لیجیے جناب اب حقیقت کی دنیا میں واپس آتے ہیں اور جو حقیقت میں ہوا وہ ہمیں خوب معلوم ہے۔ لیکن امن اور بھائی چارے کی خواہش ہی تو وہ اصل حقیقت ہے جس کی طرف سے ہم مجرمانہ طور پر اپنی آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ میری نسل تو شاید اس خواب کو شرمندۂ تعبیر ہوتے نہ دیکھ پائے لیکن ہم یہ دعا تو کر سکتے ہیں کہ شاید آنے والی نسلیں اس خواب کی تعبیر کو پا لیں۔

Facebook Comments HS