عمران اور ڈرٹی ہیری

ہالی وڈ فلمیں دیکھنے والے واقف ہیں کہ ”ڈرٹی ہیری“ کون تھا؟ البتہ فلموں سے شغف نہ رکھنے والے اس کردار سے ناآشنا ہیں۔ عمران خان مختلف تقاریر میں بار بار ’ڈرٹی ہیری‘ مسٹر ”X“ اور ”Y“ کا نام بھی لیتے رہے اور پھر ڈرٹی ہیری پر پوری توجہ مرکوز کردی۔
ڈرٹی ہیری کا نام 1970 کی دہائی میں مقبول ہوا۔ یہ ہالی وڈ کی ایک مشہور فلم کا نام ہے جو 1971 میں ریلیز ہوئی اور اس میں کلنٹ ایسٹ وڈ نے ڈرٹی ہیری کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس کردار کا اصل نام ہیری کیلاہین تھا لیکن اس نے ’ڈرٹی ہیری‘ کے نام سے امریکہ میں مقبولیت حاصل کی۔
ہیری ایک سخت گیر پولیس اہلکار تھا جو مجرموں کو قرار واقعی سزا دینا پسند کرتا اور اس مقصد کے لیے قانون شکنی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ اس فلم میں ایسٹ وڈ ایک ایسے پولیس والے کے روپ میں نظر آئے جو خطرناک مجرموں کو جیل لے جانے کے بجائے انہیں سڑک پر گولی مار کر انصاف کرنے کا قائل تھا۔ فلم میں اسے ایک سیریل کلر کو پکڑنے کا کام دیا گیا، اس نے مجرم کو قوانین کی پرواہ کیے بغیر کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس کے ساتھی پولیس اہلکار اس کی عرفیت کی وجہ یہ بتاتے تھے کہ ہیری کسی کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ سب سے نفرت کرتا ہے۔ یہی سوال ہیری سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ’مجھے ڈرٹی ہیری اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ہر وہ کام جو دوسرا کوئی پولیس والا نہیں کرتا وہ میرے ذمے لگایا جاتا ہے۔
کلنٹ ایسٹ وڈ کا ’ڈرٹی ہیری‘ کردار اتنا مشہور ہوا کہ اس کے بعد فلم کے مزید 4 حصے ریلیز ہوئے۔ ان میں ستر کی دہائی میں فلم ’میگنم فورس‘ ’دی اینفورسر‘ اور اسی کی دہائی میں ریلیز ہونے والے ’سڈن امپیکٹ‘ اور ’دی ڈیڈ پول‘ شامل ہیں۔ امریکی مصنفین ہیری جولین فنک اور ان کی اہلیہ ریٹا فنک نے ڈرٹی ہیری کا کردار ساٹھ کی دہائی میں لکھا تھا۔
گویا ڈرٹی ہیری سے مراد ایسا قانون نافذ کرنے والا اہلکار ہوتا ہے جسے پالیسیوں کی پروا نہیں ہوتی بلکہ وہ طاقت کے استعمال سے مجرموں کو سزا دینے کو ترجیح دیتا اور ہر طرح کے کام کے لیے تیار رہتا ہے۔
ڈرٹی ہیری کا کردار بنیادی طور پر ایک اینٹی ہیرو پولیس والے کا تھا جو فلم کے ایک سین میں شہر کے میئر سے کہتا ہے کہ اگر وہ کہیں جرم ہوتا دیکھے گا تو اس کو روکنے کی کوشش کرے گا، نہ کہ قانون کا انتظار کرے گا۔
ڈرٹی ہیری کے کردار کو بعض ڈائیلاگز کی وجہ سے بہت مقبولیت ملی۔ پہلی فلم کا ڈائیلاگ ’ڈو آئی فیل لکی؟‘ اور تیسری فلم میں ’گو اہیڈ، میک مائی ڈے‘ پر بہترین ڈائیلاگ کی فہرست میں ٹاپ ففٹی میں شامل ہوتا رہا۔ 1985 میں بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر رونلڈ ریگن نے بھی ڈرٹی ہیری کے مشہور ڈائیلاگ ’گو اہیڈ، میک مائی ڈے‘ کو اپنی تقریر میں استعمال کیا، جس سے اس ڈائیلاگ کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ڈرٹی ہیری ایک اغوا شدہ لڑکی کے مرنے سے پہلے ایک نفسیاتی قاتل کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا ہے، وہ پکڑا جاتا ہے لیکن اسے جیل سے ریلیز کر دیا جاتا ہے تو وہ ایک سکول بس کو ہائی جیک کر لیتا ہے جسے پکڑنے کے لئے ڈرٹی ہیری کو اس نفسیاتی قاتل کے پیچھے جانا پڑتا ہے، ہیری نفسیاتی قاتل کو پکڑتا ہے تو اس کے شہری حقوق سلب کرتے ہوئے اسے مار دیتا ہے!
عمران خان کے ڈرٹی ہیری میجر جنرل فیصل نصیر ہیں، جن کا تعلق آئی ایس آئی سے ہے ڈرٹی ہیری کی مماثلت سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ طاقت کے ذریعے مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔ بارعب آواز اور بھاری بھر کم شخصیت کے حامل فیصل نصیر کو سخت گیر شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں انسداد دہشت گردی کے لیے خدمات پر اس سال ہلال شجاعت، پہلے دو مرتبہ تمغہ بسالت اور ایک مرتبہ امتیازی سند بھی مل چکی ہے۔
عمران خان کی جانب سے ان پر تنقید کوئی نئی بات نہیں کیونکہ اس عہدے پر فائز رہنے والا ہر افسر اپنے فرائض کی نوعیت کے باعث متنازع ہی رہا۔ ماضی میں بھی ڈی جی سی آفیسرز سیاسی حلقوں کی طرف سے الزامات کا سامنا کرتے رہے۔ جنرل فیض حمید اور عرفان ملک بھی سیاسی انجینئیرنگ کے باعث متنازع رہے۔ ڈی جی سی سیاسی جماعتوں اور سیاسی امور کو دیکھتے ہیں اس لئے وہ ڈی جی آئی ایس آئی سے زیادہ آرمی چیف کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔
موجودہ ڈی جی سی میجر جنرل فیصل آرمی حلقوں میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں موثر کردار ادا کرنے پر ”سپر سپائی“ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے فوج کو دوبارہ سیاست میں گھسیٹنے کی کوششیں ناکام بنانے والے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی طرح میجر جنرل فیصل نصیر بھی اپنے ادارے کو غیر سیاسی رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی لیے خان جی انہیں ڈرٹی ہیری کہتے ہیں۔
خان جی کے بقول ان کا مشغلہ لوگوں کو گھروں سے اٹھانا اور ان پر تشدد کرنا ہے۔ شہباز گل اور اعظم سواتی کی گرفتاری اور انہیں مبینہ طور پر برہنہ کر کے تشدد کرنے کی بات کی گئی لیکن ان الزامات کی تصدیق کسی میڈیکل رپورٹ میں نہ ہو پائی۔
عمران خان نے گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ عزت ہر شہری کی ہونی چاہیے، میں قوم کی سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ملک کا سابق وزیراعظم پنجاب میں اپنی حکومت ہوتے ہوئے ایف آئی آر نہیں کٹوا سکا، پتہ تو تب چلتا جب تحقیقات ہوتیں، وہ بے قصور ہوتا تو سامنے آ جاتا۔ کبھی تحقیقات نہیں ہوئیں کیونکہ یہ مقدس گائے ہیں، آئی ایس پی آر کے بیان پر عمران خان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ جب تحقیقات ہوں گی تو ثابت کروں گا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں بھی آئی ایس آئی کے لوگ موجود تھے حالانکہ وہاں ان کا کوئی کام ہی نہیں تھا۔
اس آدمی نے 2 مرتبہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کی اور جب بھی تحقیقات ہوں گی میں یہ ثابت کروں گا۔ اس کے ساتھ پورا ٹولہ ہے۔ سوال یہ ہے، جب خان جی مانتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اپنے وزرائے اعلی موجود ہوتے ہوئے ایف آئی آر نہ کٹوا سکے تو معمولی بات پر عدالتوں میں جانے والے عمران خان اپنے پسندیدہ ججز کے پاس ثبوت لے کر کیوں نہ گئے۔
جب ہر شہری کو قانونی تحفظ حاصل ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ وہ تھانے اور عدالت میں ثبوت فراہم کرے۔ جھوٹے الزامات لگانا، بہتان طرازی کرنا کسی کا قانونی حق ہے نہ آئینی۔ ماضی میں عمران خان نے 35 پنکچر، 10 ارب، سائفر، امریکی سازش اور اس جیسے الزامات مخالفین اور اداروں پر لگائے مگر ثبوت فراہم نہیں کیے ۔ موجودہ حالات میں معاملات سلجھانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ عمران خان الزامات کے شواہد عدالت میں پیش کریں۔ ضروری ہو تو ’ان کیمرہ ”پیش کر دیں۔
موجودہ چیف جسٹس صاحب پر تو خان جی کو مکمل اعتماد ہے۔ ان کی حمایت میں ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ یہ چیف جسٹس ہی اگر عمران خان کے فراہم کردہ ثبوتوں سے مطمئن ہو جائیں تو ازخود نوٹس لے کر وہ انصاف کی کوئی راہ نکال سکتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کی حمایت کرتا ہوں۔ انہیں جھوٹے الزامات کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جبکہ فواد چودھری نے کہا ہے کہ ثبوت دینا عمران خان کا کام نہیں، الزام لگانے والے ثابت کریں کہ وہ بے گناہ ہیں۔
اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان پر قاتلانہ حملہ میں کوئی افسر ملوث ہیں تو آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے ان کو مطمئن کیا جانا چاہیے کہ ایسا نہیں ہے۔ کیا آپ قانون سے بالاتر ہیں ایسے رویے قوموں کے لئے تباہ کن ہیں۔ کل تک خان جی اسٹیبلشمنٹ، آئی ایس آئی اور آرمی چیف کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور آج دشمنی میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ وہ ایسے الزامات لگا رہے ہیں جو دشمنوں کو ان اداروں کے زہر افشانی کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

