نور جہاں ہتھنی کی موت اور ہماری بے حسی


میں نے اسے پہلی دفعہ بی بی سی کی ایک مختصر دس پندرہ منٹ والی رپورٹ میں دیکھا تھا۔ جس میں اس کی صحت کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات پر بات کی گئی تھی۔ فور پاز کے ڈاکٹروں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا ذکر تھا۔ اور ان کی یہ تشویش کہ ہم بار بار اس چیز کی درخواست کر چکے ہیں کہ کراچی کے چڑیا گھر کا ماحول اس کے لئے سازگار نہیں۔ اس کے قدرتی ماحول سے میل نہیں کھاتا۔ ناکافی سہولیات اس کے اور اس کی ساتھی مدھو بالا کے لئے نقصان دہ ہیں۔ اور ان کی صحت کے لئے مفید نہیں۔ اس لئے انھیں کسی بہتر جگہ منتقل کیا جائے۔ لیکن تا حال اس پر کچھ نہیں ہو سکا اور اس کی صحت مزید بگڑ گئی۔ ہم کافی غیر مطمئن ہیں۔

اور وہ خود نڈھال پا بہ زنجیر تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سارے جسم کی توانائی صرف کر کے وہ ٹانگوں پر کھڑے ہونے کا جتن کر رہی ہو۔ تھوڑی سی معلومات کھنگالنے پر معلوم ہوا کہ اس کی عمر سترہ سال تھی۔ پچھلے کچھ مہینوں سے پچھلی ٹانگیں کھڑے ہونے اور چلنے پھرنے میں ساتھ نہیں دے رہیں۔ بدقت یہ تشخیص ہوئی کہ جسم کے اندر خون کا لوتھڑا بن چکا تھا۔ جس کے دباؤ اور وزن سے اس کی آنتیں اس کے پیٹ کی بجائے پیلوس میں دھکا کھا چکی ہیں۔ اور اس کے اندرونی و بیرونی توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا کر رہی تھی۔

مجھے اس بے چاری، بے زبان کی حالت سے آٹھ ماہ پہلے دیکھا وہ اونٹ کا نو جوان بچہ یاد آیا جو ملتان ڈی۔ ایچ۔ اے کے چڑیا گھر میں ایک جنگلے میں بندھا تھا۔ مجھے اس کی بے چارگی نے اذیت میں مبتلا کر دیا۔ اکیلا، اداس جیسے ڈار سے بچھڑی کونج۔ صحراؤں کا شہزادہ جس کے پیروں کے نیچے ریت کی بجائے گھاس کے قطعے تھے۔ نہ یار پاس تھے، نہ زمین من چاہی۔ نہ ماحول کے لوازمات۔ اوپر سے تنہائی اور اپنی مرضی کی عیاشی بھی میسر نہ تھی۔

کہنے کو سارا دن سینکڑوں تماشائی لیکن اس کی تشفی کسی طور پر نہ ہوتی۔ ان چاہی کیمرے کے فلیش، مجمعے کا شور، مصنوعی روشنیاں اس کے لئے ریت کی حدت و ٹھنڈک، ریتلے ٹیلوں کے منظر، ریگستانی ہواؤں کی سرسراہٹ، ہیئت اور جگہ کا تبدل، ریتلی زمینوں کے قالین پر ساتھی اونٹوں کے ساتھ دوڑیں، چہلیں، آزادی سے کھانا، پینا۔ اٹھنا بیٹھنا، کا کسی طور نعم البدل نہیں ہو سکتی تھیں۔

مجھے وہ بہت غمگین، ہجوم میں تنہا لگا۔ جس کی مجبوری کہ وہ زبان سے کہہ نہیں سکتا اور دل بینا اس کے گرد کسی کو دستیاب نہیں۔

اور ادھر بہاولپور اور وہاڑی کے چڑیا گھروں میں قید جانوروں کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ سوکھے، ویران، خشک گھر اور مسکین جانور۔ ناکافی خوراک، قدرتی ماحول سے دوری، محبت اور خیال کی کمی ان جانوروں کو وقت سے پہلے ہی موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔ اس کی ایک مثال نور جہاں ہتھنی کی موت ہے جو اپنی عمر کے اوسطا تیس سے چالیس سال بھی پورے نہ کر سکی۔ اور وہ اس طرح کی پر اذیت موت کا شکار ہونے والی کوئی پہلا جانور نہیں۔ اس سے قبل پچھلے سال دو ببر شیر کراچی چڑیا گھر میں ہلاک ہوئے اور فروری 2022 سے سفید شیرنی بھی بیمار پڑی ہے۔

لیکن ایسے معاشرے جہاں ذات برادری، کالی رسموں و روایتوں اور ذاتی دشمنیوں کی بھینٹ کئی اجمل ساوند روز چڑھیں۔ جہاں چپ کی بکل میں لپٹی نسل کشی کی کافرانہ تحریکیں ہزارہ کمیونٹی اور پارا چنار کے باسیوں کو روز ذبح کریں۔ اور کوئی ’ڈکار‘ بھی نہ لے۔ آواز بھی نہ اٹھائے۔ احتجاجاً منہ سے ’سی‘ کی آواز بھی نکالے۔ جہاں انسانی جان روز سڑکوں پر کسی قاتل گولی سے لہولہان ہو رہی ہو۔ اور اس کے اردگرد سب ’نارمل‘ ہی رہے۔ جہاں پر دین کی اس تکریم کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، کو روز سر عام روندا جائے۔ وہاں پر جانوروں پر رحم کے درس کون یاد رکھے گا؟ جو آدم کے بیٹے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے وہ نور جہاں ہتھنی کے مرنے کو بھی کہاں روئیں گے؟

ہم جب چھوٹے تھے اور کبھی آسمان کالا اور سرخ ہو جاتا تو اماں کہتی تھیں کہ آج کہیں، کسی بے گناہ کو ناحق مارا گیا ہے۔ اور ہفتوں ملال کا شکار رہتیں۔ لیکن اب کے تو آسمان بھی بڑے ڈھیٹ ہو گئے ہیں۔ نہ سرخ ہوتے اور نہ ہی خون کے آنسو روتے ہیں کہ اب جانور تو دور انسان بھی روز کٹتے، مرتے اور بے گور و کفن دفن ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS