ماما! کھانا بن گیا؟

میری سوچوں کے تسلسل کو میری چھ سالہ بیٹی نے توڑا۔ اور کچھ پل کے لیے میں بھول بھی گئی کہ مجھے کھانا بنانا تھا۔ خبر ہی کچھ ایسی تھی۔ عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ خبر تھی یا بجلی تھی جو مجھ پر گری تھی۔ اب کیا ہو گا؟ اب کیا کرنا ہو گا؟ دل و دماغ سوچوں کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب رہا تھا۔
کیا ہو گا، یہ واضح نہیں تھا۔ لیکن کیا کرنا چاہیے، یہ بالکل واضح تھا۔ ہمارے لیڈر نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ اگر میرے ساتھ کچھ ہوا تو میری عوام مجھے انصاف دلائے گی۔ ایک فرد واحد کی حیثیت میں مجھے کیا کرنا چاہیے کہ میں اپنے لیڈر کے لیے انصاف لے سکوں۔ میں کیا انصاف لوں گی کسی کے لیے، میں تو احتجاج کے لیے گھر سے قدم نا نکال سکی۔ میرے ہاتھ بندھے ہیں۔ مجبوریوں اور ذمہ داریوں سے۔ ”مجبوری“ کبھی تنہا گھر سے نا نکلنے کی اور ”ذمہ داری“ ایک کنبے کی۔
کیا عورت کے لیے بس گھر سنبھالنا ہی اولین ذمہ داری ہے؟ کیا قوم و ملک کی طرف عورت کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ وقت پہ کھانا بنانا، بچوں کو دیکھنا، گھر کو صاف ستھرا کرنا ہی عورت کی زندگی کا منبع ہے؟ دینی حلقوں میں جائیے تو وہ بھی اسلام کا جھنڈا پکڑ کے فتوی دینے لگیں گے کہ ہاں! عورت کا کام گھر کی چار دیواری میں رہنا ہے۔ تب وہ بھول جاتے ہیں کہ میدان کربلا میں بھی ہماری بیبیاں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ لڑتی رہیں۔
سوچنے کی بات ہے نا اگر قیام پاکستان کے وقت بھی مائیں کٹ مرنے کے ڈر سے اپنے بچوں کو گھروں میں چھپا کے رکھتیں تو کیا آزادی مل جاتی؟ اگر فاطمہ جناح اپنے بھائی کے ساتھ آزادی کی تحریک میں اور اس کے بعد بھی نا لڑتیں تو اچھا ہی ہوتا۔ آج میں اور مجھ جیسی ہاؤس وائفز شرمندہ نا ہوتیں۔
پھر بھی دل مطمئن نہیں ہوتا۔ اب بھی لگتا ہے کہ یہ میری بھی ذمہ داری ہے۔ اعظم سواتی کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ دل بے حد غمگین تھا۔ جب دوسری بار انہیں ان کے گھر سے گرفتار کرنے پہنچے تو انہوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ میرے لیے۔ ہاں! میرے لیے۔ ان کے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں کانوں میں۔ ”میں گھر پہ بیٹھی اپنی خواتین سے کہوں گا کہ یہ سب سہنا میرے لیے مشکل نہیں، لیکن یہ سب میں آپ کے لیے کر رہا ہوں۔“ اب میں انہیں کیا عذر دوں، کہ میرے لیے میری گھر کی ذمہ داریاں زیادہ ضروری ہیں؟
شاید ہمارے بڑے، ہم پر مسلط شدہ لوگ ہمارے عذر سے واقف ہیں۔ میں شکوہ کرتی ہوں اداروں سے کہ ایک گھر بیٹھی عورت انصاف کے لیے ان کی طرف دیکھتی ہے۔ کل احتجاج کرتی ایک عورت کو پولیس بالوں سے گھسیٹتی گرفتار کر رہی تھی۔ کیا عورت سڑک پر نکلے گی تو یوں ذلیل و رسوا ہو گی؟ عدالت عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قرار دیتی ہے اور آئی جی پر توہین عدالت لگاتی ہے؟ اب میں یہ سوال کہاں پوچھوں کہ اگر گرفتاری قانونی تھی تو توہین عدالت کیسے ہوئی؟ اور اگر توہین عدالت ہوئی اور عدالت کے حکم کے خلاف گئے تو گرفتاری قانونی کیسے ہوئی؟ اگر سڑک پہ جا کر سوال پوچھوں گی تو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹی جاؤں گی۔ میرے لیے تو کوئی آپشن ہی نہیں بچا۔ خان صاحب! میں کیسے انصاف دلاؤں تمہیں۔
اداروں نے اپنے ہاتھ کھڑے کر لیے ہیں۔ وہ عوام کے مفاد کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔ اب ماؤں کو ہمت کرنی ہو گی۔ اپنے جوانوں کو سڑک پر بھیجنا ہو گا۔ مہذب اور زندہ اقوام میں ذمہ داری صرف جوانوں پر نہیں آتی۔ قوموں کی ذمہ داری سانجھی ہوتی ہے۔ لیکن یہ میں پہلے بھی کہہ چکی کہ نا ہم مہذب قوم ہیں اور نا زندہ۔ مہذب ملکوں میں وہ مناظر نہیں نظر آتے جو آج اور کل میں ہم دیکھ چکے ہیں۔
آج اگر عمران خان کو کچھ ہوتا ہے تو بے شک اس کے بعد اندھیرا ہے۔ روشنی کی کوئی کرن نہیں۔ اداروں کے خلاف جو نفرت کا بیج بویا تھا وہ ایک دن میں تناور درخت بن چکا ہے۔ اس کی جڑیں اگلی کئی نسلوں تک پھیل گئی ہیں۔ عمران خان نے اپنے حصے کا کر لیا ہے۔ ”شعور“ دینا تھا، وہ دے دیا ہے۔ شعور کو بروئے کار کیسے لانا ہے، یہ زندہ قومیں جانتی ہیں۔ مردہ قومیں سب جانتے ہوئے بھی پر سکون نیند سو جاتی ہیں۔
”ماما! آئیں! دس پتے توڑیں گے، کھیلیں۔“
میری سوچوں کا تسلسل میری بیٹی نے ایک بار پھر توڑا ہے۔ میں صحیح کر رہی ہوں یا غلط، میں اب بھی نہیں سمجھی۔ میں اپنے لیڈر کو انصاف دلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہی کیونکہ مجھے بچوں کو وقت پر کھانا کھلانا ہے۔ دلی کیفیت بہت عجیب ہے۔ اور دل کے حال اللہ جانتا ہے۔ اور میں نے یہ معاملہ اللہ کے سپرد کیا ہے۔ اللہ جی کو کہا ہے کہ اس انسان کی زندگی ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ مارنے والا بھی اللہ ہے اور بچانے والا بھی۔ عمران خان دعاؤں کے حصار میں ہے لیکن مرضی میرے رب کی چلے گی۔ اور میرے رب کا فیصلہ بہترین ہو گا۔

