جناح ہاؤس لاہور۔ کیا واقعی کوئی جناح ہاؤس لاہور میں بھی تھا؟
حالیہ ہنگاموں میں جہاں بہت سے دیگر واقعات بھی ہوئے وہیں اہلِ پاکستان کو یہ بھی علم ہوا کہ لاہور میں بھی ایک عدد جناح ہاؤس ہے۔ جسے حالیہ ہنگاموں میں نذرِ آتش کر دیا گیا۔ دردِ دل رکھنے والے پاکستانیوں کے لئے یہ ایک افسوسناک خبر تھی جس پر افسوس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی کیا گیا کہ آخر یہ جناح ہاؤس کہاں واقعہ تھا اور کس کے قبضے میں تھا جب اس کو آگ لگائی گئی۔ جب میں نے یہ جناح ہاؤس لاہور کے بارے میں پڑھا تو مجھے محترمی عقیل عباس جعفری صاحب کی ایک دس سالہ پرانی پوسٹ یاد آئی جس میں انہوں نے ایک کتاب کے چند صفحات پوسٹ کیے تھے جن میں قائد اعظم محمد علی جناح کا لاہور میں ایک رہائش گاہ خریدنے اور اس کے بعد کے حالات و واقعات کا تذکرہ تھا۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہے
قائد اعظم تحریک پاکستان کے سلسلے میں ہندوستان میں سفر کرتے رہتے تھے وہ ممبئی اور دہلی میں اپنی ذاتی رہائش گاہیں خرید چکے تھے اور اب لاہور میں بھی اپنے لئے ایک رہائش گاہ خریدنا چاہتے تھے۔ مسلم لیگ بلوچستان کے صدر قاضی محمد عیسیٰ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ قائد اعظم بلوچستان آئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے قاضی صاحب کو ایک بلینک چیک دیا اور کہا کہ لاہور میں ایک بنگلہ نما مکان فروخت کے لئے موجود ہے وہ لاہور جائیں اور اگر انہیں بنگلہ پسند آ جائے تو خرید لیں۔ چنانچہ قاضی صاحب جولائی 1943 ء میں لاہور گئے، مکان دیکھا، پسند کیا اور خرید لیا۔ اگرچہ قاضی صاحب نے قیمت خرید نہیں لکھی لیکن آرمی انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ بنگلہ ایک لاکھ باسٹھ ہزار پانچ سو روپے میں خریدا گیا۔ بنگلے کا کُل رقبہ 4.68 ایکڑ یعنی تقریباً 37 کنال تھا۔ یہ بنگلہ لاہور کے کینٹ ایریا میں تھا اور آج کی عزیز بھٹی روڈ پر واقع تھا۔ اس کا نمبر 53 بتایا گیا ہے۔
بنگلے کی خرید کے بعد ایک دلچسپ و عبرتناک داستان شروع ہوتی ہے۔ پہلے ہندوستان اور پھر پاکستان کی بیوروکریسی نے اس بنگلے کو کبھی قائد اعظم کے قبضہ میں نہیں جانے دیا۔ اور قائد اعظم جیسے عظیم لیڈر کو ریڈ ٹیپ ازم کے گھیرے میں ڈال دیا جس سے وہ کبھی نہ نکل پائے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے خرید کردہ بنگلے کو حاصل کرنے کی بہت کوشش کی، دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلے پر جتنے بھی حکومتی ٹیکسز واجب الادا تھے ان کے نوٹسز قائد اعظم کے نام ہی جاری کیے جاتے تھے۔ مگر جب قبضہ دینے کا مطالبہ کیا جاتا تو ٹال مٹول شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہم بیوروکریسی کی چالوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہی بیوروکریسی آج 75 سال گزرنے کے بعد بھی وہی چالیں چلتی دکھائی دیتی ہے۔ اب ہم تھوڑا آگے بڑھتے ہوئے جائزہ لیتے ہیں کہ اس بنگلے کے ساتھ کیا ہوا۔ قائد اعظم نے اس بنگلے کی رجسٹری جولائی 1943 ء میں اپنے نام کرائی۔ اس کی تزئین و آرائش کا پلان بنایا جا رہا تھا کہ اسی دوران جنوری 1944 ء میں اس وقت کی پنجاب حکومت نے یہ بنگلہ ڈیفنس آف انڈیا رولز کی دفعہ 575 کے تحت اپنے قبضہ میں لے لیا۔ دو مارچ 1943 ء کو لاہور کینٹ کے ایک ایگزیکٹو افسر نے جائیداد کے اندراج کے لئے اصل رجسٹری فراہم کرنے کے لئے قائد اعظم کو ایک نوٹس جاری کیا۔ جس کے جواب میں قائد اعظم نے لکھا کہ جائیداد کا اندراج رجسٹرار آفس میں موجود ہے جہاں سے ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد جولائی 1943 ء میں ایک اور نوٹس جاری کیا گیا جس میں بنگلے پر ٹیکس میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا تھا۔
قائد اعظم نے بنگلے کا قبضہ چھڑوانے کے لئے لاہور کے متعدد مسلم لیگی رہنماؤں کو خط لکھے جن میں نواب افتخار حسین ممدوٹ، میاں بشیر احمد، ملک برکت علی، اور مولوی غلام محی الدین ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ بیوروکریسی نے ان رہنماؤں کو مختلف مسائل میں الجھائے رکھا۔ اس سلسلے میں ایک سب سے دلچسپ خط کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا جو لاہور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے قائد اعظم کو 12 مئی 1945 ء میں تحریر کیا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ان کے بنگلے کا قبضہ واگزار کرانے کے لئے 7 اگست 1945 ء کو ڈسٹرکٹ سیشن جج مسٹر جی ڈی کھوسلہ کو ثالث مقرر کیا گیا تھا۔ مگر وہ دو ستمبر سے دس اکتوبر تک رخصت پر چلے گئے ہیں اور اس کے بعد وہ یکم نومبر کو ترقی پا کر لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج چارج سنبھالیں گے۔ یعنی اب کوئی نیا ثالث مقرر کیا جائے گا۔
تیرہ جنوری 1947 ء کو آر آئی ای گیریژن انجینئر لاہور کی جانب سے انہیں ایک خط موصول ہوا جس میں انہیں بتایا گیا کہ لاہور چھاؤنی میں رہائش گاہوں کی کمی ہے۔ ان کا بنگلہ نمبر 53 بطور میس استعمال کیا جا رہا ہے چونکہ لاہور کینٹ میں کوئی دیگر جگہ برائے میس دستیاب نہیں ہے اس لئے فی الحال انہیں بنگلے کا قبضہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس خط کے جواب میں قائد اعظم نے اپنے بنگلے کو بطور طعام گاہ استعمال کرنے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ آپ من مانی کرتے ہوئے میری جائیداد پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ میں آپ کو اپنا بنگلہ مزید استعمال کے لئے نہیں دے سکتا۔ چھاؤنی میں بے شمار جگہیں موجود ہیں آپ کوئی اور جگہ تلاش کر لیں۔
پانچ فروری 1947 ء کو گیریژن کمانڈر لاہور کینٹ نے قائد اعظم کو ایک خط میں حتمی طور پر بتا دیا کہ ان کا بنگلہ فوج نے استعمال کی خاطر اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔ اگرچہ قائد نے اس کے جواب میں دلائل کے ساتھ ان کے دعوے کو رد کیا لیکن ان دونوں تحریک پاکستان زوروں پر تھی، قائد اس پر مزید کوئی پیش رفت نہ کرسکے۔ اسی دوران اپریل 47 ء سے مئی 47 ء کے دوران کئی خطوط کا تبادلہ ہوا جس میں فوجی افسران نے اپنا موقف واضح کیا کہ کینٹ ایریا میں کوئی سویلین رہائش نہیں رکھ سکتا، ان کی دلیل بہت دلچسپ تھی کہ شہری کینٹ ایریا میں اپنی جائیداد تو خرید سکتے ہیں، چاہیں تو کرائے پر بھی دے سکتے ہیں مگر وہ خود اس جائیداد میں رہائش پذیر نہیں ہو سکتے۔ اسی دوران جولائی 1947 ء میں ایگزیکٹو افسر لاہور کینٹ نے قائد اعظم کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے بنگلے کے کُل کرائے 8400 روپے پر ٹیکس لاگو کرنے کا نوٹس جاری کیا۔ جس پر قائد اعظم نے جوابی خط لکھا کہ بنگلے پر تعمیر و مرمت کے اخراجات کے بعد ان کے پاس کُل 3600 روپے بچتے ہیں لہٰذا اسی رقم کے مطابق ٹیکس لگایا جائے۔ لیکن ایگزیکٹو افسر نے آپ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کُل رقم 8400 پر ٹیکس وصول کرنے کا حکم دیا۔
تقسیم ہند کا وقت قریب آ رہا تھا۔ اس وقت تک سب جان چکے تھے کہ نئے ملک پاکستان کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح ہوں گے۔ قائد اعظم نے سر مراتب علی شاہ کے ذمے لگایا کہ وہ بنگلے کو فوج سے واگزار کروائیں۔ سر مراتب علی شاہ نے اپنے بیٹے واجد علی شاہ کے ہمراہ فوج کے ساتھ رابطے شروع کر دیے۔ جس کے نتیجے میں چار جولائی 1947 ء کو طے پایا کہ فوج یکم اگست 1947 ء کو بنگلہ خالی کر دے گی۔
اب یہاں سے ایک اور دلچسپ کہانی شروع ہوتی ہے۔ 9 اگست 1947 ء کو فوج کے ایک کرنل آر اے ہارس نے مختلف افسران اور واجد علی شاہ کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس میں یہ معاملہ زیر غور آیا کہ بنگلے میں بجلی کی فٹنگ کس طرح کی ہونی چاہیے اور جناح کس قسم کی فٹنگ قبول کر لیں گے (دلچسپ) ۔ طے کیا گیا کہ 31 اگست سے پہلے پہلے بنگلے کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل کر لیا جائے۔ 14 اگست کو پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ 21 اگست کو ایک اور میٹنگ ہوئی جس میں طے پایا کہ جب تک بنگلہ فوج اپنے پاس رکھے گی، کرایہ ادا کرے گی۔ تصفیہ طلب معاملات جی ایچ کیو کو بھیجے جائیں گے (گئی بھینس پانی میں )۔ جی ایچ کیو نے بنگلہ قائد اعظم کو دینے کا فیصلہ کیا اور تعمیر و مرمت کا کام شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ مگر یہ بھی کہا کہ چونکہ حالات درست نہیں، مزدور دستیاب نہیں، بجلی کی فٹنگ کے لئے ماہرین نہیں مل رہے۔ بنگلہ کی تزئین و آرائش کے لئے ہنرمند نہیں ہیں اس لئے 30 ستمبر تک بنگلہ قائد اعظم کے حوالے کرنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ اس دوران تنازع کے حل کے لئے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔ ب
جلی کی فٹنگ کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث لایا گیا، واجد علی شاہ نے بتایا کہ وہ خود سے کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں اور اس معاملے میں قائد اعظم کی رائے لی جائے گی۔ اس دوران قائد اعظم بیمار ہو گئے پہلے ملیر کینٹ اور زیارت لے جائے گئے اور گیارہ ستمبر کو انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے بنگلے کے حصول کے لئے کوشش جاری رکھی مگر کامیاب نہ پائیں۔ فوج نے طے کیا کہ یہ بنگلہ خرید کر پاک فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔ چنانچہ 21 مارچ 1959 ء کو محترمہ فاطمہ جناح نے معاہدہ پر دستخط کر دیے۔ فوج کی طرف سے ملٹری سٹیٹ افسر ایس کے رضوی نے معاہدہ پر دستخط کیے ۔ اور ساڑھے تین لاکھ روپے کا ایک چیک محترمہ فاطمہ جناح کو پیش کیا گیا مگر انہوں نے یہ چیک قبول نہیں کیا اور کہا کہ چیک قائد اعظم ٹرسٹ کے نام بنایا جائے۔ اس کے بعد یہ بنگلہ فوج کی ملکیت بن گیا۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اگرچہ یہ بنگلہ خرید کیا اور انہیں اس کا کرایہ بھی ملتا رہا مگر انہیں یہاں رہنا نصیب نہیں ہو سکا یہ ایک المیہ ہی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی لاہور میں یادگار کی کوئی تصویر موجود نہیں ہے۔ جناح ہاؤس لاہور کی بحالی اور بطور ایک میوزیم اس کا قیام ایک یادگار مقام بن سکتا ہے جہاں اہل لاہور فخر کے ساتھ بانی پاکستان کی یادگاریں دیکھنے آ سکتے ہیں۔




