ہیری پوٹر، عمران خان اور ملکی سیاسی حالات
ہیری پوٹر جے کے رولنگ کے ناول پر مبنی ایک فلم سیریز ہے۔ اس کے دو اہم کردار ہیری پوٹر اور والڈیمورٹ ہیں۔ ہیری پوٹر اس کے ہیرو ہیں جبکہ لارڈ والڈیمورٹ اس میں ولن ہیں۔ سوائے چند ایک کے سب والڈیمورٹ کا نام لینے سے ڈرتے ہیں، اس لئے اسے ’ڈارک لارڈ‘ یا ’ہی ہو مے ناٹ بی نیمڈ‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کہانی کا مرکز ہوگوارٹ سکول آف وچکرافٹ ہے جسے کئی صدیاں پہلے چار عظیم جادوگروں نے مل کر بنایا تھا۔ یہ نیکی اور برائی کے درمیان لڑائی پر مبنی بچوں کی ایک کہانی ہے۔ کئی سال پہلے ایک نادان طالب علم کی طرح معصومیت سے یہ فلم دیکھی تھی۔ اب اسے دوبارہ دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ فلم ہمارے ملک، سیاست اور سیاستدانوں، اور ’ہی ہو مے ناٹ بی نیمڈ‘ گروہ سے مماثلت رکھتی ہے۔
پاکستان کی بنیاد بھی ہوگوارٹ سکول کی طرح نیک مقاصد کے لئے چار عظیم لوگوں یا طاقتوں کی کوششوں کی مرہون منت ہے۔ اقبال کا خواب، قائد اعظم کی سیاست اور دور اندیشی، انگریز آقاؤں کی مہربانی اور، بقول جون ایلیا، علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت۔
جس طرح پاکستان بننے کے بعد پاکستان پر اندر اور باہر سے ان نیک مقاصد پر مختلف حملے ہوتے رہے جن کی وجہ سے پاکستان بنایا گیا تھا، اسی طرح وہاں ہوگوارٹ سکول کے اندر ایک طاغوتی طاقت کی صورت میں ٹام ریڈیل (والڈیمورٹ) نامی ایک لڑکا داخل ہوتا ہے جو کہ جادو کو غلط مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے اور کسی حد تک کالے جادو، جو کہ وہاں ممنوع تھا، کے حصول میں کامیاب ہوتا ہے۔ جس طرح پاکستان کے خلاف کئی سازشوں اور بغیر کسی نظام کے یہ اللہ کی خاص رحمت سے چل رہا ہے اسی طرح ٹام ریڈیل کو بھی روکنے کے لئے ہیری پوٹر ایک رحمت اور ’دے چوزن ون‘ بن کر اس کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ڈارک لارڈ کو روکنے کی کوشش ہوتی ہے لیکن غداروں کا ایک گروہ اس کی مدد کر کے اسے ایک نا قابل شکست مونسٹر بنا دیتا ہے جسے آخر کار ہیری پوٹر شکست دے دیتا ہے۔
کرداروں کی بات کی جائے تو ڈمبیلڈور کا کردار ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے جن کا کام ملک کی سلامتی ہے۔ ہوگوارٹ کے پروفیسر صاحبان ہماری فوج کے جرنیلوں کی طرح ملک کے اندرونی معاملات اور ہیگرڈ اور طلباء فوج کے سپاہیوں کی طرح بارڈر کی حفاظت جیسا کردار نبھاتے ہیں۔ مالفوئی خاندان کے لئے الیکٹ ایبلز کی طرح خاندانی اور ذاتی مفادات سب سے مقدم ہیں۔ ہلکے پھلکے تشدد کرنے والے ’خلائی مخلوق‘ کی طرح کے کردار، جن کے لئے آقا کی خوشنودی اور ذاتی مفادات سب سے اہم ہوتے ہیں، ڈولوریس، وارم ٹیل اور بیلاٹریکس جیسے کرداروں کی صورت میں موجود ہیں۔
پروفیسر اسنیپ کا کردار محب وطن سیاستدانوں کی طرح ہے جن کو ہر حال میں ملک سے وفا نبھا کر اسے بچانا ہوتا ہے۔ لیکن ان کی قربانیوں اور کارناموں کا ادراک ان کی وفات کے بعد بھی چند ایک کو ہی ہوتا ہے۔ ہاؤس ایلف، ڈوبی، جسے سب حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں، وہ ہمارے معاشرے کے سب سے نچلے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایلف ڈوبی کی طرح سب سے زیادہ محنت اور اس ملک سے وفا کے باوجود کوئی اس طبقے کے کاموں کو، سوائے چند ایک کے، ریکوگنائز نہیں کرتا ہے۔
ہیری پوٹر کی طرح پاکستان میں بھی مسٹر عمران خان پاکستانی سیاست میں ”دے چوزن ون“ بن کر ابھرتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں مجھے ہیری پوٹر اور عمران خان کی شخصیت میں مماثلت نظر آتی ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ڈارک لارڈ کا نصف حصہ (برائی) ہیری پوٹر کے اندر ہارکرکس کی صورت میں موجود ہے جو کہ والڈیمورٹ نے غلطی سے بنایا تھا۔ جس طرح خان صاحب کی نیت کا پتہ، کہ اچھی ہے یا بری، پر کچھ لوگوں کو شک ہے، اسی طرح ہیری پوٹر کی نیت کے بارے میں بھی ڈمبیلڈور جیسا عظیم جادوگر بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوتا ہے کیونکہ ٹام ریڈیل کے تجربے کے بعد وہ محتاط ہو گیا تھا، اور باوجود اس کے کہ ہیری پوٹر (عمران خان کی طرح) مشہور بھی تھا اور لوگوں کی اکثریت اس کو اپنا مسیحا بھی سمجھتی تھی۔
دمبیلڈور کے لئے ہیری پوٹر کی اہمیت ضرور تھی، اسی لئے ہر مشکل گھڑی میں اس کی مدد کر کے اسے بچاتا ہے لیکن وہ اس کے لئے جادو کی دنیا، اچھائی کی بقا اور ہوگوارٹ سے بڑھ کر بھی عزیز نہیں۔ ان چیزوں کی بقا کے لئے وہ نہ صرف ہیری پوٹر کو بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں بلکہ ہوگوارٹ کے لئے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرتے ہیں۔
خان صاحب کی طرح ہیری پوٹر پر بھی کئی لڑکیاں مر مٹتی ہیں۔ وہ بھی خان صاحب کی طرح کئی لڑکیوں سے افئیر چلاتا ہے اور فلرٹ بھی کرتا ہے۔ لیکن، دیکھنے والوں کی توقعات کے برعکس آخر میں اپنے محسن اور جگری دوست، رونی ویزلی کی بہن، جینی ویزلی، جن کے گھر اس کا آنا جانا ہوتا ہے، کے ساتھ شادی کر کے سیٹل ہو جاتا ہے۔
ملک کے موجودہ حالات اور ہیری پوٹر کے آخری سین تقریباً ایک ہی ہیں۔ وہاں بھی ہیری پوٹر کے ساتھی اور ڈارک لارڈ کی فوج کی آپس کی لڑائی پورے ہوگوارٹ کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان کا کردار ہیری پوٹر سے مطابقت رکھتا ہے یا والڈیمورٹ سے؟ آیا وہ اپنے ساتھیوں اور مداحوں کی محبت اور خلوص کے نتیجے میں ہیری پوٹر کی طرح سرخ رو ہوتے ہیں یا پھر والڈیمورٹ کی فوج کی طرح ان کی نا اہلی اور بے وفائی کے نتیجے میں رسوا ہو کر ہمیشہ کے لئے منظر سے غائب ہو جاتے ہیں؟
ہوگوارٹ میں ہیری پوٹر سے اچھائی کی امید کی وجہ سے اس کی غلطیاں بھی نظر انداز کی جاتی ہیں۔ ہیری پوٹر کی طرح خان صاحب بھی اسٹیبلشمنٹ کے اتنے چہیتے ہیں کہ ورلڈ کپ جیتنے کے لئے بھی تین مواقع دیے گئے۔ کامیابی تیسری مرتبہ میں جا کر ملی۔
بقول خان صاحب 1983 کے ورلڈ کپ میں بھی، سیاست کی طرح، ان کے پاس اچھی ٹیم نہیں تھی۔ 1987 کے ورلڈ کپ میں، 2018 کی طرح، خان صاحب کو لگا تھا کہ ان کی ٹیم بہترین ہے لیکن یہ خام خیالی ثابت ہوئی اور شکست فاش ہوئی۔ کیا پتہ 1992 کی طرح، تیسری باری ملنے کے بعد خان صاحب ملک کی تقدیر ہمیشہ کے لئے بدل دیں۔ اس وقت تک پیرنی صاحبہ کے بقایا چلے بھی پورے ہو چکے ہوں گے اور روحانیت سے بھرپور یونیورسٹیوں سے بھی عظیم طلباء نکل کر ہیری پوٹر کی طرح اپنی جادوئی شکتی سے ہمیں ان ’ڈیتھ ایٹر‘ جیسے سیاستدانوں سے نجات دلائیں۔
ویسے بھی پاکستان کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر بنایا گیا تھا۔ قائد کے اس وژن کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کی خاطر خان صاحب کو دوسری باری ہی نہیں بلکہ، ناکامی کی صورت میں، تیسری باری بھی دے کر آزمانا چاہیے۔ یہ خان صاحب کے بنانے والوں کے لئے بھی ایک ٹیسٹ کیس ہو گا کہ جو ہارکرکس انہوں نے تیار کیا تھا وہ اچھائی کی نمائندگی کرتا ہے یا برائی کی؟


