میں 24 گھنٹے سے واش روم نہیں گیا: عمران خان کا نیب عدالت میں بیان


 میں 24 گھنٹے سے واش روم نہیں گیا: عمران خان کا نیب عدالت میں بیان

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریِک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے اسلام آباد احتساب عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 24 گھنٹے سے واش روم نہیں گئے۔

عدالت میں موجود وکلا نے باہر آ کر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ ان کے معالج ڈاکٹر فیصل کو بلایا جائے۔

عمران حان کا کہنا تھا کہ ’ڈرہے ان کے ساتھ مقصود چپڑاسی والا کام نہ ہو، یہ انجکشن لگاتے ہیں، بندہ آہستہ آہستہ مر جاتا ہے۔ ‘

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب نے بتایا کہ عمران خان کی گرفتاری کے وقت انھیں وارنٹ دکھائے گئے۔

سماعت کے دوران عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ ’مجھے نیب پہنچنے پر وارنٹ گرفتار دکھائے گئے لیکن گرفتاری کے وقت وارنٹ نہیں دکھائے گئے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے عمران خان کے وکلاء کو دستاویزات دینے کی یقین دہانی کروائی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب نے بتایا کہ انھوں نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے کرپشن کی تحقیقات کیں۔ واپس کی جانے والی رقم پاکستانی حکومت کے بجائے پراپرٹی ٹائیکون سے ایڈجسٹس کی گئی۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’القادر ٹرسٹ کی زمین پربلڈنگ بنی ہوئی ہے، ٹرسٹ میں لوگ مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ٹرسٹ کا ایک لیگل پرسن ہوتا ہے جو پبلک آفس ہولڈر نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان اس وقت پبلک آفس ہولڈر نہیں ہیں۔ ‘

’جو فوج کل تک بہت مصروف تھی، اسے آج پنجاب اور کے پی میں تعینات کیسے کیا گیا؟‘ شاہ محمود قریشی

وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’ہمیں چیئرمین عمران خان کی زندگی کے بارے میں شدید خطرات لاحق ہیں۔

’ہمارا لیڈر ان لوگوں کی تحویل میں ہے جن سے اسے خطرہ ہے۔ دوسری بات کل تک تو فوج بہت مصروف تھی اور انتخابات کے لیے میسر نہیں تھی لیکن یہ کیا کرشمہ ہو گیا کہ آج پنجاب اور کے پی میں فوج تعینات کردی گئی ہے؟ قوم بے وقوف نہیں۔ ‘

 

 القادر ٹرسٹ کیس: احتساب عدالت نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

القادر ٹرسٹ کیس میں احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

اس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔

دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر مظفر عباسی نے عدالت سے عمران خان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جس کی عمران خان کے وکلا نے مخالفت کی۔

عمران خان کے وکیل کا موقف تھا کہ ریمانڈ پر غور کرنے سے قبل اس معاملے کو دیکھا جائے کہ عمران خان کو کس طرح ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا، اس پر سوالیہ نشان ہے اور عدالت کو بھی چاہیے کہ عدلیہ کے تقدس کا احترام کرے، لہذا اس معاملے کو پہلے دیکھا جائے۔

اس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ گرفتاری کا معاملہ پہلے ہی ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے اور وہی عدالت اسے دیکھی گے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد اب احتساب عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp