اپنے پاگل ہونے کا اعتراف
میرے ہوش و حواس بالکل قائم نہیں ہیں اور میں پوری بے ایمانی سے اقرار کرتا ہوں کہ پاگل ہوں۔ مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ 9 مئی کا دن یوم سیاہ ہے کہ اسی دن پچھلے 75 سال میں ہمارا دشمن جو نہیں کر سکا تھا وہ ممکن ہو گیا ہے۔ کیسے کہ عمران خان نیازی (جسے بار بار نیازی کہہ کر پکارا جاتا ہے کہ وہ امیر عبداللہ خان نیازی کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ) جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جج کی عدالت میں اپنی ضمانت کے سلسلے میں پیش تھا اسے وہ شرپسند جو اس کی ضمانت کے لئے ساتھ موجود تھے، بتاتے ہیں کہ وہ عمران خان کو بائیو میٹرک کروانے کے لئے ساتھ والے کمرے میں لے جاتے ہیں اور کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیتے ہیں کہ کوئی اور شریر اندر نہ آ جائے کہ اتنے میں مسلح اور مہذب رینجرز کی ٹیم دروازہ اور شیشے بڑے اہتمام سے توڑتے ہوئے اندر داخل ہوتے ہیں۔ ان کو پیار محبت سے بوسے دیتے ہیں اور عمران خان کو گود میں اٹھا کر باہر لے جاتے ہیں کہ اس کی ٹانگ میں درد ہے جس کی وجہ سے اسے چلنے میں مشکل پیش آتی ہے اس کی وہیل چیئر پر خود بیٹھتے ہیں اور اسے گود میں اٹھا کر باہر لے جاتے ہیں۔ اس کے شرپسند ساتھی چیف جج کو سارا معاملہ بیان کرتے ہیں۔ جو پہلے تو ذرا برہم ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔ کہ عدالت سے کسی شخص کو یوں لے جایا جائے۔ اور ( شاید یہ بھی 75 سال میں پہلا واقعہ ہو) جج صاحب غصہ ہوئے ہیں کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی اسلام آباد کو پیش کیا جائے۔ نیب کے وکیل اور عمران خان کے وکیل دلائل دیتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ انوکھا واقعہ ہے کہ کسی ملزم کو یوں گرفتار کیا جائے جج صاحب اس۔ کے متعلق قانونی دفعات اور نظیروں کی بابت پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ اور خاصے ناراض لگتے ہیں پھر فیصلہ محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جس کا اعلان 9 بجے کرتے ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری بالکل جائز طریقہ سے ہوئی البتہ چیف سیکرٹری اور آئی جی اسلام آباد پولیس پر توہین عدالت کی فرد لاگو کرتے ہیں۔ میرے حواس اسی بات کو ہضم نہیں کرتے مگر کیا کیا جائے ہمیں اسی ملک میں رہنا ہے کہ باہر ہماری نہ کوئی پھوپھی رہتی اور نہ ہی ہماری کوئی جائیداد ہے یہ تو ان لوگوں کا ظرف ہے جن کے حوصلے ہیں زیادہ۔
ابھی میرے ہوش بحال نہیں ہوئے کہ مجھے کسی دانشور کا بیان سنایا جاتا ہے کہ پچھلے 75 سال میں ایسا ہمارا دشمن بھی نہیں کر سکا جسے کچھ پرامن اشخاص نے کر دکھایا۔ یعنی لاہور کے کور کمانڈر کے گھر پر ایک دعوت عام ہے۔ جس میں آتش بازی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ایک وڈیو دکھائی جاتی ہے جس میں گلو بٹ کی طرز کے آدمی گھر کے اندر بینڈ بجاتے دکھائی دیتے ہیں۔ گھر پر نہ کوئی گھر کا فرد نظر آتا ہے نہ کوئی ملازم۔ تو پھر گلو بٹ ہی خود سب کچھ کرتے دکھائی دیا ہے
ذرا ٹھہرئیے ایک دو آڈیو بھی سنائے جاتے ہیں کہ کسی طرح اس پرامن ہجوم میں یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید شامل ہونے والے ہیں۔ ہم نے ان حضرت اور محترمہ کو اس ہجوم میں تو نہیں دیکھا کہ ہمارے حواس بحال نہیں تھے۔ وہ دانشور اپنے بیان میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی تدبر کے بارے ہمارے قابل احترام اعتزاز احسن کسی ٹی وی پروگرام میں فرماتے ہیں کہ یہ تدبر بھی خوب ہے کہیں یہ تدبیر تو نہیں ”خاکم بدہن“ کہ تدبر اور تدبیر ملتے جلتے ہیں۔ صرف یا کا فرق ہے پتہ نہیں ”ی“ ہے کہ ”ے“ جسے ہم عرف عام میں چھوٹی بڑی ”یا“ کہتے ہیں۔ ہمارے لئے تو بڑی ہے کیونکہ بڑا آدمی کہہ رہا ہے۔
ویسے اسے دوسرے بڑے آدمی یعنی وزیر اعظم نے رات کی تقریر میں دہرایا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ کہتے رہے کہ نیب کے قوانین میں ترامیم کی جائیں۔ ہم نے ایک ترمیم کی ہے کہ کیس کی تفتیش کے دوران ریمانڈ کی مدت 90 روز سے کم کر کے 15 دن ہو۔ اور اس کے پہلے بینیفشری عمران احمد نیازی ہیں۔ جن کے لئے آج نیب نے 15 دن کا ریمانڈ مانگا ہے۔ کہتے ہیں ہمارا کیا ہم تو دھکے کھاتے رہے ہیں۔ اور آج ہی نیب نے ہمیں منی لانڈرنگ کیس میں بیٹے سمیت بری کیا ہے۔ ایسے ہی عمران نیازی ہمارے پیچھے پڑا تھا۔ دیکھا اسے کے پرے ہٹتے ہی ہم بری ہو گئے۔ خس کم جہاں پاک۔
کیا اتنا کچھ پاگل کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ نہیں تو سنیں کہ آج ہی کے دن عمران خان کے خلاف ایک کیس (تھوڑے سے تو ہیں کوئی ڈیڑھ سو، ایسے ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے) میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک بینچ کا فیصلہ ہے۔ بینچ کے تین اصحاب تھے ایک وہی مذکورہ چیف جج جنہوں نے تاریخی فیصلہ سنایا۔ دو جج صاحبان نے ان چیف صاحب کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے فیصلہ تحریر کیا۔ اسے چیف صاحب نہیں مانتے اور ایک نیا بینچ بنانا چاہتے ہیں کہ فیصلہ عمران خان کے حق میں تھا۔ ہور چوپو۔ اب بھی آپ میرے ساتھ پاگل نہیں ہوتے تو ”کڈھاں ابا جی نوں“ اس کا ذکر پھر کبھی سہی جو میرے ہم عمر ہیں وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ کس فلم کا سین ہے۔


