کیا پاکستان میں انقلاب آنے والا ہے؟

اس طرح عمران خان ”حراست“ میں لیے جانا غیر آئینی تھا۔ بالکل کسی بھی سیاسی لیڈر کے سپورٹرز کا نکلنا بنتا بھی ہے۔ ملک کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار رسائی سے دور مضبوط اداروں کو یوں ٹارگٹ کیے جانا حیران کن بھی ہے لیکن اس سلسلے کو کسی بڑے مثبت انقلاب سے جوڑ دینا شاید درست نہیں۔ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بہت سے لوگ اس مزاحمت کو اٹھارہویں صدی میں آنے والی French Revolution سے جوڑ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ساری کارروائیاں اس انقلاب سے بالکل مختلف ہیں۔
فرینچ ریوولوشن نے نہ صرف فرانس کا سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ بدل کر رکھ دیا تھا بلکہ پوری دنیا میں اس کے آزادی، برابری اور اخوت کے نعرے گونجنے لگے تھے۔ اس انقلاب سے پہلے فرانس میں بادشاہت کا نظام رائج تھا اور عموماً تین طرح کے طبقات تھے۔ پہلا طبقہ بادشاہ اور امیر وزراء وغیرہ کا تھا، دوسرا طبقہ clergy یعنی چرچ اور مذہب سے وابستہ لوگوں کا جبکہ تیسرا طبقہ محنت کشوں کا تھا۔ محنت کشوں کی تنخواہوں کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ ٹیکس کی ادائیگی میں چلا جاتا۔
امراء اور clergy کا بڑا حصہ ٹیکس دینے سے آزاد تھا اور عام لوگوں کے ٹیکس پر ان کی بھرپور عیاشی تھی۔ اس وقت کے فرانسیسی بادشاہ کے Palace of Versailles میں 16000 سے زائد ذاتی خدمت کار تھے۔ وہیں عوام پس رہی تھی۔ اتنا ٹیکس دینے کے باوجود نہ مناسب خوراک تک رسائی اور نہ ہی مطمئن طرز زندگی۔ قوانین بالکل بھی عوام کے حقوق و فرائض کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائے جاتے تھے بلکہ بادشاہ اور امراء اپنے مفاد کے حساب سے قوانین میں رد و بدل کرتے رہتے۔
سزا و جزا کا تعین بادشاہ کے موڈ اور مفادات کی بناء پر ہوتا۔ ایسے میں فرانس میں ایک شدید قحط آ گیا۔ بدترین حالات اب ناقابل برداشت ہو گئے تھے۔ کئی مفکرین بالخصوص Voltaire اور Rousseau جیسے دانشوروں نے لوگوں میں اس استحصال سے اٹے ہوئے نظام کے خلاف کھڑے ہونے کی تحریک پیدا کی۔ انھوں نے لوگوں کو بادشاہ، امراء اور چرچ کے مل کر عام لوگوں کے استحصال کرنے سے آگاہ کیا۔ سماج میں گھٹن اس قدر بڑھ چکی تھی کہ آزادی، برابری اور اخوت کے یہ نعرے جنگل میں آگ کی طرح پھیلے پھر 1789 میں فرانس میں انقلاب آ گیا جس نے جابرانہ طرز حکومت کو بدل کر رکھ دیا اور Modern Democracy کو زبان زد عام کیا۔ اس انقلاب نے پوری دنیا میں اپنے اثرات دکھائے۔
اگر پاکستان کی بات کریں تو :
کیا ہمارے ہاں elites کی مختصر سی تعداد قابض نہیں؟
کیا ہمارے ہاں طاقت اور پیسے کی بنا پر شہریوں کی مختلف سطحیں نہیں؟
کیا ہمارے تمام شہری برابر ہیں؟
کیا ہم لوگ ہر چیز پر ٹیکس نہیں بھرتے؟
کیا ہمیں جانی و مالی تحفظ حاصل ہے؟
یقیناً فرانس کے تاریک دور اور پاکستان کے موجودہ دور میں بہت سی ایک جیسی باتیں ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی غیر آئینی حرکت کے جواب میں پیدا ہونے والی ’chaos‘ کو ’revolution‘ کا درجہ دے دیں۔ پھر جذبات میں اتنے بہہ جائیں کہ French Revolution ہی بنا چھوڑیں۔ انقلاب کے لیے آگہی اور شعور لازم ہیں۔ صرف جذبات نہیں۔ جو پارٹی آج کل انقلاب انقلاب کرتی پھر رہی ہے ماضی کے تمام چوروں اور لٹیروں، ماضی کے مہر لگے ہوئے corrupt elites کا سہارا لے کر اس کرپٹ نظام میں بطور کامیاب سیاسی پارٹی اپنی جگہ بنا پائی ہے۔
تمام سیاسی لیڈروں کی تقریریں ایک دوسرے کو چور قرار دینے اور ذاتی زندگیوں پر حملے کرنے پر مشتمل ہیں۔ کسی کے پاس بہتری کا کوئی ایجنڈا نہیں۔ اگر کوئی انقلاب کا چورن بیچ رہا ہے تو اس میں کچھ بھی پریکٹیکل نہیں۔ دوبارہ سے بڑے بڑے دعوے ہیں۔ تمام سیاسی لیڈر عوام کا استعمال کرتے ہوئے اسی سیاسی ڈھانچے میں رہتے ہوئے طاقت کا حصول چاہتے ہیں۔ انھیں سیاسی ڈھانچہ بدلنے سے کوئی غرض نہیں کیونکہ پھر طاقت اتنی absolute نہیں رہے گی۔ تقسیم ہو جائے گی۔ اور وہ کسی بھی صورت ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
آپ انقلاب اگر سچ میں چاہتے ہیں تو پہلے یہ سمجھیں کہ انقلاب ہے کیا!
یہ جذباتی ہو کر توڑ پھوڑ کرنے سے بہت آگے کی چیز ہے۔ اس کا تعلق جذبات سے بعد میں اور ’آگہی‘ سے پہلے ہے!

