برانڈ نیو انقلاب
ملک پچھلے چھہتر برس سے اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ باقی ہر قسم کی غیر یقینی ایک طرف، لیکن یہاں وطن عزیز کی ثابت قدمی کو داد دینی ہو گی کہ نازک ترین موڑ سے ہلنے کی گستاخی کا مرتکب نہیں ٹھہرا۔ کہ وفا اور ثابت قدمی اس کا ذائقہ شعار ہے۔ سینتیس برس تو ہمیں اس دھرتی پر ہونے کو آئے۔ وہ جو ہم سے پہلے کی کئی بہاریں دیکھ چکے ہیں وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ نازک ترین موڑ سرکنے کا نام نہیں لیتا۔
لیکن میرے عزیز ہم وطنو، اب کی بار حالات پہلے سے کہیں سنگین ہیں ( روز اول کی طرح) ۔ اس وقت بات صرف ہماری نہیں بلکہ امت مسلمہ کی ہے جس کا ہر بھار ہمارے ہی ناتواں کندھوں پر ہے۔ بھلے ہمارے گھر میں آگ لگی ہو لیکن امہ کا چراغ نہیں بجھنا چاہیے۔ اسی لیے یہ کالم ایک اہم ملکی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی بحران کی جانب آپ کی قیمتی توجہ مبذول کرانے کا خواہاں ہے۔
امت مسلمہ کے سب سے اہم لیڈر جناب عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جن دوستوں کو لگا کہ ہمارا اشارہ سپہ سالار اول عثمان بزدار صاحب کی طرف ہے، ان سے گزارش ہے کہ ہاتھ نیچے کر لیں۔ خان صاحب کی گرفتاری کی افواہیں یوں تو دھوئیں کی طرح کافی عرصے سے اٹھ رہی تھیں لیکن کسی کو یقین نہ تھا کہ تاریخ کا یہ تاریک باب ہم اپنی زندگی میں دیکھیں گے۔ ہونی کو کون ٹال پایا ہے۔ جو ہونا تھا ہو کر رہا۔
خان صاحب گرفتار ہوئے اور ان کے عاشقان نے پورے ملک نے تمام فسادات کو مات دے دی۔ نہ صرف پاکستان بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری املاک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی بلکہ لندن میں بھی بھرپور مظاہرے کیے۔ ہمیں بھی جیسے ہی پتہ چلا کہ پاکستان میں یہ قہر ٹوٹ پڑا ہے فوراً وہاں رہنے والے دوستوں اور بہن کو کہا کہ فوراً دفتر سے گھر جائیں۔ عاشقان سے کچھ بعید نہیں۔
یہی نہیں ان فدائیوں نے سوشل میڈیا پر بھی گالم گلوچ سے بھرپور ویڈیوز بنائیں۔ خان صاحب کو اس دور کا ولی کہا گیا۔ ان کے مخالفین کو وہ گالیاں دی گئیں جو یہاں لکھنا مشکل ہے ورنہ ہمارے والدین عاق نامہ بھیج دیں گے۔
مزیدار بات یہ ہے کہ یہ جانثار اس وقت فوج سے مکمل باغی ہیں۔ کور کمانڈر لاہور کے گھر سے قورمے کا ڈونگا اور اسٹرابیری تک نکال لائے۔ سابق چیف آف آرمی اسٹاف کی نواسی خدیجہ شاہ کو بھی فوج سے شدید گلہ ہے۔ بس جی وقت وقت کی بات ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اب سے کچھ برس پہلے ہی ہر مخالف پر غداری کے مقدمات دائر کرنے کے درپے تھے۔ فوج کے جرنیلوں کو ’کاش آپ میرے ابو ہوتے‘ جیسی پر محبت ٹویٹس کرتے تھے۔ آئے دن نامعلوم افراد کے ہاتھوں غائب کر دیے جانے والے صحافیوں کو ملک دشمن کہتے تھے۔ ہر سیاسی مخالف کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے تھے۔ جو شخص ان سے یا فوج کے غیر آئینی کردار سے فکری اختلاف کی جسارت بھی کرتا اس کا وہ حشر کرتے تھے کہ خدا کی پناہ۔
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
ویسے تو ہماری اتنی مجال کہاں کہ اس صورتحال پر کسی بھی قسم کا سیاسی تبصرہ کر پائیں۔ ایک جمہوری ملک میں ہر سیاسی جماعت کو سیاست کا حق ہونا چاہیے۔ کسی کے شہری حقوق کو برخاست کر کے اس ملک میں سیاسی سرگرمی کو فوج تک محدود کر دینا آئین پاکستان کے منافی ہے۔ اور بھلے آپ اس آئین کو محض کاغذ کا ٹکڑا مانیں یہ اس مملکت کی سب سے اہم دستاویز ہے۔ پاکستان تحریک انصاف سے لاکھ اختلاف کے باوجود ہم ان کے آئینی حقوق کا دفاع کریں گے۔
لیکن بصد احترام گزارش ہے کہ یہ پارٹی جس کی بنیاد ہی ’تعلیم یافتہ‘ لوگوں پر ہے، جو ملک کو ’جاہل‘ سیاستدانوں سے نجات دلانا چاہتے ہیں انہیں بھی کچھ ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔ یہ جاننا ہو گا کہ تاریخ کا حافظہ ان جتنا کمزور نہیں۔ جن لیڈران کی خاطر یہ ملک میں ہر قسم کا فساد برپا کرنے پر تلے ہوئے ہیں وہ وقت آنے پر ان ہی سے اعلان لاتعلقی کریں گے۔ اور اگر یہ ایک جمہوری انقلاب لانے کے متمنی ہیں تو انہیں ماضی میں بھی جھانکنا ہو گا۔ اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔
ایک سابقہ جرنیل کی نواسی جو شاید اب بھی اپنے نانا جان کی طرف سے ملے فوجی پلاٹوں کی مالک ہیں اور پاکستان کی مہنگی ترین ڈیزائنر ہیں جب فوج کے خلاف نعرے لگائیں گی تو ہم کم فہموں کو ہنسی تو آئے گی۔ خدیجہ شاہ صاحبہ سے التماس ہے کہ سب پلاٹ فوج کے منہ پر واپس ماریں۔ لندن میں مارے غم و غصے کے لوٹ پوٹ ہوتے صاحبان سے بھی درخواست ہے کہ فوراً لاہور کا ٹکٹ کٹائیں۔ ملک کو آپ کی ضرورت ہے۔
آپ لوگ انقلاب لائیں۔ ہم بھی آتے ہی ہیں۔ بس ذرا پاپ کارن لے لیں۔


