جلیل عالی ایک کثیر الجہت شخصیت


محترم جلیل عالی کا شمار پاکستان کے معروف شعراء اور ادباء میں ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہاں جہاں اردو بولی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں وہاں ان کی شہرت و مقبولیت کی خوشبو پہنچ چکی ہے۔ وہ محض جدید لہجے کے شاعر نہیں، ان کا اپنا ایک شعری انداز اور طرز احساس ہے۔ یہ انداز بیاں ان کی پہچان بنا ہوا ہے۔ آپ انہیں پورے اعتماد کے ساتھ کثیر الجہت ادبی شخصیت قرار دے سکتے ہیں۔ ادیب، دانشور، نقاد اور اردو ادبیات کے استاد کی حیثیت سے انہوں نے اپنے رنگ دکھائے بھی ہیں اور خوب جمائے بھی ہیں۔ وہ یہ ضرور کہتے اور سمجھتے ہیں کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ وہ علم کے موتی لٹاتا رہتا ہے اور اس کی گواہی آپ کو ان کا ادبی سفر بھی دیتا دکھائی دے گا جو زور شور سے جاری ہے۔

جلیل عالی جی سے میری پہلی ملاقات راولپنڈی آرٹس کونسل میں 1981 میں ہوئی تھی، جہاں میرے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر تھے۔ جلیل عالی صاحب بھی ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ اور ان کی ادبی تنظیم کی محفلیں بھی بسا اوقات راولپنڈی آرٹس کونسل ہی میں سجا کرتی تھیں۔ وہ میرے والد بزرگوار کے قدردان تھے اور میرے والد ان کے ساتھ ساتھ ادب دوستوں کا کھلی بانہوں سے استقبال کرتے تھے۔ پھر راولپنڈی سے تبادلہ ہونے کے بعد ہماری فیملی ملتان آ بسی اور اس کے دو سال بعد جلیل عالی صاحب نے اپنا اولین شعری مجموعہ خواب دریچہ میرے والد کو بھیجا۔

اس کتاب نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچائے رکھا۔ جلیل عالی صاحب جادۂ ادب پر اپنے گہرے نقوش ثبت کرتے رہے۔ داد و تحسین سمیٹتے رہے۔ پھر محترم خاور اعجاز صاحب ان کا شعری انتخاب لفظ مختصر سے مرے کے زیر عنوان کتابی شکل میں سامنے لائے۔ جلیل عالی عرض ہنر سے آگے بھی دیکھتے نظر آئے۔ ان کا یہ شعری مجموعہ بھی ادبی حلقوں میں بڑا مقبول ہوا۔ میں نے ان کا نور نہایا رستہ بھی دیکھا ہے۔ ادبی جرائد میں ان کی شعری تخلیقات چھپتی رہتی ہیں اور ادب دوست گھر بیٹھے ان کے کلام اور کام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ عصر حاضر کے بڑے بڑے نقاد ان کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔

جلیل عالی جی کا کیسا رہا سفر؟ اسی پر ڈالنے کے لئے ایک نظر، میں نے کچھ جھلکیاں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ کسی شخصیت کو جانے اور سمجھے بغیر اس کے ادبی زاویوں، تخلیقی جہتوں اور فکری وسعتوں کی معنوی تفہیم ممکن نہیں۔ اسی لئے میں نے ان کے سوانحی خاکے کے خدو خال اجاگر کرنے کے لئے چند سطریں سپرد قرطاس و قلم کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کے فنی اور تخلیقی سفر کا جائزہ لینا میرا منصب نہیں، وہ بڑی قدآور شخصیت ہیں، البتہ اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ عالی جی نے بہت سی اصناف میں اپنے تخلیقی جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی نعتوں میں تعشق، غزلوں میں تغزل، نظموں میں ترفع، فکر میں تعمق اور مضامین میں تنوع اور تلون دامن دل و نگاہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

جلیل عالی (تمغۂ امتیاز)
(شاعر، نقاد، ایجوکیشنسٹ، سوشیالوجسٹ، اقبال شناس)
( کوائف)
پورا نام۔ محمد جلیل عالی ؛ پیدائش۔ 12 مئی 1945 (ویروکے ) امرتسر، بھارت
تعلیم۔ ایم۔ اے اردو 1967، ایم۔ اے سوشیالوجی 1969 پنجاب یونیورسٹی لاہور
پیشہ۔ تدریس۔ ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ 1970 سے 1978 تک
ایف جی سر سید ڈگری کالج مال روڈ راولپنڈی 1979 تا 2002
ریٹائرمنٹ۔ 2002 بطور صدر شعبہ اردو ایف۔ جی سر سید کالج مال روڈ راولپنڈی
اضافی سرکاری خدمات۔
• رکن گورننگ باڈی اقبال اکادمی پاکستان
• رکن مجلس عاملہ اقبال اکادمی پاکستان
* رکن اشاعتی کمیٹی اکادمی ادبیات پاکستان
* رکن فروغ پیام اقبال کمیٹی اقبال اکادمی پاکستان
* سابق رکن بورڈ آف سٹڈیز شعبۂ اردو پنجاب یونیورسٹی لاہور
* سابق رکن کورس کمیٹی شعبۂ اردو فیڈرل انٹرمیڈیٹ بورڈ اسلام آباد
* رکن مجلس زبان دفتری ضلع راولپنڈی
* رکن رائٹرز ویلفئیر کمیٹی راولپنڈی پنجاب گورنمنٹ
(5) مدیر ”محور“ میگزین پنجاب یونیورسٹی لاہور ( 1968 تا 1969 )
مدیر ”شفق“ ایم اے او کالج لاہور میگزین 1964 تا 1965
تصانیف و تالیفات۔
* خواب دریچہ ( شعری مجموعہ) 1984
* شوق ستارہ ( شعری مجموعہ) 1998

* عرض ہنر سے آگے ( شعری مجموعہ) 2007 (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ 2007 ) ، (رائٹرز گلڈ ایوارڈ 2005 تا 2007 کا بہترین شعری مجموعہ)

* لفظ مختصر سے مرے ( انتخاب کلام جلیل عالی از خاور اعجاز 2016 )
* نور نہایا رستہ ( مجموعۂ نعت) دسمبر 2018 (اول سیرت انعام ہجری 1440 )
* شعری دانش کی دھن میں (تنقیدی مضامین) نومبر 2021
* پاکستانی ادب (شعری انتخاب برائے اکادمی ادبیات پاکستان) 2002
* پاکستانی ادب (شعری انتخاب برائے اکادمی ادبیات پاکستان) 2005
زیر ترتیب و اشاعت کتابیں۔
• قلبیہ (اردو نظمیں )
* ایک لہر ایسی بھی ( اردو غزلیں )
* عشق دے ہور حساب (پنجابی شعری مجموعہ )
تحسین و انتقاد۔

* جلیل عالی کی شاعری کا فکری و فنی مطالعہ ( مقالہ برائے ایم۔ فل از اشفاق احمد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ) اگست 2012

* جلیل عالی، شخصیت اور غزل، خواب دریچہ اور شوق ستارہ کے حوالے سے (مقالہ برائے ایم۔ اے اردو از عبدالقدوس نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز) 2001

* جلیل عالی کی نعت نگاری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ( مقالہ برائے ایم۔ اے اردو از صدف شفیق۔ شعبۂ اردو ادبیات یونیورسٹی آف ایجوکیشن فیصل آباد کیمپس) 2016

* جلیل عالی کی تنقید نگاری مقالہ برائے ایم فل از سائرہ بی بی مانسہرہ یونیورسٹی

* جلیل عالی کی شاعری میں نعتیہ عناصر مقالہ برائے ایم فل از نائلہ جیلانی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی (زیر تکمیل)

* جلیل عالی کی شخصیت و فن پر ماہنامہ ”بیاض“ لاہور کا خصوصی شمارہ اپریل 2001
* جلیل عالی کی شاعری پر خصوصی گوشہ ماہنامہ ”نیرنگ خیال“ راولپنڈی سالنامہ 2009
* جلیل عالی کے فکر و فن پر خصوصی حصہ ماہنامہ ”سیارہ“ لاہور 2010
* مؤقر ادبی جریدوں میں جلیل عالی کے فن پر 175 سے زیادہ تنقیدی مضامین شائع ہو چکے ہیں
اعزازات۔
ایوارڈ برائے حسن کارکردگی (بہ سلسلہ اقبال میلہ لاہور 9 نومبر تا 17 نومبر 2019 )
سیرت ایوارڈ اول برائے نعت ”نور نہایا رستہ“ سن ہجری 1440
* صدارتی تمغۂ امتیاز (شاعری) 2016
* ”بیاض“ خالد احمد لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2018
* ”اشارہ انٹرنیشنل“ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2019
• ایکسیلینس ایوارڈ برائے ادب عالمی اکادمی ادبیات یو ایس اے 2017
• غزل کا بہترین شاعر بہ مطابق سروے امیریکن اردو سرکل 2016
* احمد ندیم قاسمی ادبی ایوارڈ (شاعری) 2007 برائے ”عرض ہنر سے آگے“
* رائٹرز گلڈ ادبی ایوارڈ (شاعری) 2005 تا 2007 برائے ”عرض ہنر سے آگے“ ۔
* تخلیقی تسلسل ایوارڈ ( نظم) 2007 از ماہنامہ ”بیاض“ لاہور
* میاں محمد ادبی ایوارڈ (شاعری) 2005
* لائف ٹائم اچیومنٹ ادبی ایوارڈ سخن ساز راولپنڈی 2019
* وثیقۂ اعتراف برائے ادبی خدمات (شاعری ) از انجمن نوائے ادب راولپنڈی
* رکن مجلس عاملہ حلقۂ ارباب ذوق اسلام آباد۔
* سابق رکن مجلس عاملہ حلقۂ ارباب ذوق راولپنڈی۔
* جلیل عالی کے پچیس کے قریب انٹرویو مختلف اخبارات اور ادبی پرچوں میں شائع ہو چکے ہیں
* جلیل عالی کے کئی سمعی و بصری انٹرویو یو ٹیوب پر موجود ہیں

* جلیل عالی کا کلام گانے والے ؛ استاد حامد علی خان، استاد حسین بخش گلو، استاد ذاکر حسین، استاد محمد صدیق، استاد فیاض اور گلوکار خلیل حیدر

دیگر مصروفیات۔

مطالعۂ کتب، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لیکچر دینا، ادبی تنظیموں کی تقریبات، ریڈیو اور مختلف ٹیلی ویژن چینلوں کے ادبی، تہذیبی، سماجی اور فکری مذاکروں میں شرکت کرنا

فون 0515590052، 03005240087
ای میلjalilaali@gmail۔ com
پتہ۔ مکان 455 سٹریٹ 16 چکلالہ سکیم 3 راولپنڈی، پاکستان
نعت۔ ختم المرسلین سردار الانبیا ٔ حضرت محمد مصطفی ﷺ
.
صدیوں کے فاصلوں پہ بھی کون بھلا سکا تجھے

تڑپے ترے لئے حرا یاد کرے منٰی تجھے
عقدہ کشان دہر کی حد سے بڑھے جو بے بسی
بہر جواب آخری کرتے ہیں رہنما تجھے
ارض و سم

ا میں کون ہے جو تری ہمسری کرے
عظمت کبریا کے بعد سب نے کہا بڑا تجھے
اپنی مصیبتوں میں بھی تیری وہ درد مندیاں
آئے جب ابتلا کوئی دیتے ہیں دل صدا تجھے
تیرا خلوص با وضو روح عبادتوں کی تو
آیتیں خود پڑھیں تجھے سجدے کریں ادا تجھے

منصب خاص کے لئے وصف وہ پاس تھے ترے
رنج ہوئے رجا تجھے درد ہوئے دوا تجھے
عزم عظیم تر ترا ایسا اثر نواز تھا
جیش عدو بکھر گیا مل گئے ہمنوا تجھے
دونوں جہاں ملے اسے تیری ولا جو جی گیا
اپنی نظر سے بھی گیا جس نے بھلا دیا تجھے
اتنا کسے لکھا گیا اتنا کسے پڑھا گیا
جتنا لکھا گیا تجھے جتنا پڑھا گیا تجھے

Facebook Comments HS