قائد ہاؤس، ملک ریاض اور حالیہ فسادات


لاہور کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ ہوا۔ گھر کے اندر مشتعل لوگوں کے جتھے نے توڑ پھوڑ کی۔ شیشے توڑے گئے، دروازے توڑے گئے، آگ لگائی گئی، گویا کہ ہر طرح سے کور کمانڈر ہاؤس کو یرغمال بنایا گیا۔ پر کوئی ان لوگوں کو بتانے والا نہیں تھا کہ یہ گھر ہمارے ملک کے بانی و قائد محمد علی جناحؒ کی ملکیت ہے اور اس گھر کا نام قائد ہاؤس ہے۔ یہ وہی گھر تھا جہاں قائد اعظم اور نہرو کی تاریخی میٹنگز ہوئی ہیں۔ یہ گھر اپنی ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ تو ایک واقعہ ہوا، اسی طرح ریڈیو پاکستان کو لگائی گئی آگ ہو یا ایم ایم عالم کے جہاز کے ماڈل کو لگائی گئی آگ ہو۔ یہ سب ریاستی علامتیں تھیں۔ ان کا فوج سے تعلق کم اور ریاست سے تعلق زیادہ تھا۔ یہاں یہ سوال اٹھانا بے جا نہ ہو گا کہ آیا جتھوں کا ٹکراؤ ریاست سے ہے؟ فوج سے ہے؟ یا اسٹیبلیشمنٹ سے ہے؟ اور یہ تینوں بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ کی نفرت فوج مخالف بیانیے کو پروان چڑھا رہی ہے اور فوج مخالف بیانیہ، ریاست مخالف جرائم سرزد کروا رہا ہے؟

زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جب قائد ہاؤس میں تھوڑ پھوڑ کی جا رہی تھی اس کے بالکل سامنے، سڑک کے پار ایک بلند و بالا پلازہ کھڑا تھا۔ اس پلازے کا نہ کوئی شیشہ ٹوٹا، نہ کوئی دروازہ ٹوٹا اور نہ ہی آگ لگی۔ اس پلازے کے مالک کا نام ”ملک ریاض حسین“ ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جن نے لندن عدالت کے ساتھ 192 ملین پاؤنڈ کی off court settlement کی اور وہ پیسہ برطانوی حکومت نے پاکستان کو بھیج دیا۔ پاکستان کی اس وقت کی حکومت نے گھما پھرا کر انھیں وہ رقم واپس کر دی۔ جس کے بدلے میں ملک ریاض حسین صاحب نے 440 کنال اراضی القادر ٹرسٹ اور 240 کنال اراضی اس وقت کی خاتون اول محترمہ بشری بی بی کی فرنٹ ویمن فرح گوگی صاحبہ کے نام منتقل کی۔ اسی مقدمے کا نام ”القادر ٹرسٹ کیس“ ہے۔ جس میں خان صاحب کو گرفتار کیا گیا۔ اس کیس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے ابھی تک کی صورتحال یہ ہے کہ قائد ہاؤس تہس نہس ہو چکا اور ملک ریاض حسین صاحب کے پلازے کو ایک آنچ بھی نہیں آئی۔ اے روح قائد ہم شرمندہ ہیں۔

موجودہ فسادات میں ایک چیز جو نہایت ابھر کر سامنے آئی وہ ریاست کی جتھوں کے سامنے بے بسی تھی۔ شہباز شریف حکومت کسی اور محاذ پر پرفارم کر پائی ہو یا نہ کر پائی ہو مگر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اگر بات ریاست کی رٹ پر آئی تو یہ بظاہر کمزور حکومت بھی ہر حد تک جائے گی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں ہونے دے گی۔ آخر یہ بت بھی ٹوٹا خدا خدا کر کے، اور اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ شہباز حکومت کی جیسی کارکردگی دوسرے محاذوں پر رہی ہے، ویسی ہی کارکردگی اس محاذ پر بھی دیکھی گئی ہے۔

اب بات کریں جتھوں کی تو دیکھنا یہ ہے کہ جیسے محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت کے بعد جتھوں کو آصف علی زرداری صاحب نے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ دیا تھا۔ اور پاکستان کو ایک بڑی تباہی سے بچایا تھا کیا اب پی ٹی آئی بھی اسی طرح سے حالات کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے گی۔ یا پاکستان کسی بڑی تباہی کی طرف چلا جائے گا۔ میرے منہ میں خاک۔ اللہ پاک پاکستان کی حفاظت کرے۔

اسے نابالغ سیاست کہیں یا سنجیدگی کی کمی کہیں یا سیاسی فہم کی کمی کہیں، یا عمران خان کا cult کہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ چاہے ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت ہو، یا نواز شریف کی نا اہلی ہو، یا ولی خان کی لیاقت باغ سے اٹھائی گئیں لاشیں ہوں۔ پی ٹی آئی سے پہلے کس پارٹی نے جتھے بنا کر ریاستی اختیار کو چیلینج نہیں کیا۔ اور نہ ہی ریاستی علامات پر کبھی حملہ آور ہوئے۔ پر پھر وہی سوال ذہن میں جنبش لیتا ہے کہ آخر ہمیشہ سیاست دان کی قربانیوں کی اور احتساب کی سولی کیوں چڑھیں؟

کیا اس عدالت کے جج سے سوال نہیں کیا جانا چاہے کہ ”القادر ٹرسٹ“ کے 192 ملین پاؤنڈز جو کہ اس قوم کا پیسہ تھا۔ ملک ریاض حسین کو کیوں دیا گیا اور کس آئین کے مطابق دیا گیا؟ کیا ہمارے ملک میں بیوروکریٹس سے بھی کبھی سوال پوچھا جائے گا؟ کیا کبھی سرکاری اہلکار بھی پبلک کو جواب دہ ہوں گے؟ کیا پبلک کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لینے والے پبلک سے اوپر ہیں؟ سوال ہزاروں، جواب کوئی نہیں۔ جواب دینے والا کوئی نہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “قائد ہاؤس، ملک ریاض اور حالیہ فسادات

  • 14/05/2023 at 4:11 شام
    Permalink

    Keep it up

Comments are closed.