ضرورت ہے ایک نئے دارالحکومت کی


بڑوں سے سنا ہے کہ کراچی پہلے پاکستان کا دارالحکومت ہوتا تھا۔ پھر بڑی محنت اور لگن سے اس کو جرائم کا گڑھ بنایا گیا۔ لاقانونیت اعلی درجے پر قائم ہونے کے بیج بوئے گئے اور سارے ملک کی اقوام کو کراچی میں جمع کیا گیا اور کراچی اس کے حوالے کر دیا گیا۔ پھر ہم نے ترقی کی منازل طے کی اور کراچی جرائم کی دنیا میں نمبر ون بننے کے چکر میں پڑ گیا۔ قتل، راہزنی، ڈکیتی، اغوا، بھتہ خوری، موبائل اور گاڑیاں چھیننے کی اتنی وارداتیں شروع ہو گئیں کہ ان کا شمار مشکل تھا روکنا تو بہت دور کی بات تھی۔ انصاف بھی کراچی میں بہت ارزاں بکتا تھا جو مرضی جرم کرو پیسے دو یا سیاسی وابستگی شو کرواؤ اور نیکو کار کا سرٹیفیکیٹ لے لو۔ نظام تعلیم بھی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔

کچھ بھی تو ٹھیک نہیں تھا۔ فیلڈ مارشل صاحب نے اسلام آباد فتح کیا اور اس کو دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔ اور اس کو کراچی کی اصل سے بہتر کاپی بنانے کے وعدے کیے ۔ ہم نے تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے کسی دانشور سے پوچھا جنرل صاحب فیلڈ مارشل کیسے بنے کہنے لگے جیسے کہ راجہ داہر کا ذکر آپ نے پڑھا ہو گا، اسی طرح راجوں سے جنرل ایوب خان نے اسلام آباد کو فتح کیا اور فیلڈ مارشل کہلائے۔ مجھے بڑا تجسس ہوا اور ایک پنڈی وال راجے سے پوچھا راجہ جی سنا ہے آپ کے بڑے بہت بڑے جنگجو تھے۔

کہنے لگے تساں کس آکھیا۔ بتایا کہ تاریخ دان کہتے ہیں فیلڈ، مارشل ایوب خان نے اسلام آباد راجوں سے فتح کیا ہے۔ یارا مذاق نہ کر ساڈے وڈے کھوتیاں چارنے سن تے ٹانگے چلانے سن پر اس ایوب خان ساڈے نال فراڈ کیتا تے زمیناں نا لارا لائی کے ساڈے وڈیاں کولوں اسلام آباد لے لیتا جس طرح آج کل ہاؤسنگ سوسائٹیاں بننیاں نے۔ مجھے بات سمجھ آ گئی۔ مجھے اسلام آباد میں رہتے 42 سال ہو گئے اور میں چشم دید گواہ ہوں کہ کیسے اس کو بڑی ترتیب سے کراچی بنایا گیا پہلے اونچی اونچی بلڈنگز بنائی گئیں پھر انٹرنیشنل ائرپورٹ بنایا گیا بڑی بڑی سوسائٹیاں بنائی گئیں اور ملک بھر سے چور اچکوں کو لا کر یہاں آباد کیا گیا۔

قتل، چوری، ڈکیتی، موبائل چھیننا اب معمول بن چکا ہے نہ ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور نہ کوئی سننے والا ہے ساری پولیس بڑے مجرموں کی حفاظت اور باحفاظت عدالتوں میں پیشیوں پر مصروف ہے اور اسلام آباد لاوارث۔ کبھی کسی دوست کی گاڑی چھن جاتی ہے اور کبھی چوری ہوجاتی ہے، بچیوں اور بچوں سے موبائل چھیننا، بیگ چھیننا معمول بن چکا ہے، بڑوں سے روزانہ گن پوائنٹ پر پیسے اور موبائل چھین لئے جاتے ہیں۔ بڑی شاہراؤں کے ساتھ منسلک سیکٹر چوروں اور ڈاکوں کی جنت بن چکے ہیں۔

ایک گاؤں کی پولیس اور اسلام آباد کی پولیس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لائسنس والا اسلحہ لے کر چلنے پر ممانعت ہے۔ بغیر لائسنس کے اسلحہ آپ جہاں مرضی لے کر چلے جائیں، میری رائے میں دفعہ 144 پولیس اور چوروں کی باہمی رضا مندی کا قانون ہے۔ مجھے امید ہے جلد ہی ہم اسلام آباد والے کراچی والوں کی طرح چوروں ڈاکوؤں کا علاج بالغذا شروع کر دیں گے۔ محترم وزیر اعظم اور سیکورٹی اداروں کے سربراہان سے گزارش ہے کہ پولیس کو تھوڑا فارغ کریں تاکہ وہ عوام کے مسائل کی طرف بھی توجہ دے سکیں۔

ورنہ ہر بات کا حل تو رینجرز ہی ہیں امید ہے جلد ہی اسلام آباد کو بھی ان کے مزید حوالے کر دیا جائے گا۔ اور بتایا جائے گا کہ پولیس کی اور بہت مصروفیات ہیں۔ میرے گھر کے افراد کے ساتھ تین دفعہ موبائل، بیگ اور پیسے چھننے کی وارداتیں ہو چکی ہیں، پر تھانے جاکر کئی دن ضائع کر کے درخواست جمع کروانے سے بہتر ہے کراچی والوں کی طرح صبر کر لیا جائے۔ کراچی کی کروڑ ہا آبادی میں ہر فرد کے دو سے تین دفعہ چوری اور ڈکیتی کی واردات کا شکار ہونے کے واقعات موجود ہیں ماسوائے الطاف بھائی اور زرداری بھائی کے۔ کیونکہ سرپرست ہمیشہ محفوظ ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد کے بڑے بھی محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

مہربانی کیجئے کوئی نیا دارالحکومت ڈھونڈیے۔ ہماری حیثیت ہی نہیں ان سب کو برداشت کرنے کی۔

ساری زندگی بچوں کو پراعتماد بنانے میں گزار دی موبائل اور پرس تو نیا لے دیں گے پر نیا اعتماد کہاں سے لے کر دیں۔ مہربانی فرما کر نیا پاکستان بعد میں بنا لیں پہلے نیا دارالحکومت بنا لیں۔ محترم آئی جی صاحب پڑے چور اچکے آپ سے گرفتار نہیں ہوں گے چھوٹے چھوٹے ڈاکو چور پکڑ کر ریہرسل ہی کر لیں۔ شاید کراچی میرا مطلب ہے اسلام آباد کا سکون واپس آ جائے۔ یہ پولیس کی جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی ہی ہے جو ان کے گھروں اور گاڑیوں کی شکل میں نظر آتی ہے، ورنہ ایس ایچ او لیول کے اور اس سے ادنی کسی بھی سرکاری ملازم کے پاس یہ سہولیات دکھا دیں۔

محمد اظہر حفیظ
Latest posts by محمد اظہر حفیظ (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments