پاکستان کی بے یقین سیاست


”پاکستان کی سیاست میں صرف ایک چیز یقینی ہے اور وہ ہے غیر یقینی“ اور اس کے مناظر ہم نے آج تب دیکھے جب چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے فوراً بعد اتنا ری ایکشن آیا اتنا زیادہ کہ شاید عمران خان نے بھی اس کی توقع نہ کی ہو، کم ازکم میں نے تو اپنے زندگی میں اس قسم کا ری ایکشن کبھی نہیں دیکھا صرف محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کچھ اس طرح کے ملتے جلتے حالات تھے پر کبھی نہیں ایسا دیکھا کہ فوج کے خلاف اتنا سخت ردعمل آیا ہو وطن پاکستان اس وقت انتہائی سنگین بحران کا شکار ہے اور اس میں سب سے بری بات یہ ہے کہ اس بحران کی سنگینی کو فریقین کم کرنے کو تیار نہیں اور اس لڑائی میں نقصان ملک پاکستان کا ہو رہا ہے بحران کی شدت کا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ کور کمانڈرز کے گھر اور کینٹ کے ایریاز میں عام لوگوں نے گھس کر توڑ پھوڑ کی اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں بھی گردش کر رہیں ہیں اور بہت سارے وڈیو کلپس میں لوگوں کو غصہ نکالتے دیکھا جا رہا ہے اور کیونکہ سوشل میڈیا کو تقریباً بند کیا ہوا ہے اس لیے افواہیں ہر سو پھیلی ہوئیں ہیں پاکستان اس وقت دو حصوں میں بٹا ہوا ہے ایک پرو عمران اور دوسرا اینٹی عمران، اور یہ خلیج وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے سیاست میں تشدد اور گھیراؤ جلاؤ کسی طور پر بھی ملک کے لیے اچھا نہیں اور اس وقت یہ تشدد ہر سو پھیلا ہوا ہے۔

اس بحران کو کیسے ختم کرنا ہے؟ آگے ہی معاشی صورتحال انتہائی خوفناک ہے تو اس بحران سے مزید حالات ابتری کی طرف جائیں گے تو ان سے کیسے نکلا جائے؟ چند گزارشات عرض ہیں سب سے پہلے اسٹبلشمنٹ کو انا پرستی سے نکل کر عمران خان سے بامقصد مذاکرات کرنے چاہیں اور الیکشن کی ڈیٹ اور اس کے فری اور فیر کرانے کی ضمانت دینی چاہیے دوسرا عمران خان اور پی ٹی آئی کو اپنے ورکرز کو توڑ پھوڑ اور گھیراؤ جلاؤ سے منع کرنا ازحد ضروری ہے اور عمران کو خود لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرنی چاہیے حکومت وقت کو چاہیے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اور اس کی طرح کے ہجو نگار وزراء کی زبان بندی کروائیں کیونکہ حکومت سمجھ رہی ہے کہ وہ پی ٹی آئی اور اسٹبلشمنٹ کی لڑائی کروا کر کچھ حاصل کر رہی ہے تو اس کی غلط فہمی ہے کیونکہ عوام نے تو ان پر غصے میں بھی رخ نہیں کیا کہ یہ اتنے ارریلیونٹ ہو گے ہیں، سو بہتر یہ ہے کہ اس لڑائی کو کم کروانے میں مدد کر کے ہائی مورل گراؤنڈ لیا جائے۔ آخر میں وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام کے لیے مل بیٹھیں اور اپنی اناؤں کو بھلا دیں تاکہ تاریخ آپ کو اچھے لفظوں کو یاد رکھے۔

Facebook Comments HS