ادیب، صرف ادیب نہ رہا دانشور، صرف دانشور نہ رہا
بھارتی فلم کے ایک گانے کے بول ہیں کہ ”دوست دوست نہ رہا، پیار پیار نہ رہا“ ۔ یہ گانا کم و بیش ہر اس شخص نے سنا ہو گا جو موسیقی کا ذرا سا بھی شوق رکھتا ہے، اور اگر موسیقی کا ذوق نہ بھی رکھتا ہو تو بس اور ویگن کے سفر کے دوران ضرور اس کی سماعتوں سے ٹکرایا ہو گا۔ مجھے یہ گانا سنتے ہوئے آج کے وہ ادیب اور دانشور یاد آ گئے جو ادب، صحافت اور تجزیہ نگاری کے علاوہ نہ اور جانے کیا کیا ہیں؟ اور یہ بتانے کے لیے وہ اپنے کالموں، سوشل میڈیا اور ٹی وی چینل کے پروگراموں میں اپنی ان بے پناہ خصوصیات اور فنکاری کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
اپنی بنیادی شناخت کے علاوہ اپنی صفات بتانے کی اس خواہش کی شدت میں ریٹنگ اور لائیکنگ کے حصول کے جنون نے مزید اضافہ کیا ہے، جس کے سبب وہ لوگ بھی اس کھیل میں شریک ہو گئے جنھیں یہ زعم ہے کہ وہ ”عالم“ ہیں۔ ستر کی دہائی میں شعور کی عمر کو پہنچا تو والد مرحوم محمد اختر مسلم کے دوستوں کو دیکھا جو کبھی ہمارے گھر پر تشریف لاتے یا پھر میں بھی کبھی کبھی والد صاحب کے ساتھ ان کے ساتھ دوستوں کے گھر چلا جاتا۔ ان ملاقاتوں میں گفتگو کا محور کتابیں، سیاسی صورتحال اور سماجی مسائل ہوتے، اور اگر کبھی موسیقی یا فلم پر بات بھی ہوتی تو ان کا حوالہ بھی اچھی شاعری، اچھی گائیکی اور کوئی کتاب ہی ہوتی۔ اس عہد کے ادیبوں اور دانشوروں کے چہروں ہی سے کتاب اور قلم دوستی کا اندازہ ہوجاتا تھا۔ یقیناً یہ شخصیات بھی اپنی بنیادی شناخت کے علاوہ دیگر خصوصیات کے حامل ہوں گیں۔ لیکن انہوں نے کبھی اپنی عمومی شناخت کے علاوہ ان خصوصیات کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا۔
ہماری آج کی صحافت اور ادب میں کچھ لوگوں نے طفلانہ پن کی بے شمار مثالیں قائم کی ہیں۔ ایک ڈاکٹر صاحب تھے جو ایک نجی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر سیاسی تجزیے کیا کرتے تھے۔ ان میں بھی وہ حقائق کی بجائے اپنی دلی خواہشات اور آرزوؤں کا تڑکا زیادہ لگایا کرتے تھے۔ سیاسی تجزیے کرتے کرتے ان کے دماغ میں نہ جانے کیا سمائی کہ انہوں نے ایک ویڈیو بنا ڈالی کہ۔ ”قیامت کب آئے گی“ ؟ واضح رہے کہ ان کی ڈاکٹر صاحب کی ڈگری میڈیکل کی تھی نہ کہ کسی مضمون میں تحقیق کی۔
ان ڈاکٹر صاحب کی خواہشات کا ”شاہد“ ایک زمانہ رہا۔ یہ ان کی خواہشات ہی کا زور تھا کہ موصوف نے پی ٹی وی کے چیئرمین کا عہدہ اس سیاسی جماعت کے دور اقتدار میں سنبھالا جس کے وہ شدید ناقد تھے۔ یہ سوال اس سیاسی جماعت سے بھی بنتا ہے جسے اس عہدے کے لیے اس ”نابغہ روزگار“ شخصیت کے علاوہ کوئی اور مناسب آدمی نظر نہیں آیا۔
صحافی اور تجزیہ نگاروں کی کھانا پکانے، شکار کھیلنے اور گاڑیوں کے نئے نئے ماڈل رکھنے کی خصوصیات کا آغاز ایک ایسے صحافی اور ٹی وی اینکر نے کیا جن کی شہرت کا ’‘ آفتاب ”اقبال کی بلندی کی منزل پر پہنچا اور پھر زوال پذیر ہوا۔ موصوف اپنی شخصیت میں بزعم خود ایک اعلیٰ درجے کے فلم بیں بھی ہیں، انگریزی، ہندی اور اردو فلموں کا کوئی اداکار ایسا نہ ہو گا جس کی اداکاری میں انہوں نے کیڑے نہ نکالے ہوں۔ ایک پروگرام میں تو موصوف نے غالبؔ پر وہ نکتہ چینی کی جس پر حقیقی اہل علم نے ان کے خوب لتے لیے مگر موصوف بھی ڈھٹائی کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔
مغربی مصنفین کا ذکر تو وہ ایسے کرتے ہیں جیسے ان کے لنگوٹیے ہوں۔ اس کے علاوہ موصوف خوش خوراکی کے ساتھ خود کو ایک بہترین کک بھی ثابت کرنے کے لیے پروگرام میں اپنے چاپلوسوں سے سوال کرواتے اور پھر شکار کے قصے اور کھانا پکانے کی تراکیب نہایت فخر کے ساتھ بیان کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا کام نہیں جسے انجام دینے کی صلاحیت ان میں نہ ہو اور دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں جو ان کی نظر سے نہ گزری ہو۔ پہلے تو ایک بڑے نجی چینل پر پروگرام کیا کرتے تھے مگر اب انھیں ڈھونڈنا پڑتا ہے۔
ایک صاحب ہیں، ان سے اگر بدقسمتی سے ملاقات ہو بھی جائے تو آپ کو انھیں یہ بتانے کے لیے کہ آپ کو کوئی ضروری کام ہے اور آپ ان سے رخصت لینا چاہتے ہیں تو یہ دو جملے بولنے کے لیے بھی آپ کو کم از کم دو گھنٹے چاہیے۔ وہ یوں کہ موصوف مسلسل اور بے تکان بولنے کے ماہر ہیں۔ وہ مصنف بھی ہیں، وہ سیاح بھی ہیں، وہ پبلشر بھی ہیں، اینکر اور کالم نگار بھی ہیں۔ ان کی عادت ہے کہ وہ بیٹھنے کے لیے چائے خانہ یا ریستوران کی وہ نشست ڈھونڈتے ہیں جو اس ریستوران کے داخلی دروازے کے سامنے ہو۔
جہاں جلوہ افروز ہو کر موصوف اس ریستوران میں داخل ہونے والے ہر فرد کو دیکھ کر چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اس ادا سے سجاتے ہیں جیسے داخل ہونے والے فرد سے خود کو زبردستی روشناس اور متعارف کروانا چاہتے ہوں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کے سخت مخالف ہیں، لیکن چند ماہ قبل جب ایک امریکی ادارے نے پاکستان میں امداد کا اعلان کیا تو اس کے لیے درخواست فارم پر کرنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھے۔ وہ سوشل میڈیا کہ پیج پر کبھی تانگے چلانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہیں، کبھی بریانی بنانے کی اور کبھی اپنی تصنیفات کی۔ باصلاحیت آدمی ہیں، لیکن خودنمائی کے انتہائی جذبے نے ان کی صلاحیتوں کو گہنا دیا ہے یا پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
ایک صحافی ہیں۔ انگریزی اخبار کی رپورٹنگ سے کیرئیر کا آغاز کیا اور پھر ترقی کرتے کرتے اردو کے کالم نگار اور نجی ٹی وی چینلز پر تجزیہ نگار بھی بن بیٹھے ہیں۔ ہر ماہ دو ماہ بعد موصوف کا ایک کالم اسلام آباد میں ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کی مدح سرائی میں ہوتا ہے جن کے نامہ اعمال میں ان کی ”بہترین“ کارکردگی ایک منتخب حکومت کے خلاف سازش کر کے ختم کرنا ہے۔ قسط وار کالم زیادہ لکھتے ہیں خاص کر اس وقت جب کسی شخصیت سے متعلق ہو، اور ہر قسط کا اختتام ایسے سنسنی خیز موڑ پر کرتے ہیں کہ قاری اگلی قسط کا بے تابی سے منتظر رہے۔
تعلق تو ان کا جنوبی پنجاب کے ایک پس ماندہ علاقے سے جو کہ فخر کی بات ہے کہ ایک پس ماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والا شخص اس مقام پر پہنچا۔ مگر ہیں ذہنی طور پر وہ جنت کے مقیم، وہ یوں کہ اکثر وہ اپنے کالموں میں لکھتے ہیں کہ کیا خوب موسم ہے اس موسم میں کافی پینے، کتاب پڑھنے، فلم دیکھنے اور سونے کا اپنا ہی مزا ہے۔ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ یہ آسائش ملک میں ان کے سوا شاید ہی کسی کو حاصل ہو۔
ایک اور شخصیت ہیں۔ وہ وی لاگ بھی کرتے ہیں، ایک اردو ویب سائٹ کے کار خاص بھی ہیں، کالم نگار بھی ہیں، گفتگو کریں گے تو ایسے جیسے اپنے خیالات نہیں نعوذ با اللہ نزول بیان فرما رہے ہوں۔ تحریر بلاشبہ ان کی اچھی ہے، مدلل بھی ہے۔ ہم تو ان کی تحریروں کے حسن اور جمال کے مداح ہیں، مگر ایک دن انہوں نے اپنے کلاسیکل رقص کی ویڈیو بھی شیئر کردی اور کھانا بنانے کی بھی۔ اب خدا ہی جانے انھیں یہ ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ تو چند مثالیں ہیں۔ خودنمائی اور اس بدبخت ریٹنگ کے چکر میں نہ جانے کیسے کیسے ہیرے اپنی اصل سے ہٹ کر ضائع ہو رہے ہیں۔ ویسے میں یہ سوچتا ہوں کہ ریٹنگ اور لائیکنگ کے اس بخار میں اگر آج فیض، جالب، ندیم، فراز، قتیل، منٹو، کرشن چندر، غلام عباس اور اس عہد کے دیگر مشاہیر ہوتے تو کیا وہ بھی اپنی بے پناہ علمی اور ادبی قابلیت کے باوجود اس ”بیماری“ کا شکار ہوتے؟ ادیب اور دانشور اپنی اصل سے ہٹ کر اور معاشرے کے مسائل سے لاتعلق ہو کر خودنمائی کے مرض کا شکار ہو جائے تو پھر معاشرہ زوال پذیر نہ ہو تو کیا ہو؟


