سائنسی سوچ کہاں سے آئے گی؟
کراچی کے سائنس میوزیم کا ذکر ایک عرصہ سے سن رہی تھی اور سوچتی تھی کہ کبھی جا کر دیکھوں گی، جب ضرار کھوڑو نے ایک نجی چینل کے شو ”ذرا ہٹ کے“ میں اس میوزیم کے بارے میں پروگرامز کیے تو میرا ارادہ اور پختہ ہو گیا لیکن زندگی کی بھاگ دوڑ سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی مگر عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہمارے بیٹے صاحب نے ہماری پوتی کو سائنس میوزیم دکھانے کا پروگرام بنایا ہوا تھا۔ جب دس مئی والا کیمبرج کا امتحان ملتوی ہو گیا تو، ڈر بھی لگ رہا تھا کہ معلوم نہیں، حالات کیا رخ اختیار کریں۔ میوزیم کے جرمن انچارج کرسٹوفر سپنج ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں، ان کی بیگم عائشہ جو یوگا کے حوالے سے جانی جاتی ہیں، ان کو فون کر کے تصدیق کی کہ میوزیم کھلا ہوا ہے۔ اور یوں بیٹے اور پوتی کے پیچھے پیچھے ہم بھی میوزیم جا پہنچے۔
لیکن ٹھہرئیے، پہلے میوزیم قائم کرنے والی داؤد فاؤنڈیشن کے بارے میں کچھ بتاتے چلیں۔ یہ فاؤنڈیشن مشہور صنعت کار داؤد خاندان نے ایوب خان کے دور میں رفاہی اور تعلیمی مقاصد کے لئے بنائی تھی۔ احمد خان نے اس کے افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ فاؤنڈیشن کا مقصد تعلیم کے میدان میں حکومت کی ذمہ داریوں میں رضاکارانہ طور پر ہاتھ بٹانا ہے، اس کا مقصد تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ انجینئرز اور ٹیکنیکل ماہرین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے فاؤنڈیشن نے 1962 میں داؤد انجینئرنگ کالج کا سنگ بنیاد رکھا جو دو سال میں مکمل ہوا۔ 1971 میں اسے قومیا لیا گیا۔
1979 میں داؤد پبلک اسکول کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بعد اور بھی تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ سیٹھ احمد داؤد خود صرف پانچ جماعتیں پاس تھے لیکن تعلیم کی اہمیت سے آگاہ تھے۔ ادیبوں اور شاعروں کے لئے داؤد ادبی ایوارڈ جاری کیا۔ داؤد فاؤنڈیشن کے سائنس میوزیم کا مقصد نوجوانوں میں سائنسی خواندگی اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا، دس مئی کو حالات غیر یقینی تھے لیکن محنت کش گھرانوں کے بچوں کا ایک گروپ بھی میوزیم دیکھنے آیا ہوا تھا۔ ان سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔
میوزیم کے تحت سائنسی نمائشیں بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ سائنس کا مقصد ہر طالبعلم کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانا نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں تجسس اور تنقیدی سوچ پیدا کرنا ہے۔ اس دور میں سائنسی خواندگی ایک ضرورت بن چکی ہے۔ اس میوزیم میں آنے والے خواہ بچے ہوں یا بوڑھے سب کو دلچسپ انداز میں اور کھیل کھیل میں سائنسی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
’ہمارے اندر کی دنیا‘ نامی گوشے میں دل اور شریانوں کا بڑا سا ماڈل بنا ہوا ہے۔ یہاں آپ کو اپنے اندر کے احساسات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ طبعیاتی دنیا نامی حصے میں آپ کو فزکس، ریاضی اور توانائی کی سائنسز کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ میوزیم کی دوسری منزل جدید ذرائع ابلاغ کے لئے وقف ہے۔ پاکستان کے اس پہلے انٹر ایکٹیو سائنس سنٹر کے جرمن ڈائرکٹر کرسٹوفر کو نجی اور ناٹ فار پرافٹ شعبے کے لئے کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ سائنس اور غیر رسمی تعلیم کو فروغ دینے والے اس رفاہی ادارے کی نائب چیئر پرسن سبرینا داؤد ہیں۔ وہ اور کرسٹوفر اس سائنسی مرکز کو کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ جب بھی آپ کراچی آئیں، یہ سائنسی مرکز خود بھی دیکھیں اور بچوں کو بھی دکھائیں۔




