شر اور ڈر
فتنہ، فساد، برائی یا گناہ، شر کہلاتے ہیں۔ آدمی دراصل نیکی اور شر کا مجموعہ ہے، جب نیکی کا غلبہ ہو تو فرشتہ صفت یا نیک سیرت ہے اور جب شر غالب آ جائے تو شیطان جیسا بن جاتا ہے۔ انسانیت کی موجودگی آدمی اور انسان کا فرق بتاتی ہے۔
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
بعض افراد کہتے ہیں ملک کی تباہی کے ذمہ دار سیاست دان ہیں، کچھ کا کہنا ہے مارشل لاء نے ترقی نہیں ہونے دی، کسی کو اسٹیبلشمنٹ غلط لگتی ہے اور کسی کو عدلیہ پر اعتراض ہے۔ میں زرد صحافت پر پہلے ہی مضمون لکھ چکا ہوں۔ ایک طرف داڑھی دیندار کی پہچان بنا دی گئی جس کی آڑ میں بعض دفعہ شر بھی پنپتا ہے اور دوسری طرف برداشت کی کمی اور شدت پسندی کی وجہ سے انسانی جان سستی ہو گئی ہے۔ کچھ شعبوں پر فرشتوں کا لیبل لگا کر غلطی سے مستقل طور پر پاک قرار دے دیا گیا ہے جنہیں غلطی پر غلط کہنا بھی ممنوع ہے۔ آخر صحیح کون ہے۔ معاشرے میں انصاف کم کم نظر آتا ہے، ہر کوئی اپنی ضد اور ذاتی مفاد کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر محکمے، ہر شعبے اور ہر روپ کے پیچھے آدمی ہی موجود ہے، انسان تو بہت کم ہیں، وہی آدمی جس کا ہم نے کچھ دیر پہلے ذکر کیا، جو دنیا میں انسان بننے کے لئے بھیجا گیا ہے۔
بد قسمتی سے آدمی اپنے لئے جیتا ہے اور اپنے آج کو دیکھتا ہے، اگر کل کی فکر کرے تو شر دور یا کم ہو جائے اور انسان بن جائے۔ حسد اور لالچ نے ہمیں قابو کر رکھا ہے۔ ناجائز کاموں کو اپنے لئے جائز بنا لیتے ہیں۔ حلال اور حرام میں تمیز نہیں رہی ہے۔
ہمارے معاشرے میں خود غرضی عروج پر ہے، اپنے فائدے سے زیادہ توجہ اور توانائی دوسروں کے نقصان کے لئے ہیں۔
میرا اس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں
لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا سوچتے ہیں
کم عقلی دیکھیں، ہمیں اونچی عمارت سے نیچے دیکھ کر تو ڈر لگتا ہے لیکن پل صراط سے جہنم میں گرنے کی کوئی فکر نہیں۔
چھوت کی بیماری سے ڈر جاتے ہیں، موت کا وقت اور روز حساب یاد نہیں رہتا۔ ماچس کی تیلی سے جلتی آگ ڈرا دیتی ہے لیکن جہنم کی آگ کی پرواہ نہیں۔ اندھیری سڑک پر جاتے ہوئے دس دفعہ سوچتے ہیں لیکن اندھیری قبر کو روشن کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
انسان ڈرتا کب ہے، جہاں ڈرنا چاہیے وہاں بے خوف کیوں نظر آتا ہے، وہ ڈر کہاں ہے جو کل سے ہو، حساب کتاب سے، سزا سے، موت کے بعد کی زندگی سے۔ آئیں سوچتے ہیں۔
ڈر یا خوف ہر جاندار میں کم یا زیادہ پایا جاتا ہے، اگر ڈر بے وجہ اور بے موقع نہ ہو تو یہ اللہ کی ایک ایسی نعمت ہے جو خطرات کا پہلے سے احساس دلاتی ہے اور محتاط کرتی ہے۔
دین سے دوری نے ہمیں حقیقت سے بھی دور کر دیا ہے، ہم اس چیز سے ڈرتے ہیں جس کو عقل خود تسلیم نہیں کرتی لیکن اس کے خوف سے دور ہیں جو اٹل حقیقت ہے، جس کے آگے اصل زندگی ہے، یہ وہ ڈر ہے جو آخرت کی کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔ خوف خدا ایسا خوف ہے جو ہمیں گناہوں سے روکتا ہے، توبہ اور تلافی کی ترغیب دیتا ہے۔
جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اس کے لئے دو دو باغ ہیں۔ (سورہ رحمٰن۔ 46)
اللہ سے ڈرنے کا مطلب اس کی اطاعت کرنا ہے اور ہر اس کام سے پرہیز کرنا ہے جس سے اللہ ناراض ہو تاکہ آخرت کی رسوائی سے بچا جا سکے۔
اگر ہم اپنے ہر عمل اور ہر لفظ کی ادائیگی سے پہلے سوچ لیں کہ یہ اللہ کی ناراضگی کا باعث نہ ہو تو یقینی طور پر بہت سارے شر اور گناہوں سے بچ سکتے ہیں۔
تو جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے احکام سنو اور مانو (سورہ تغابن آیت 16)
خوف خدا رکھنے والا اپنی زبان اور سوچ کی حفاظت کرتا ہے۔ کسی کا برا سوچنا، کینہ اور بغض رکھنا دل اور دماغ کو آلودہ کرتا ہے۔ زبان کا غلط استعمال دنیا اور آخرت کی رسوائی کا سبب بنتا ہے۔ زبان ہی ہے جو غیبت، چغل خوری اور دل آزاری جیسے گناہ کبیرہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ گھر اور خاندان کا سکون چھیننے میں زبان کے غلط استعمال کا اہم کردار ہوتا ہے۔
زبان اگر اصلاح نہ کرے تو فساد برپا کر دیتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی دنیاوی خواہشات کی تکمیل میں اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ اپنی نمازوں اور روزوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا
خداوند عالم زبان کو ایسے عذاب میں مبتلا کرے گا کہ کسی دوسرے حصہ پر ایسا عذاب نہیں کرے گا، اس وقت زبان گویا ہو گی: خدایا! تو نے مجھے ایسے عذاب میں مبتلا کیا ہے کہ کسی حصہ کو ایسا عذاب نہیں کیا ہے چنانچہ اس سے کہا جائے گا، تجھ سے ایسے الفاظ نکلے ہیں جو مشرق و مغرب تک پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے بے گناہ کا خون بہا، بے گناہ کا مال غارت ہوا اور بے گناہ کی آبرو خاک میں مل گئی
جب کوئی شخص اپنے گناہوں پر نادم ہو تو صرف یہی کافی نہیں بلکہ تلافی کے ساتھ ساتھ اس کو اپنی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے، ریاکاری اور خودنمائی سے مکمل پرہیز بھی ضروری ہے، دینی فرائض کی ادائیگی کا معاملہ صرف اللہ کے ساتھ رکھے۔
مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کر لی وہ سنور گئے اور انہوں نے اللہ سے مضبوط تعلق جوڑ لیا اور انہوں نے اپنا دین اللہ کے لئے خالص کر لیا تو یہ مؤمنوں کی سنگت میں ہوں گے اور عنقریب اللہ مومنوں کو عظیم اجر عطا فرمائے گا (آیت 146 سورۃ النسا)
ہر بشر کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اگر جزا اور سزا کا تصور ہی نہ رہے تو وہ گناہ کی طرف راغب ہو جائے۔ ڈر یا خوف ہی دراصل اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ خوف خدا ہی ہے جس کا موجود ہونا بھٹکے ہوئے کو راہ راست پر لاتا ہے۔ بعض افراد شر سے ڈر اور ڈر سے واپس شر کی طرف مستقل جھولتے نظر آتے ہیں، یہ آخرت کے خوف اور دنیا کی محبت کی ملی جلی کیفیت ہوتی ہے۔
یاد رکھیں، کفن میں جیب نہیں اور قبر میں بجلی پنکھا نہیں، تو ہم کیوں عارضی شان و شوکت، انا پرستی، حرص و ہوس اور لامحدود خواہشات کے پیچھے اندھے ہو کر بھاگے جا رہے ہیں۔
دنیا کی محبت کو دل سے نکالنے کی کوشش کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں، یہ ایسا ڈر ہے جو باقی ہر خوف سے نجات دے دیتا ہے۔


