پیریڈولیا کیا ہے؟
کسی عام یا اہم تصویر یا چیز میں کوئی خاص یا جانا پہچانا چہرہ یا شکل نظر آنا پیریڈولیا کہلاتا ہے۔ یہ دراصل بے ترتیب شکلوں میں سے بالترتیب شکل بنا لینا ہے۔ ہمیں بالٹی، نلکے، وائپر، درخت، دیوار، پہاڑ، چٹان، فرنیچر اور بے شمار چیزوں میں سے چہرے یا شکلیں نظر آنے لگتے ہیں۔ روٹی یا ڈبل روٹی کے سلائیس میں کوئی شکل بنی ہوئی نظر آنا بھی عام ہے۔ خلا سے آنے والی تصویروں میں چہرے نظر آنا حیران کن بات نہیں، مختلف ادوار میں اس پر تبصرے اور بحث کے ساتھ ساتھ تحقیقات بھی ہوتی رہی ہیں۔
کبھی بادلوں میں ہم اپنے کسی قریبی رشتے دار یا جاننے والے کا چہرہ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو کبھی کسی فرش یا ماربل پر کوئی کھویا ہوا رشتہ نظر آنے لگ جاتا ہے۔ دروازے کے ہینڈل میں مسکراتا چہرہ یا چاند کو دیکھنے پر کسی کی شکل نظر آجانا یہ سب پیریڈولیا ہے۔ پیریڈولیا دراصل ایپوفینیا کی ایک قسم ہے جس کا تعلق بصارت کے ساتھ ہے۔ ایپوفینیا کی تمام اقسام پر انشاء اللہ آئندہ مضمون لکھوں گا، آج پیریڈولیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اچھے موسم کو انجوائے کر رہے ہوتے ہیں، آسمان کی گہرائیوں میں کھوئے ہوتے ہیں اور اچانک آسمان پر بادلوں میں کسی انسان یا جانور کی شکل نظر آنے لگ جاتی ہے۔ ہمارے دماغ کی یہ صلاحیت کسی بہترین اور جدید کمپیوٹر سے کم نہیں کہ چند لمحات میں دماغ غیر ضروری عناصر کو چھانٹی کرتے ہوئے مطلوبہ شکل یا چہرہ بنا کر ہمارے سامنے کر دیتا ہے۔ ہم کچھ بھی دیکھیں، دماغ کا پروسیسر تیزی کے ساتھ کام مکمل کرتا ہے۔ یہ قدرت کا بنایا ہوا وہ نظام ہے جس کو انسان کے بنائے ہوئے کمپیوٹرز کبھی مات نہیں دے سکتے۔
پچھلے سال کی بات ہے، سعودی عرب کے ایک اخبار کے مطابق شہر ریاض میں آسمان ایک عجیب و غریب منظر پیش کر رہا تھا جب بادلوں نے پرندے پر سوار ایک بچے کی شکل اختیار کر لی تھی۔ عبدالکریم المجید نامی ایک فوٹوگرافر نے غروب آفتاب کے وقت بادل میں یہ منظر دیکھ کر کیمرے میں محفوظ کر لیا جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ وہ اس تصویر کو یادداشت کے طور پر رکھنا چاہتا تھا لیکن کچھ دوستوں نے منظر کی خوبصورتی کی وجہ سے شائع کرنے کا مشورہ دیا اور تصویر سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہوئی۔ یہ پیریڈولیا کو سمجھنے کے لئے بہترین مثال ہے۔
میں نے پی۔ این۔ اے۔ ایس یعنی پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ویب سائٹ پر ایک دلچسپ تحقیقی مضمون پڑھا جس کا خلاصہ آپ سب کی معلومات کے لیے پیش کر رہا ہوں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ امریکہ کے کچھ ماہرین نفسیات نے 3815 لوگوں پر تجربات کیے جسے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نے شائع کیا۔ تحقیق میں رضاکاروں کو بے جان چیزوں کی تصویریں دکھا کر انسانی چہرے نظر آنے کے متعلق پوچھا گیا۔ بے جان چیزوں کی تصویروں میں انسانی چہرے دیکھنے والی اکثریت کا کہنا تھا کہ انہیں مرد جیسی شکل نظر آئی۔ بہت کم افراد نے کسی عورت کی شکل نظر آنے کا بتایا۔ نتیجے کے مطابق انسانی دماغ میں قدرتی طور پر یہ رجحان ہے کہ مبہم تصویر زیادہ تر مردانہ چہرہ دکھائے گی جس کا مطلب ہوا کہ دماغ کے لئے عورت کا چہرہ بنانا یا پہچاننا نسبتاً مشکل کام ہے کیونکہ اس کے لئے انسانی دماغ کو زیادہ تفصیلات کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایان سپروٹ نامی ایک فوٹوگرافر نے سمندری لہروں کے لائٹ ہاؤس سے ٹکرانے کے منظر کو کیمرے میں محفوظ کیا اور بے پناہ خوش ہوا۔ نارتھ ٹائنسائیڈ سے تعلق رکھنے والے ایان سپروٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سمندر کی لہروں کے اندر انسانی چہرہ دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ ایان سپروٹ نے سنڈرلینڈ کے روکر پیئر میں 12 گھنٹے طویل شوٹ کے دوران تقریباً چار ہزار تصاویر لیں۔ ایان نے دو سال پہلے فوٹو گرافی شروع کی تھی تاکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ذہن کو سکون میں رکھ سکے۔ ایان کے مطابق اس کا شوق سمندر کی لہروں میں بننے والی شکلوں کو محفوظ کرنا تھا اور جب اسے اپنی تصاویر میں چہرہ نظر آیا تو آنکھوں پر یقین نہ آیا اور اس نے اپنے انسٹاگرام پر بھی شیئر کیا۔
ڈاکٹر کولن پامر کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی چیزوں میں چہرے دیکھنا بہت عام ہے۔
یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کی ایک تحقیق کے مطابق پیریڈولیا میں بھی دماغ کے کام کرنے کا طریقہ کار وہی ہوتا ہے جو حقیقت میں کسی انسان یا چیز کی پہچان اور شناخت کے لئے ہوتا ہے۔ اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں، یہ نارمل ہے جو بچوں اور بڑوں سب کے ساتھ ہوتا ہے، اس لئے آپ اکیلے نہیں ہیں۔


