مغربی تہذیب اتنی معتوب کیوں؟


 

تہذیب کے معنی اور اس کی نشو و نما کے قوانین کا سوال اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب ایک نئی تہذیب تشکیل پا رہی ہوتی ہے اور عالمی ترقی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے۔ مغرب میں ایک طویل سیاہ دور کے بعد جب مذہب کا فکرو نظر پر بہت گہرا اثر تھا، پندرہویں صدی عیسوی میں روشن خیالی (انلائٹنمنٹ ) کی تحریک کا آغاز ہوا، تو لوگوں نے سماج، قانون اور مذہب پر وہ سوال اٹھانے شروع کر دیے جن پر وہ پہلے کلیسا کے دیے ہوئے جوابات سے مطمئن ہو جایا کرتے تھے۔

اب لوگ کائنات، خدا اور انسانی زندگی کے بارے میں کلیسا کی ہر بات تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ جستجو کی ایک نئی لہر چل رہی تھی۔ مظاہر فطرت کو سمجھنے کی بنیاد عقیدے کی بجائے انسانی محسوسات، مشاہدات اور تجربات پر رکھی جانے لگی۔ اس عمل کے نتیجے میں جدید سائنسی علوم کا جنم ہوا، پرانے تصورات ٹوٹے، کائنات کی تشریح کرنے والے مروجہ روحانی اور مابعد الطبیعیاتی نظریات کا دیوالیہ پن ثابت ہو گیا۔ ایسے میں مغربی تہذیب ایک جست لگا کر آگے بڑھی، صنعتی انقلاب بپا ہوا، صدیوں پرانے انداز بدلے اور جمہوری طرز فکر کا آغاز ہوا۔

فکری جمود اور فیوڈل زدہ معیشت کے شکار مشرق کے لئے تہذیب کی یہ تبدیلیاں بعید از قیاس تھیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ مشرق مغربی انداز کی سماجی تبدیلیوں سے بچا رہے گا؟ اب جب کہ یہ دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے اس میں تہذیبوں کی نوعیت مقامی رہ سکتی ہے؟ کیا کسی تہذیب کے روحانی پہلوؤں کو اس کی اصل قرار دیا جا سکتا ہے؟ تاریخ کا مطالعہ اس کا جواب میں نفی میں دیتا ہے۔ عقائد انہی مادی حالات کی عکاسی کر رہے ہوتے ہیں جن حالات میں انھوں نے جنم لیا تھا۔

ہر چند کہ، تہذیب اپنے وقت کی مادی، روحانی اور ثقافتی یکتائی کا نام ہوتا ہے لیکن ہر تہذیب اپنے اپنے زمانے کے طریقۂ پیداوار اور اس سے وابستہ سماجی نظام سے بھی منسلک ہوتی ہے۔ مثلاً رومن تہذیب کو غلام داری نظام سے جدا کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اخلاقی قدروں کا نظام اور عقائد اسی پیداواری ڈھانچے کے مفاد اور تقاضوں کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ مثلاً اگر مغرب نے اپنے ہاں کی عورت کو اس قدر آزادی دی ہے تو یہ اس صنعتی نظام کی ضرورت تھی جس میں وہ رہ رہے ہیں۔

اور اگر ہمیں اس عورت کی ”آزادی اور بے حیائی“ بری لگتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی فیوڈل پیداواری رشتوں اور اس کے بنائے ہوئے اخلاقی نظام کے زیراثر زندگی گزار رہے ہیں، جس میں عورت ایک ملکیتی شے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ہم بھی عمل اور صنعتی ترقی کی اسی منزل کو پہنچ جائیں تو یقیناً ہمارے خیالات بھی آج سے مختلف ہو جائیں گے۔

مشرق کا عجیب رویہ یہ ہے کہ ہمیں مغرب کی ٹیکنالوجی تو پسند ہے لیکن تہذیب ہم پرانی ہی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ تکنیکی ترقی اور اس سے وقوع پذیر ہونے والی تہذیب و ثقافت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس لحاظ سے مغربی تہذیب آج دیگر تہذیبوں کو آگے بڑھنے کے آداب سکھا رہی ہے اور خود اپنے آپ کو بہتر سے بہترین بنا نے میں کوشاں ہے، جبکہ ہر خطے کے رہنے سہنے کے انداز، سماجی رسم و رواج، قوانین، عقائد اور حتیٰ کہ زبانیں بھی مختلف تاریخی مراحل میں بدلتے رہے ہیں۔

مسئلہ صرف ان عوامل کے مطالعے کا ہے جو کسی قوم کے اندر تہذیبی مظاہر کی اتھل پتھل کا سبب بنتے ہیں۔ مغربی تہذیب کا جنم بھی ایک خاص خطے میں تاریخ کے انہی قوانین کے مطابق ہوا جیسے اسے سے پہلے دیگر تہذیبوں کا جنم ہوا تھا۔ اگر مغربی تہذیب گالی ہے تو پچھلی سب تہذیبیں بھی اسی زمرے میں آئیں گی کہ وہ تہذیبیں آسمان سے نہیں اتری تھیں، وہ بھی اپنے اپنے جغرافیائی ماحول اور انسان کی کئی صد سالہ اجتماعی سرگرمیوں کا نتیجہ تھیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ ہر پرانی تہذیب نئی تہذیب کو گالی دے کر خود تاریخ کے کچرے کے ڈھیر میں نابود ہو جاتی رہی ہیں۔

مشرقی تہذیب میں ”کوئی کیا کہے گا“ اور ”کل کی فکر“ ہماری زندگیوں کو اس قدر تباہ کرتی ہے کہ خود ہمارا وجود اور زندگی دونوں ہی بے معنی بن جاتے ہیں۔ مشرقی باشندوں کی زندگی کے سارے اعمال انہی دو باتوں کے گہرے خوف سے پروان چڑھتے ہیں کہ بے چارے اپنی زندگی کے مقصد سے ہی ناآشنا ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مشرق کی یہ تہذیب حیات کشی کا روپ دھار چکی ہے جس نے انسان کی زندگی کو لطائف سے محروم کر رکھا ہے۔ ”دنیا کیا کہے گی“ انسان کے عمل و فکر پر نہ صرف قدغنیں لگا کر فطری صلاحیتوں کو کچل دیتی ہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے مخفی وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی اسے ضرورت اور خواہش ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں بند اور منافق معاشرہ جنم لیتا ہے۔

اب ذرا ”کل کے خوف“ پر بات کی جائے، مشرقی باشندوں کو قدرت جتنے ”آج“ فراہم کرتی ہے وہ انھیں کل کے خوف میں تج دیتے ہیں اور بالآخر ساری زندگی گنوا کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ آنے والے وقت کی فکر اور خوف اس قدر ہوتا ہے کہ پوتے پوتیوں کی فکر میں نہ خود آرام سے بیٹھتے ہیں اور نہ ارد گرد کے لوگوں کو چین سے بیٹھنے دیتے ہیں۔ کل کی فکر اہل مغرب کا مسئلہ نہیں۔ انھیں پتا ہے کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے، اس کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے اس لمحے کا جتنا رس نچوڑا جا سکتا ہے نچوڑ لیا جائے۔ چناں چہ وہ خوب محنت کرتے ہیں اور اپنی کمائی کو خود پر خرچ کرتے ہیں۔ اپنی پیدا کی ہوئی دولت کو اپنے اوپر خرچ کرنا انسان کا بنیادی استحقاق ہے۔

مغرب پر یہ الزام نہایت غیر حقیقی اور سراسر لغو ہے کہ والدین اور بچوں کے مابین پیار کا بندھن نہیں ہوتا، وہ محض بچے پیدا کرتے ہیں، کچھ عرصہ پاس رکھتے ہیں اور پھر انھیں یا تو نکال دیتے ہیں یا وہ والدین کا گھر خود ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی والدین اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت جس محبت اور لگن سے کرتے ہیں ہم اس معیار کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمارے اور ان کے درمیان بنیادی فرق والدین کی فطری محبت کے کم یا زیادہ ہونے میں نہیں بلکہ بچوں کو اپنی ”ملکیت“ سمجھنے اور نہ سمجھنے میں ہے۔

ہمارے ہاں اولاد کو بھی جائیداد کی طرح ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ بچوں کے ساتھ حقیقی محبت کا اظہار صرف مغرب کے والدین میں پایا جاتا ہے جو ہماری طرح بچوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتے کہ کل اس سے فائدہ اور منافع حاصل کیا جا سکے۔ ہر نسل نے بالغ ہو کر اپنی آئندہ نسل کی پیدائش اور تربیت کا ذمہ لینا ہوتا ہے اور وہ اس کی کماحقہ ادائیگی اسی وقت کر سکتی ہے جب وہ پچھلی نسل کے شکنجے سے آزاد ہو۔ نسلوں نے آگے چلنا ہوتا ہے، پیچھے نہیں۔

”مشترکہ خاندان“ کا نظام مفت خوری اور حرام خوری کی عادت ڈال کر نسلوں کو معذور کر دیتا ہے۔ ایک کما رہا ہے، دس کھا رہے ہیں۔ چناں چہ معیار زندگی بہتر کس طرح ہو سکتا ہے۔ مشترکہ خاندان انفرادی خوشیاں کھا جاتا ہے۔ پہلے بڑا بیٹا کولھو کا بیل بنتا ہے اور پھر ایک کے بعد ایک، اسی مشق میں جت جاتا ہے، گویا ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی انفرادیت اور شناخت بھول کر خود اپنا نذرانہ پیش کرے اور اپنی ساری خوشیاں اور خواہشیں بھول جائے۔

ہم نے مغربی تہذیب کو بدنام اور اپنے بوسیدہ خاندانی نظام کی پردہ پوشی کے لئے مغرب کے بارے میں افسانے مشہور کر رکھے ہیں۔ وہاں ہر فرد قابل عزت اور خود مختیار ہے۔ ہمارے معاشرے کی طرح کوئی رشتے دار دوسرے رشتے دار کو جذباتی بلیک میل نہیں کرتا۔ یورپ کے ماں باپ اولاد کی خوشی کو اپنی خوشی پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں۔ کوئی کسی پر بوجھ نہیں۔ ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ والدین اگر متمول ہیں تو ان کی خدمت کا بھرم رکھا جاتا ہے۔

مفاد کی خاطر ان کی ہر جائز اور ناجائز بات مانی جاتی ہے۔ اپنے مفاد کی خاطر نچلے درمیانہ طبقے کے والدین جو ان اولاد پر اپنے فیصلے زبردستی ٹھونس کو ان کی خوشی اور ترقی کے راستوں کو پامال کر دیتے ہیں۔ حقیقی باہمی محبت اور احترام کا پتا ایک ایسے نظام میں ہی چل سکتا ہے جہاں ماں باپ اور اولاد دونوں آزاد ہوں۔ ہمارے ہاں سب زبردستی کے رشتے ہیں، جن کی اصل روح کھوکھلی ہے۔ مغرب میں ہر انسان، اپنی عمر کے ہر حصے تک ممکنہ حد تک اپنی صلاحیتیوں کے مطابق خود کو معاشی لحاظ سے مفید اور خود کفیل بنائے رکھتے ہیں۔

وہ اپنی تفریحی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے۔ انھوں نے بڑھاپے کے لئے بھی مصروفیت کا ایک شیڈول طے کر رکھا ہوتا ہے۔ اس لئے انھیں تنہائی کا احساس نہیں ہوتا۔ ہمارے بوڑھے عضو معطل بن کر محتاجی کی زندگی گزارتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے عزیزوں کے سہارے اور قربت کے خواہاں رہتے ہیں۔ اور جب ان کی اولاد اپنے حالات زندگی کی وجہ سے ان کے پاس رہنے سے قاصر ہوتی ہیں تو وہ ان کے محبت اور خلوص کے شاکی ہو جاتے ہیں یا اولاد کے پاؤں کی زنجیر بنے رہتے ہیں، جب تک زندگی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

معروضات بالا سے میں اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مشرق اور مغرب میں فرق صرف پسماندگی اور ترقی کا ہے۔ انھیں دو متضاد نظاموں کے طور پر ہمیں نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظام نہیں ہیں، بلکہ ایک ارتقا میں پیچھے ہے اور ایک آگے ہے۔ تاریخ ہمیشہ آگے سفر کرتی ہے۔ ہمیں مٹ جانا ہو گا یا پھر آگے کو جانا ہو گا۔ ہم جہاں کھڑے رہنا چاہتے ہیں مگر یہ ممکن نہ ہو گا۔

Facebook Comments HS