ضمانتیں، خوشیاں اور سادہ عوام
اختلاف نا صرف جمہوریت کا حسن ہے بلکہ عمومی طور پر معاشرے میں بھی اگر اختلاف رائے کو حقیقی معنوں میں اس کی اصل روح کے مطابق دیکھا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے کو تبدیلی کی راہ پہ گامزن کر سکتا ہے۔ لیکن بے فکر رہیں، کہ وطن عزیز میں ابھی دور دور تک عمرانیات، لسانیات اور اخلاقیات کا کوئی پہلو ایسا نہیں کہ جس کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہوں کہ پاکستان میں بھی اختلاف رائے یا تنقید کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ معاشرہ مثبت انداز میں پروان چڑھ رہا ہے یا کم از کم اشاریے ہی مثبت ہیں کہ بہت جلد معاشرہ تبدیلی مثبت انداز میں اپنا لے گا۔
اس کے برعکس پاکستان میں اختلاف کو ذاتیات کے بخیے ادھیڑنے سے تعبیر کر لیا گیا ہے اور تنقید کو تمسخر کا رنگ دے دیا گیا ہے۔ ماہر عمرانیات بے بس ہو چکے ہیں کہ ہم کسی بھی طرح سے اس رجحان کو نا تو تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں اور نا ہی تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تبدیلی تو آتی ہی اس لمحہ ہے جب پہلا زینہ آپ کامیابی سے طے کرتے ہیں اور پہلا زینہ ہی خواہش ہے۔ خواہش کسی بھی رویے کو پروان چڑھانے کا پہلا قدم ہوتی ہے۔ اور ہم میں بطور قوم مجموعی طور پر کسی بھی رویے کی تبدیلی کے حوالے سے خواہش ہی دم توڑ چکی ہے۔
اللہ جنت میں جگہ عنائیت فرمائے ہمارے بزرگوں کو کہ کہا کرتے تھے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ کسی علاقے میں کوئی جرم ہو جاتا تو لوگوں کی گھگھی بندھ جاتی تھی کہ برسوں بعد پولیس یا کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کسی فرد کو دیکھا جاتا تھا۔ لیکن اب دور مختلف ہو گیا ہے اور اس مثبت روش کو چھوڑ کو ہمارا معاشرہ منفی رجحانات اپناتے ہوئے اس قدر پستی کی طرف جا رہا ہے کہ اب تو پڑوس میں قتل بھی ہو جائے تو ہم بے حس ہو کر گھر میں سو جاتے ہیں کہ جنازے کے وقت اٹھ جائیں گے۔ نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ جب بھی آسمان پہ سرخی چھا جاتی تھی تو سیانے کہتے کہ کسی جگہ پہ ناحق قتل ہوا ہے اسی لیے آسمان بھی سرخ ہو گیا ہے۔ اور اب حال یہ ہے کہ ہم وطن عزیز میں پانچ دس لوگ قتل ہونے کو اب خبر بھی نہیں اپناتے۔
قانون، انصاف، مالیات، کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں رہا کہ جس کے حوالے سے عوام کہہ سکیں کہ اعتبار باقی ہے۔ مالیاتی لحاظ سے رج کے لوٹا گیا اور سفر ابھی جاری ہے۔ قانون و انصاف کے حوالے سے جو دھماچوکڑی پچھلے پانچ دن وطن عزیز میں جاری رہی اس نے عام آدمی کو مزید پریشان کر دیا ہے کہ جہاں ایک طرف وہ دیکھتا ہے کہ برسوں دھکے کھانے کے بعد قبر کا رخ مظلوم کر رہے ہیں اور دوسری جانب ایک سو بیس کی سپیڈ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں پہ نا تنقید کو حوصلہ ہے نا راقم الحروف کی اتنی جرات کہ سوال اٹھا سکے۔
سوال تو صرف نظام پہ اٹھایا جانا مقصود ہے۔ جب ہم نے جرم کو جرم سمجھنا ہی چھوڑ دیا تو پھر سو سے زیادہ ضمانتوں پہ یقینی طور پر خوشیاں منانا بھی واجب ہے اور مٹھائیاں تقسیم کرنا اوجب۔ لیکن اس پوری مشق ستم کے نقصانات یہ ہو رہے کہ ہمارا معاشرہ تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ شیر کی دھاڑ اور تیر کی کاٹ سے عوام بیزار ہوئے تو سوچا کہ چلو تبدیلی کی لہر ہی ہماری زندگیوں میں تبدیلی لے آئے گی۔ لیکن وہی ڈھاک کے تین پات کہ انصاف کے نام پہ قائم ہونے والی عمارت بھی صرف اپنے مفادات کی چھت تلے بے بس ہے۔ یہ کوئی دعویٰ نہیں لیکن ایک مشاہدہ ضرور ہے پیش آنے والے واقعات کا، تجزیہ ضرور ہے سامنے آنے والے واقعات کا کہ جتنا نقصان اخلاقی اور سماجی لحاظ سے معاشرے کو پرانے پچھلوں نے دیا تھا، تبدیلی سرکار اس سے کئی گنا زیادہ نقصان پہنچانے کی راہ پہ ہے۔ اس کی سچائی اور جھوٹ کا علم ہمیں چند سال بعد ہو گا۔
جس معاشرے میں اشرافیہ قانون و انصاف کو گھر کی باندی بنا لیں، اپنے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیں وہاں مثبت رویے پروان چڑھنا رک جاتے ہیں۔ جہاں غلطیاں مان کر آگے کا سفر طے کرنے کی روش دم توڑ چکی ہو وہاں ایسا جمود طاری ہو جاتا ہے کہ معاشرتی تعمیر کے بجائے ریخت کا سفر شروع کر دیتا ہے۔ اور جہاں انصاف کا ترازو امیر کے لیے جھکنا اور غریب کے لیے بلند ہونا شروع ہو جائے وہاں اعتبار اور بھروسا دم توڑ دیتے ہیں۔ اور خوف تو دل میں اس وقت کا سراسیمگی سی پیدا کر دیتا ہے کہ جب انصاف چھین کر لینا عام ہو جائے، مظلوم کا ہاتھ اشرافیہ کے گریباں تک پہنچ جائے اور انصاف سڑکوں پہ ہونا شروع ہو جائے۔
عوام الناس انتہائی سادہ ہیں کہ وہ اشرافیہ کی انصاف کی راہداریوں اور پارلیمان کے بند کمروں میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کا عہد کر رہے ہوتے ہیں تو یہ ان کے لیے مرنے مٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن دعا ہے کہ یہ سادگی جلد اس نہج پہ پہنچے کہ عوام بند گلی سے واپس پلٹ کر ایسا گریباں تھامیں کہ خود ساختہ وقار اور دکھاوے کی عزت کا بت پاش پاش ہو جائے۔


